کبھی آپ کی دھنبوڑی سے ملاقات ہوئی؟۔۔عبدالباسط ذوالفقار

آج میں گھر آیا تو بھتیجے میاں کی ایک آنکھ پھولی ہوئی تھی۔ خبر ہوئی کہ گرمیوں کے بے تاج بادشاہ  چُما  دے کر گئے ہیں۔ چھوٹے میاں بار بار کیاری میں گھس رہے تھے۔ وہاں کہیں دنبور زرد استراحت فرما رہا تھا۔ بس جو اس نے پیار کیا تو اس کی آنکھ لال ہوتے  ہوتے پھول گئیں۔ بچپن میں اس کے چمے کئی بار میں بھی لے چکا ہوں ۔ اکثر گھر کے  سٹور یا کسی آڑ میں گھر بناتا اور پھر ایسے سینگ نکال کر پہرا دیتا ہے کہ توبہ۔ ایک بار قاعدہ پڑھنے جاتے ہوئے خبر ہی نہ ہوئی  کہ چھت میں بنے ان کے گھر میں کسی نے انگلی کر دی۔ ہائے پھر جو ہمیں انگلی ہوئی ،قمیضیں وہیں نکالے دوڑ رہے تھے اور پاجاموں کی فکر تھی۔

یہ ایسا ظالم کیڑا ہے کہ بیچ سڑک ننگا کرنے کا فن رکھتا ہے، بس گھس گیا قمیض میں تو آٹھ جگہ لوو بائٹ کر کے ہی نکلے گا۔ گرمی آتی ہے تو یہ بھی آجاتا ہے۔ پھل فروٹ کی دُکانوں پر پایا جاتا ہے لیکن مجال کہ دکاندار کو کاٹے، نہ بھئی کیوں کاٹے گا شکار تو ہم ہیں۔ جسے چمٹ جائیں اللہ معافی، بس خوف سے الفاظ بھی بدک رہے ہیں۔ خود تصور کر لیں۔ جو تصویر بنے ،بتائیے گا۔ کئی  بار دیکھا بچے درخت پر چڑھے کہ جی مینا کے گھونسلے سے بچے چرا لیں۔ ہائے پھر بھڑ نے جو بچے دیے ناں، بچے دم بھی بھول کر بھاگ رہے تھے بے چاری پھول گئی تھی اور بھاگنے میں دقت ہو رہی تھی۔

تصور کریں تو ہنسی آتی ہے کسی کو دیکھ لیں تب بھی باچھیں کھلتی ہیں مگر جس کو چمے مل رہے ہوتے ہیں پوچھیے مت، مریض کا حال اچھا ہے۔ ایک بار فروٹ کی دکان پر کھڑے ایک صاحب کی شرٹ میں گھس گئی۔ وہ تو چیخ چلا کر ناچ رہے تھے دیکھنے والے ہنس رہے تھے۔ اور پھر سب کی باچھیں تب بند ہوئیں جب انہوں نے ٹراؤزر بھی اتار دیا تھا۔ کہ ایک ڈیمبو ڈینچوں کیے بغیر پائنچے سے گھس گیا تھا۔ کل ایک دوست نے پوسٹ لگائی اسے بھی ایک ڈیمبو کاٹ گیا تھا۔ اوّل تو خود کا خیال گزرا جب  سٹور میں اماں کے منع کرنے کے باوجود گیند ڈھونڈنے گیا تھا۔ جب نکلا تو میری آنکھوں سے گوٹیاں کھیلی جا سکتی تھیں۔ اور بقیہ جملہ معاملات پر برف کی ٹکور کی حاجت تھی۔

خیر ان کی پوسٹ سے مجھے ایک ماسٹر صاحب یاد آئے۔ جو لنگی پہن کر بیٹھتے تھے کمرہ جماعت میں اور شلوار ٹانگ رکھی ہوتی تھی تا کہ ہوا سہولت سے آنا جانا کرتی رہے۔ خارش سے بچاؤ  ہو ،کہ گرمیوں کے دن تھے۔ پسینے سے جملہ مراحل جلن کا شکار ہوتے ہوں گے۔ آرڈر تھا کہ کوئی استاد  سکول لنگی میں نہ آئے شلوار پہن کر آیا کرے۔ ماسٹر صاحب نے ایک شلوار ٹانگ لی وہیں دیوار پر کہ چلو بھاگتے چور کی شلوار پہن لیں گے۔ دیہاتی علاقوں کی زندگی سے آپ واقف ہوں گے۔ ایک روز انسپکشن ٹیم آئی تو ماسٹر جی کو حکم نامہ یاد آگیا۔ فوراً شلوار اٹھائی، خاصے دنوں کی ٹنگی اس شلوار میں بھڑ نے چھتہ بنا لیا تھا۔ جوں ہی ٹیم  آئی ماسٹر صاحب نے شلوار پہن لی۔ بس پھر کیا تھا۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

البتہ تحقیق طلب کام ضرور ہے کہ آیا ماسٹر صاحب مریخ پر پہنچے یا صرف ریخ پر اکتفا کیا۔ یا کوئی طلا بنا اور حکیموں کے چکروں سے جان چھوٹی اور خوشی منائی۔ یا نجانے بھڑوں کو چھتہ فراہم ہوا۔ اور یہ بھی کہ آیا انسپیکشن ٹیم نے پھر جرمانہ کیا یا مفت میں لنگی ڈانس دیکھ گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تبھی خبر ملی تھی مریخ پر برف کے آثار پائے گئے ہیں۔ تصور کرتا ہوں تو ماسٹر صاحب بن شلوار کے دوڑتے دکھائی  دیتے ہیں۔

آپ بتائیے آپ کی کبھی ملاقات ہوئی؟ اگر ہوئی تو کیا کہانی ہے؟ ضرور بتائے گا شیطان آپ کو روکے گا۔ لیکن دھیان رہے دھنبوڑی ٹوکتا نہیں  ڈنگ ٹھوکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *