• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کوئٹہ اور افغانستان کے ہزارہ کون ہیں؟ تاریخ، نژاد اورمذہب(حصہ اوّل)۔۔۔حمزہ ابراہیم

کوئٹہ اور افغانستان کے ہزارہ کون ہیں؟ تاریخ، نژاد اورمذہب(حصہ اوّل)۔۔۔حمزہ ابراہیم

ہزارہ افغانستان کی آبادی کا پندرہ فیصد ہیں۔ انکا آبائی علاقہ کابل کے مغرب میں کوہِ ہندوکش کے دامن میں واقع ہے جسے ”ہزارہ جات“ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کابل اور کوئٹہ میں ہزارہ لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ دنیا میں ہزارہ کی آبادی کا تخمینہ ساٹھ لاکھ نفوس تک لگایا گیا ہے جن میں سے اندازاًچالیس لاکھ افغانستان اور دس لاکھ پاکستان میں رہتے ہیں۔ ہزارہ کی زبان ہزارگی کہلاتی ہے جو فارسی کا ایک مشرقی لہجہ ہے جس میں ترک زبان کے اثرات بھی شامل ہیں۔ ہزارہ جینیاتی اعتبار سے چین کے صوبے سنکیانگ میں رہنے والے ایغور نسل کے لوگوں سے ملتے ہیں ۔ ہزارہ مذہبی اعتبار سے شیعہ امامیہ مسلمان ہیں البتہ ان میں بہت کم تعداد شیعہ اسماعیلی اور سنی حنفی مسلک کی پیروی بھی کرتی ہے۔عراق کے شہر نجف اشرف میں موجود چار شیعہ مراجع میں سے ایک، آیت الله اسحاق فیاض، کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے۔ ہزارہ تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی شرح خواندگی کافی بہتر ہے۔ صنفی مساوات کے اعتبار سے ہزارہ اس خطے کی دوسری اقوام کی نسبت بہت روشن خیال ہیں۔ ہزارہ خواتین زندگی کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

تاریخی ورثہ
لکھی ہوئی تاریخ میں وسطی ایشیاء میں ہونے والے واقعات کا ذکر تیرہ سو قبلِ مسیح میں ملتا ہے جب ترکمانستان کے علاقے سے آریائی قبائل موجودہ ایران میں داخل ہونا شروع ہوئے اور سات سو قبلِ مسیح تک یہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ تب سینثیائی، جو ہندی فارسی زبانیں بولتے تھے، شمال کی طرف بڑھے اور وسطی ایشیاء میں پھیل گئے۔ 530 قبل مسیح میں کورُوش (دوسرے نام: سائرس ،ذوالقرنین) نے موجودہ ایران و عراق میں ہخامنشی سلطنت قائم کی اور موجودہ افغانستان اور پاکستان کو اس کے بیٹے دارا نے فتح کر کے ساتھ ملا لیا۔ گندھارا تہذیب کا علاقہ ہخامنشی سلطنت کا بیسواں صوبہ تھا۔ 330 قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم نے ہخامنشی سلطنت کو مکمل طور پر فتح کر کے سلطنت ِ مقدونیہ کا حصہ بنا لیا۔ اسکے بعد اس نے ہندوستان پر حملوں کا آغاز موجودہ پنجاب سے کیا جہاں اسکا مقابلہ راجہ پورس نے کیا۔ راجہ پورس کے ہاتھوں شکست یا اپنے لشکر میں بغاوت کے بعد سکندر نے واپسی کی راہ لی۔ سکندر یورپ اور ایشیاء میں ثقافتی اور معاشی تعلقات قائم بڑھانا چاہتا تھا، چنانچہ اس نے اپنی فتوحات کے دوران مصر سے پنجاب تک کئی بستیاں بنا کر یونانیوں کو بسایا۔ سکندر کی موت کے بعد معروف سیاسی مفکر کوٹلیا چانکیا کے شاگرد چندر گپت موریا نے شمالی ہندوستان میں موریا سلطنت کی بنیاد رکھی اور دریائے سندھ تک کا علاقہ فتح کر لیا(1)۔ 303 قبل مسیح میں شہنشاہ موریا کے یونانیوں سے کئے جانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت پانچ سو ہاتھیوں کے عوض موجودہ پاکستان اور مشرقی افغانستان کا علاقہ موریا سلطنت کا حصہ بن گیا (2) جبکہ وسطی ایشیاء کا علاقہ یونانیوں کے پاس رہا۔ 250 قبلِ مسیح میں ہزارہ جات کے یونانی گورنر تھیوڈوٹس نے سلطنتِ مقدونیہ سے بغاوت کر کے سلطنتِ باکتریا کی بنیاد رکھی۔ یہ سلطنت کوہِ ہندو کش کے شمال میں موجودہ افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان کے سنگم پر قائم ہوئی ۔ قدیم رومن مورخ جستونوس کے الفاظ میں:
Latin: “Eodem tempore etiam Theodotus, mille urbium Bactrianarum praefectus, defecit regemque se appellari iussit, quod exemplum secuti totius Orientis populi a Macedonibus defecere”.
English: “Diodotus, the governor of the thousand cities of Bactria, defected and proclaimed himself king. All the other people of the Orient followed his example and seceded from Macedonians”.
اردو ترجمہ: ”باکتریا کے ہزار ستان کے گورنر تھیوڈوٹس نے بغاوت کر کے خود کو سلطان قرار دیا۔ اس کے بعد مشرق کے باقی لوگوں نے بھی مقدونیوں سے آزادی اختیار کر لی“(3)۔

تیسری صدی قبلِ مسیح کے اوائل میں وسطی ایشیاء کے خانہ بدوش گڈریوں کے سلطنتِ باکتریا پر حملے نے یونانی دور کا خاتمہ کر دیا (4) ۔ یہ قبائل آگے بڑھتے ہوئے موجودہ چین کے مغربی علاقوں تک پہنچ گئے۔ 221 قبلِ مسیح میں سلطنتِ چین کے قیام کے بعد شاہراہء ریشم پر چین سے یورپ تک ریشمی کپڑے اور دیگر اجناس کی تجارت ہونے لگی، اسطرح ہزارہ جات کا علاقہ چینی تاجروں اور سیاحوں کی گذرگاہ بن گیا۔ اس کا مطلب تھا کہ نہ صرف تجارت کا مال یہاں آنے لگا بلکہ قافلےاپنے ساتھ روم سے چین تک کے افکار بھی لائے۔ دیوارِ چین کی تعمیر کے نتیجے میں دوسری صدی قبلِ مسیح میں مشرق سے پانچ خانہ بدوش ترک قبائل نے ہجرت کر کے موجودہ افغانستان کے شمال میں سکونت اختیار کی۔ ان قبائل میں سے کوشان قبیلہ سب سے بڑا تھا اور پہلی صدی عیسوی میں اس نے سلطنتِ کوشان قائم کی جس کی سرحدیں دوسری صدی عیسوی تک پھیل کر شمالی ہندوستان اور کاشغر سے موجودہ ایران اور بحیرۂ خَزر تک پہنچ گئیں(5) ۔ سن 226 عیسوی میں اردشیر نے ایران میں ساسانی سلطنت قائم کی۔ اس کے بیٹے شاپور نے موجودہ افغانستان اور پاکستان کا دریائے سندھ تک کا علاقہ فتح کر لیا۔اسی دوران شمالی ہندوستان میں گپتا سلطنت قائم ہوئی جس نے برہمن تہذیب کو عروج بخشا(6) ۔ ساسانی سلطنت کی توجہ شروع سے ہی اپنی مغربی سرحد پر رومی سلطنت کے ساتھ مسابقت پر مرکوز رہی اور مشرقی علاقوں میں مختلف نیم آزاد ریاستیں قائم ہوئیں، جن میں بامیان کی ریاست بھی تھی ۔ پانچویں صدی عیسوی میں شمال مشرق سے تاتاروں نے حملے شروع کئے۔ انہوں نے اپنی مہم کے آغاز میں ہی باکتریا پر حملہ کر کے کوشان اقتدار کا مکمل خاتمہ کر دیا اور شمالی ہندوستان میں گپتا سلطنت کو توڑ دیا(7) ۔ تاتاروں نے کاشغر سے سیستان اور پنجاب تک کے علاقے سے تیس کے قریب نیم آزاد سلطنتوں کو ختم کر کے یہاں پر سو سال تک حکومت کی۔ 565ء میں ساسانی فوج نے ترک قبائل کے ساتھ مل کر فیصلہ کن حملہ کیا اور تاتاروں کو اپنی سلطنت کا تابعدار بنا لیا (8) ۔

سن 632ء میں بامیان سے گزرنے والے چینی زائرو موٴرخ ہیون سانگ(Xuan Zang) کے مطابق یہاں کی زبان کا رسم الخط باکتریا کے دوسرے علاقوں (بلخ ، بخارا، وغیرہ)جیسا تھا اور یہ لوگ جسمانی لحاظ سے بھی اُن لوگوں سے ملتے جلتے تھے۔لیکن اِن کی بولی مختلف تھی۔شاہراۂ ریشم کا ایک اہم تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے بامیان کے باسیوں کا معیارِ زندگی پڑوسیوں سے بہتر تھا(9)۔
. ساتویں صدی عیسوی میں ساسانی سلطنت کے زوال کا آغاز 622ء میں رومی سلطنت کے ہاتھوں شکست اور 628ء میں خسرو پرویز کے قتل کے بعد شروع ہونے والی سیاسی رسہ کشی سے ہوا۔ 637ء میں قادسیہ کے مقام پر مسلم لشکر کے ہاتھوں شکست کے بعد پے در پے جنگیں ہارتے ہوئے 651ء تک اس سلطنت کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ حضرت علیؑ کے دور میں مسلم سلطنت کی سرحدیں خراسان اور غور کے علاقے تک پہنچ گئیں مگر وسطی ایشیاء کے باقی علاقے میں چھوٹی چھوٹی ترک سلطنتیں نمودار ہوئیں جو آپس میں سرحدی جھگڑوں میں مشغول رہیں۔آٹھویں صدی عیسوی میں موجودہ ترکمانستان کا علاقہ بغداد کے زیرِ حکومت آ گیا اور وسطی ایشیاء میں نو مسلم صوفیاء نے اپنے سابقہ مذہب بدھ مت کے رنگ میں اسلام کی تبلیغ کا آغاز کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عرب مسلمانوں کو یہاں سے کاغذ بنانے کا ہنر سیکھنے کا موقع ملا اور عباسی خلیفہ مامون الرشید کے قائم کردہ دار الحکمۃ میں یونانی اور ہندوستانی علوم کا ترجمہ ہونے لگا، جس سے مسلم دنیا میں علمی انقلاب آ گیا۔

آٹھویں صدی عیسوی میں بامیان سے گزرنے والے کوریائی سیاح ہائی چو (Hyecho) نے اپنے سفرنامے میں بامیان کو ایک آزاد مملکت بتایا ہے جس کا دفاع اتنا مضبوط تھا کہ پڑوسی ممالک اس پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہاں کا مشکل جغرافیہ اور سخت موسم بھی تھی۔ اس کے مطابق یہاں کے لوگ بدھ مت کے پیرو تھے اور آبادی کی اکثریت پہاڑوں میں رہتی تھی۔ یہاں کے لوگوں کی بولی پڑوسی اقوام کی بولی سے الگ تھی(10)۔

