کوئی بھی کچھ جانتا ہے تو معلم کے طفیل۔اسماءمغل

استاد کی عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیے کہ خود اللہ رب العزت نے اپنے آپ کو آدم کے سامنے ایک معلم کے روپ میں پیش کیا۔ایک استاد کی طرح انہیں اشیا کے نام سکھائے،اور انہیں یہی صفت عطا کرکے فرشتو ں کے روبرو کردیا۔

اور (اے پیغمبر! اس وقت کا تصور کرو) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ : ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” تو وہ کہنے لگے۔”کیا تو اس میں ایسے شخص کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد مچائے گا اور (ایک دوسرے کے) خون بہائے گا۔جبکہ ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح وتقدیس بھی کر رہے ہیں۔”اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ ”جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔” (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے اسماء (نام یا صفات و خواص) سکھا دیئے۔ پھر ان اشیاء کو فرشتوں کے روبرو پیش کر کے ان سے کہا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو”۔ فرشتے کہنے لگے نقص سے پاک تو تیری ہی ذات ہے۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے اور ہر چیز کو جاننے والا اور اس کی حکمت سمجھنے والا تو تو ہی ہے۔”۔ اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا ”اے آدم! ان (فرشتوں) کو ان اشیاء کے نام بتا دو۔” تو جب آدم نے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دیئے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا : کیا میں نے تمہیں یہ نہ کہا تھا کہ میں ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور ان باتوں کو بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور ان کو بھی جو تم چھپاتے ہو(سورہ بقرہ)۔

اس کی دوسری مثال سورہ علق کی ابتدائی آیت ہے،”اپنے رب کے نام سے پڑھیے،جس نے سب کو پیدا کیا”۔

اللہ تعالی نے انسان کو احسن التقویم بنایا۔سوچیے کیا ہوگی اس رتبے کی عظمت جس پر خود اللہ رب العزت فائز ہوئے،اور پھر انسان کو اس میں حصے دار بنایا۔علم ،عقل و شعور، فہم وادراک ،تمیز ، معرفت اور جستجو وہ بنیادی اوصاف تھے جن کی وجہ انسان باقی مخلوقات سے اشرف واعلیٰ اور ممتازقرار دیا گیا۔حصول علم اور درس و مشاہدہ کے لیے استاد بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہےاور اس کے بغیر صحتمند معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے۔اسلام نے استاد کو اعلی و ارفع مقام پر تعینات کیا۔

ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ “مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا”(ابن ماجہ)۔

اسلام استاد کو روحانی استاد قرار دیتا ہے،اور انسانیت کی بھلائی اور تعلیم تربیت کے پیش نظر ہی ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا کرام کو معلم دین و دنیا بنا کر بھیجا گیا۔ارشادِ نبوی ﷺ ہے”تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے”۔اس حدیث مبارکہ میں استاد اور طالبعلم دونوں کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان عالی شان ہے”جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایاوہ میرا استاد ہے”۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ،حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت ابوہریرہؓ،حضرت ابی بن کعبؓ اورحضرت مصعب بن عمیرؓ جیسےدیگر صحابہ کرام نے معلّم کائنات کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ،تربیت اور تزکیہ کی چکی میں پسے آپ ﷺ کی مجلس میں ادب کا یہ عالم ہوتا تھا کہ صحابہ کرامؓ چہرہ انورﷺ کی طرف سیدھا نہیں دیکھتے تھے،بیٹھنے کا اندازایسا مؤدبانہ ہوتا تھا کہ پرندے آ کرصحابہ کے سروں پر بیٹھ جاتے تھے۔

امام ابو حنیفہ احتراماً کبھی اپنے استاد محترم کے گھر کی جانب پاؤں کرکے نہیں سوئے۔اسلامی تعلیمات استاد کو بہترین مقام تفویض کرتی ہیں ۔عربی مقولہ ہے “ادب درخت ہے اور علم پھل ہے پھر بغیر درخت کے کیسے حاصل ہو سکتا ہے”۔

ادب پہلا کرینہ ہے محبت کے قرینوں میں !

ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ علم والے نبیوں کے وارث ہیں “۔استاد کا یہ مقام و مرتبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ استاد اعلی اخلاقی اوصاف و عادات اور صبر و تحمل کا پیکر ہو۔قول و فعل میں سچائی اور بردباری ہو۔لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر اللہ ،ان کے فرشتے ، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں رحمت بھیجتی اور دعائیں کرتی ہیں۔(ترمذی ۔2675)اساتذہ کے لیے نبی کریم ﷺ نے دعافرمائی کہ اللہ تعالی اس شخص کو خوش وخرم رکھے جس نے میری کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھااور اس کو جیسا سنا اسی طرح لوگوں تک پہنچا یا۔(ابو داؤد۔366) ۔

فاتح عالم سکندر ایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ راستے میں ایک بہت بڑا برساتی نالہ آگیا۔ نالہ بارش کی وجہ سے طغیانی پر آیا ہوا تھا۔ استاد اور شاگرد کے درمیان بحث ہونے لگی کہ خطرناک نالہ پہلے کون پار کرے گا۔ سکندر بضد تھا کہ پہلے وہ جائے۔ آخر ارسطو نے اس کی بات مان لی۔ پہلے سکندر نے نالہ پار کیا، ارسطو نے نالہ عبور کرکے سکندر سے پوچھا ”کیا تم نے پہلے نالہ عبور کرکے میری بے عزتی نہیں کی“؟
سکندر نے جواب دیا، ”استاد مکرم! میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے، ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوسکتے ہیں لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کرسکتا“۔

تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبال ؒ کو وقت کے گورنر نے اپنےدفتر آنے کی دعوت دی۔ اقبال نےیہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو اقبالؒ نے فرمایا:۔

’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میرحسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے‘‘۔

یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا:۔

’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو’’سر‘‘کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کیے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے…؟‘‘

یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا کہ:۔

’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے۔

استاد کا مقام و عظمت ہر شئے سے بلند و برتر ہے،استاد خالقِ کائنات کی جانب سے تحفہ ء بہشت ہے،جس شخص نے اپنے استاد کا ادب کرنا سیکھ لیا اس نے دنیا و آخرت کی کامیابی میں اپنا نام لکھوا لیا،کہ با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب،اور یہی زندگی کا ماحصل ہے!،اللہ کریم ہمارے اساتذہ کرام کے دنیاوی و اخروی درجات بلند فرمائیں ۔آمین!

کوئی بھی کچھ جانتا ہے تو معلم کے طفیل

کوئی بھی کچھ مانتا ہے تو معلم کے طفیل

گر معلم ہی نہ ہوتا دہر میں تو خاک تھی

صرف ادراکِ جنو ںتھا اور قبا ناچاک تھی!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *