اقبال کا نظریہ علم( قسط 1)۔۔پروفیسر وقاص احمد

اس سے پہلے کہ اقبال کا نظریہ علم بیان کیا جائے ۔اقبال کی حیثیت پر مشتمل لوگوں نے بہت کچھ عرض کر رکھا ہے۔مثلاً کوئی کہتا ہے۔۔

اقبال متکلم ہے فلاسفر نہیں۔( اس الزام کے لیے علی عباس جلالپوری کی کتاب ” اقبال کا علم کلام” مطالعہ فرمائیں۔ علی عباس جلالپوری صاحب اقبال کے اس طرح کے اشعار، مصرعہ ایک یہاں درج کیا جاتا ہے۔

tripako tours pakistan

ہے فلسفہ زندگی سے دوری

اقبال کے اس طرح کے اشعار کے مصرعوں سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ فلسفے کے مخالف ہیں۔ اور متکلم محض ہے ۔درحقیقت اقبال کے نظریہ علم کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے وہ اس مغالطے کا شکار ہوئے ہیں۔ )

کوئی کہتا ہے شاعر نہیں ہے( یہ عموماً اس تناظر میں کہا جاتا ہے کہ اقبال عروض کے پیمانوں پر پورا نہیں اترتا .ان کو چاہیے کہ ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کی کتاب” اوزان اقبال” کا مطالعہ فرمائیں)

کوئی کہتا ہے کہ عقل کی مخالفت کرتا ہے ( یہ بھی دیکھا جائے گا کہ وہ فکر / ذہانت کی محض کس سٹیج تک رک جانے اور محض اسی کو علم کا آخر سمجھ لینے والوں کی عقل کی مخالفت کرتا ہے۔ )

یوں اقبال کی اپنی حیثیت لوگوں نے مشکوک بنا رکھی ہے۔جب کہ یاد رہے کہ اقبال ڈاکٹر ہے ۔ڈاکٹر محقق ہوتا ہے اور غیر جانبدار بھی۔ محقق کا تعلق مذہب و غیر مذہب دونوں سے ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجود اپنی تحقیق میں اس کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔ محقق فلسفی کا کام بھی سر انجام دیتا ہے جب وہ سوالات اٹھاتا ہے۔لوگ اسے فلسفی سمجھ لیتے ہیں ۔محقق ناقد بھی ہوتا ہے جب وہ اشیاء کے مثبت و منفی پہلو بیان کرتا ہے ۔لوگ اسے محض ناقد سمجھ لیتے ہیں۔ محقق کبھی کبھی اپنی رائے کا اظہار بھی کرتا ہے یوں اس کی یہ رائے مذہبی عناصر پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے اور لوگ اسے مذہبی سمجھ لیتے ہیں۔محقق اظہار اسلوب کے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے اور لوگ اسے اسلوبی سمجھ لیتے ہیں۔ قصہ مختصر کوئی اسے محض شاعر ،کوئی اسے محض نثر نگار ، کوئی اسے محض منطقی سمجھ لیتا ہے۔۔

محقق پہلے سے مذہبی ہو تو مذہبی محقق ہوتا ہے۔ محقق اگر پہلے سے غیر مذہبی ہو تو وہ غیر مذہبی محقق ہوتا ہے ۔اقبال ایک مذہبی محقق ہے ۔ تحقیق کے تمام ہتھیاروں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ غیر مذہبی بھی یہی کام کرتا ہے ۔مگر اس کے باوجود غیر مذہبی غیر مذہبی محقق ،مذہبی محقق مذہبی محقق رہتا ہے۔۔

یاد رہے میرے نزدیک ان دونوں کے درمیان بھی ایک قسم کا محقق ہے جو مذہبی ، غیر مذہبی ہر قسم کے مواد سے فائدہ اٹھاتا ہے ، اصول بناتا ہے ، نظام علم تشکیل کرتا ہے وغیرہ مگر نہ مذہب نہ غیر مذہب سے تعلق رکھتا ہے ۔میں اس قسم کے محقق کو ہی عرفی نہیں خصوصی قسم کا فلاسفر سمجھتا ہوں۔

بہرحال اقبال مذہبی محقق ہے ۔ مذہبی محقق ہونے کے ناطے وہ مختلف خصوصیات کا حامل ہے لوگ جس خاصیت کو غالب پاتے ہیں اقبال کو وہی گردانتے ہیں۔ مذہبی محقق ہونے کے ناطے کسی نے( ڈاکٹر سید ظفر الحسن) کہا ہے کہ ” خطبات اقبال” جدید علم الکلام ہے ۔ کسی نے (ڈاکٹر خضر یسین) کہا ہے کہ دور جدید کے علم کلام کو نیا رخ دیا ہے۔

بہرحال یاد رہے کہ اقبال مذہبی محقق ہے۔

اب آئیے اقبال کے نظریہ علم کی طرف بڑھتے ہیں ۔

اقبال ایک اصطلاح بہت استعمال کرتے ہیں ۔

Religious experience

اور دوسری

Intuition

اکثر لوگ ان کو الگ سمجھ لیتے ہیں اور پھر تضادات اور غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ سب سے پہلے اپنے ذہن میں بٹھا لیجیے کہ اقبال کے ہاں مندرجہ ذیل الفاظ مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔

Religious Experience = Intuition= Inner’ Experience= Mystic Experience

اس کے بعد ہم ایک لائن ” خطبات اقبال سے پیش کرتے ہیں تاکہ اقبال کا نظریہ علم کھل کر سامنے آ جائے۔ لائن یوں ہے۔

“Intuition , as Bergson rightly says , is only a higher kind of intellect.”

iqbal.The Reconstruction of Religious Thought in Islam. Lahore,pak :Iqbal Academy 2018.p:2( first sermon)

اقبال برگساں کے ساتھ متفق ہے اس بات میں یہی وجہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ برگساں راٹلی کہتا ہے۔

اب اس نکتہ کو ذہن میں بٹھا لیجیے کہ

Intuition is only a higher kind of intellect.

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں فکر / ذہانت (Intellect) کی اور اقسام / حصےبھی ہیں ؟

تو اس کا جواب بہت آسان ہے جی ہاں۔اب وہ حصے کون سے ہیں اور اقبال ان کو کیوں حصے بناتا ہے ۔آئیے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

فکر کی اقسام یا حصے

حواس خمسہ سے حاصل شدہ علم یا فکر= سائنس

عقل سے حاصل شدہ علم یا فکر= فلسفہ

وجدان / مذہبی تجربہ یا مشاہدہ سے حاصل شدہ علم یا فکر = مذہب

حواس کا علم یا فکر+ عقل کا علم یا فکر + وجدان کا علم یا فکر = فکر/ ذہانت ( Intellect)

یاد رہے وہ اشخاص جو فکر کے دوسرے مرحلے پر ہی محض اڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اقبال ایسے عقلمندوں اور ایسے فکر پر مشتمل علم کی مخالفت کرتا ہے۔ مثلا

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

کہیں کہتا ہے

علم میں بھی سرور ہے لیکن

یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

کہیں کہتا ہے

علم نے مجھ سے کہا، عشق ہے دیوانہ پن

عشق نے مجھ سے کہا، علم ہے تحمین و ظن

اس کا ایک مصرعہ دیکھیے

علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہان جواب

بہرحال فلسفہ حاصل کرنے کے لیے مراد عقل سے علم حاصل کرنے کے لیے وہ ڈیکارٹ کی بات ” شک” کا ساتھ دیتا ہے اور افلاطون کی بات” حیرت” کو نظر انداز کرتا ہے۔

مثلا ًکہتا ہے۔

ہمائے علم تا افند بدامت

یقین کم کن، گرفتار شکے باش

عمل خواہی ؟ یقین را پختہ ترکن

یکے جوی و یکے بین ویکے باش

اگر تو چاہتا ہے کہ علم کا ہما تیرے جال میں آ پھنسے تو یقین کم کر ، شک میں گرفتار رہ۔اگر عمل چاہتا ہے تو اپنے یقین کو پختہ کر ۔ایک ڈھونڈ اور ایک دیکھ اور ایک ہو جا۔

پیام مشرق

بہرحال فلسفہ شک پر قائم ہو تو مشکوک رہتا ہے۔ اسی مشکوک فکر / علم کو جو مشکوک فکر/ عقل سے حاصل ہو اور اسی کو حرف آخر سمجھ لیا جائے تو پھر اقبال اسی کی مخالفت کرتا ہے مگر پھر بھی کوئی حاصل کرنا چاہے تو روکنے کی بجائے طریقہ بتاتا ہے کہ کیسے اس علم کو حاصل کیا جاتا ہے۔

بہرحال مذہبی تجربہ کے پھر کئی لیول ہیں ۔آخری لیول کو اس نے ختم نبوت پر ختم کیا ہے۔

پہلے حصے ،دوسرے اور تیسرے حصے کی وضاحت دوسری قسط میں کی جائے گی۔ بہرحال اندازہ لگانے والے اب آسانی سے جان سکتے ہیں کہ غزالی ، کانٹ و دیگر فلسفیوں سے اقبال کو کہاں اختلاف ہوا ہو گا؟

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اقبال کا نظریہ علم( قسط 1)۔۔پروفیسر وقاص احمد

  1. شاندار سر کمال تحریر ہے ۔ سمجھانے کا طریقہ لاجواب ہے ۔ پڑھ کر مزہ آگیا ۔ واقعی اس سلسلے کو جاری رکھا جانا چاہئیے ۔ اختلاف یا تائید و حمایت کا سلسلہ تو چلتا رہتا ہے ۔ بہرحال اس سلسلے کو جاری رکھیں ۔ بلاشبہ سوشل میڈیا پر ریسپانس نہ ہونے کے برابر ملتا ہے ۔ بعض دفعہ لوگ پڑھتے ہیں اس پر کمنٹ نہیں کرنا چاہتے ۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ لوگ پڑھ ہی نہیں رہے ۔ کمال تحریر ہے سر شاندار ۔

Leave a Reply