نویں صدی عیسوی میں عباسی سلطنت کی گرفت کمزور پڑی اور وسطی ایشیاء میں آزاد مسلم سلطنتیں قائم ہونے لگیں۔ موجودہ افغانستان کا بیشتر علاقہ 819ء میں بخارا میں قائم ہونے والی سامانی سلطنت کا حصہ تھا۔ سامانی سلطنت کا خاتمہ 990ء میں ترکوں کے ہاتھوں ہوا جنہوں نے مذہبی طور پر تنگ نظر غزنوی سلطنت قائم کی جس نے بامیان سے بدھ ، گندھارا سے ہندو اور ملتان سے اسماعیلی شیعہ اقتدار کا خاتمہ کیا۔ 1186ء میں ایک اور ترک سلطان محمد غوری نے غزنوی سلطنت کو شکست دے کر دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی (11) ۔ ترکوں نے وادئ بامیان میں اپنا دار الحکومت ایک نئے شہر کو بنایا جو اب شہرِ غلغلہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کو اس علاقے سے صرف مسلم طرزِ تعمیر و تمدن کی باقیات ملی ہیں۔ تیرہویں صدی عیسوی میں منگولیا سے اٹھنے والا منگول طوفان وسطی ایشیاء کو روندتا ہوا گذر گیا۔ شہرِ غلغلہ، جو اس وقت آباد تھا، کو باقی بڑے شہروں کی طرح بری طرح تاراج کیا گیا۔اس وقت یہاں کے حاکم سلطان جلال الدین نے فرار ہو کر موجودہ پنجاب میں پناہ حاصل کی(12)۔

چودہویں صدی عیسوی میں بامیان کچھ عرصے کیلئے ہرات کے سلطان کے ماتحت رہا مگر جلد ہی تیمور لنگ نے اس سلطنت کا خاتمہ کر دیا، اور بامیان تیموری سلطنت کا حصہ بن گیا(13) ۔مغلیہ سلطنت کے بانی بابر نے اپنی آپ بیتی میں موجودہ ہزارہ جات کے علاقے کو ہزارستان لکھا ہے(14)۔
سولہویں سے اٹھارویں صدی عیسوی تک موجودہ افغانستان کا علاقہ صفوی اور مغل سلطنتوں کا حصہ رہا، پھر قندھار میں درانی سلطنت قائم ہو گئی۔ احمد شاہ ابدالی نے1739ء میں نادر شاہ کے افغان دستے کے سالار کے طور پر دہلی لوٹا تھا، اب الگ سلطنت کا حاکم بنا تو مغلوں سے کابل، پشاور، اٹک ، ملتان اور لاہور چھین لئے۔ دوسری طرف ایرانیوں سے ہرات چھین لیا اور نیشاپور میں قتلِ عام کیا۔اس نے کوہِ ہندوکش کے شمالی علاقوں کو فتح کرنے کیلئے ایک فوج روانہ کی اور ترکمن، ازبک، ہزارہ اور تاجک قبائل کو زیر کر لیا(15) ۔ 1761ءمیں دہلی کو ایسا تاراج کیا کہ اس تباہی نے ہندوستان میں انگریزوں کیلئے میدان صاف کر دیا(16) ۔

1772ء میں اس کی وفات کے بعد درانی سلطنت اندرونی بحرانوں اور برطانیہ اور روس کی سرد جنگ کا شکار بن کر ٹوٹتی بکھرتی رہی۔ ہزارہ جات کا علاقہ اپنےقبائلی نظام کے ساتھ آزاد رہا۔انیسویں صدی میں ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو ان کیلئے روس کو گرم پانیوں سے دور رکھنا اہم ترجیح بن گیا، جو وسطی ایشیاء میں تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ پہلی اور دوسری برٹش افغان جنگ کے بعد انگریز کابل کے تخت کو اپنی اطاعت پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ 1879ءکے معاہدہٴ گندمک میں یہ طے ہوا کہ افغان امیر کی سلطنت کے خارجہ امور برطانیہ کے ریذیڈنٹ افسر کے ماتحت چلیں گے۔ کرم، پشین اور سبی ہندوستان کا حصہ ہوں گے اور امیر کو ہر سال ساٹھ ہزار پونڈ کی امداد دی جائے گی(17) ۔یہ علاقے مغل سلطنت کے زوال کے بعد ابدالی نےہندوستان سے چھینے تھے۔ اب کابل کا امیر اسی طرح انگریزوں کا اتحادی بن گیا جیسے ترکی کا عثمانی سلطان بحیرہٴ روم میں انگریزوں کے مفادات کا رکھوالا تھا(18) ۔1880ء میں عبد الرحمن خان کابل کے تخت پر بیٹھا۔ اس نے اپنی جوانی اپنے جلا وطن باپ کے ساتھ بلخ میں گزاری تھی جہاں اس نے روسی افسران سے جنگ اور جدید ریاست چلانے کی تعلیم وتربیت لی تھی اور وہ انگریزوں کے مفادات کا بہترین محافظ بن گیا ۔ اس وقت اس کی حکومت صرف کابل کے نواح تک محدود تھی۔1881ء میں اسکی ہرات کے فرمانروا محمد ایوب خان سے جنگ ہوئی اور ہرات فتح ہو گیا۔ 1886ء تک گلزئی، کنڑ ، لغمان ، میمنہ، شغنان و روشان، شنواری اور زورمت کو اپنی قلمرو میں داخل کر لیا(19) ۔ عبد الرحمن خان نے گلزئی پختونوں کےہزاروں خاندانوں کو جنوبی علاقوں سے وطن بدر کر کے ہندوکش کے شمال میں بھیج دیا۔

امیر عبد الرحمن خان نے شیعہ مسلمانوں کی زندگیاں تباہ کرنے کیلئے ایک منظم مہم چلائی۔ان کو قتل کرنے، جیلوں میں پھینکنے، زبردستی مسلک تبدیل کرنے، جائیدادوں کو ضبط کرنے اور نوکریوں سے برخاست کرنے جیسے اقدامات اٹھائے۔ جس کے نتیجے میں متعدد شیعہ قزلباش مشہد، پشاور اور لاہور آ گئے(20) ¬۔ 1890ء میں عبدالرحمان خان نے ہزارہ کو کافر اور باغی قرار دیا، اپنی فوج کو انہیں کچلنے ہزارہ جات بھیج دیا۔ کابل میں انسانوں کی خرید و فروخت کا بازار لگا کر ہزارہ بچوں کو غلام اور خواتین کو لونڈیاں بنا کر بیچا۔ ہزاروں انسان قتل اور لاکھوں بے گھر ہوئے ۔ ایسے میں جو ہزارہ مہاجر بن کر عبد الرحمن خان کی سلطنت کی سرحدوں سے نکل سکتے تھے وہ کوئٹہ یا مشہد چلے گئے۔ اس کے بعد امیر نے 1896ء میں کافرستان کے علاقے پر حملہ کر کے وہاں صدیوں سے آباد غیر مسلم آبادی کو زبردستی مسلمان کیا اور علاقے کا نام نورستان رکھ دیا(21) ۔

1901ء میں اس کی وفات کے بعد حبیب الله خان اس کے تخت پر بیٹھا، جس نے جنگ عظیم اول میں ترکی اور جرمنی کا ساتھ دینے کے نام پر ان سے اسلحہ اور رقم لی مگر ہندوستان میں تحریکِ ریشمی رومال جیسے بے ضرر اور نمائشی اقدامات سے آگے نہ بڑھا(22) ۔1919ءمیں اس کے قتل کے بعد اس کا بیٹا امان الله خان بادشاہ بنا جس نے جنگ عظیم دوم کے تھکے ہوئے برطانیہ کے خلاف جنگ کر کے آزادی حاصل کی اور1923ء میں اس خطے کی تاریخ کا پہلا آئین بنا کر ایک آزاد قومی ریاست قائم کی اور یوں موجودہ افغانستان نامی ملک وجود میں آیا(23) ۔ایک سیکولر بادشاہ کے طور پر اس نے ہزارہ کو غلامی سے آزادی دی اور ان کے انسانی حقوق کو بحال کیا۔ اسی وجہ سے جب 1929ء میں اس کے خلاف تکفیری علماء نے جہاد کا اعلان کر کے بچہ سقہ کے نام سے جانے والے ایک دیوانے کو کابل کے تخت پر بٹھایا تو ہزارہ جات نے اس کے بھیجے ہوئے لشکر کو شکست دے کر بھگا دیا(24) ۔
ہنگاموں سے بھرپور ماضی نے افغانستان کے جینیاتی ورثے کو بہت متنوع بنا دیا ہے۔

جاری ہے

نوٹ:حوالہ جات دوسری ،(آخری)قسط کے اختتام پر دیے جائیں گے

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *