• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نام نہاد مذہبیوں کے مذہبی جھگڑوں کا تماشا۔۔آصف وڑائچ

نام نہاد مذہبیوں کے مذہبی جھگڑوں کا تماشا۔۔آصف وڑائچ

SHOPPING

مذہبی اعتبار سے مقدس سمجھی جانے والی بعض شخصیات کے متعلق جب بھی کسی تاریخی واقعہ پر کوئی تکنیکی سوال پوچھا جاتا ہے یا ثبوت مانگا جاتا ہے تو طرفین کے مخالف دھڑوں سے کچھ ایسی آوازیں اٹھتی ہیں ۔۔”یہ تم نہیں بغضِ علی بول رہا ہے۔۔۔ یا۔۔۔” یہ تم نہیں بغضِ معاویہ بول رہا ہے”۔ وغیرہ

اگر آپ مختلف فرقوں کی ارتقائی تاریخ کھوجیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جن بزرگوں کی تقلید یہ لوگ کرتے آئے ہیں یا کرنے کا دم بھرتے ہیں، شروع میں وہ سب بھی مذہبی پیشوا یا جنہیں “علماء” کہا جاتا ہے ہی تھے نہ کہ کوئی غیر جانبدار محقق (Researcher) ۔ پھر وقت کے ساتھ ان واعظین کے مقلدین، معتقدین اور چاہنے والوں نے ان کے ناموں سے یا ان کی کسی نسبت سے یا ان کے کسی نظریے کی بنیاد پر نئی جماعتیں یا فرقے تشکیل دیے۔ معتزلہ، جبریہ، قدریہ، جعفری، حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اسماعیلی، اثناعشری، بوہری، بریلوی، دیوبندی، وہابی، پرویزی وغیرہ وغیرہ حتیٰ کہ احمدی بھی اسی طرح بنے تھے۔ نظریہ تصوف کے بزرگان اور صوفیا کے ذریعے چلنے والے سلسلوں نقشبندی، قادری، چشتی وغیرہ کی بھی یہی کہانی ہے۔

اکثریت نے اپنے بزرگوں کی اندھی تقلید کی ،یعنی اگر کسی بزرگ سے فقہی و اجتہادی استنباط میں بھول چوک ہوئی یا کسی تاریخی واقعہ کو قلمبند کرنے میں غلطی کر دی تو ان کے تلامذہ و مقلدین نے اسے غلط ماننے کے بجائے اس کا ہر انداز سے دفاع کیا۔ چونکہ مذہبی نظریات سائنسی مشاہدات کی طرح تو نہیں ہیں کہ دو اور دو چار کر کے یا تجربات اور وقت کی چھلنی سے گزار کر جانچ لیا جائے۔ مذہبی نظریات تو وقت کے ساتھ معاشروں میں راسخ ہوتے چلے جاتے ہیں بھلے وہ کتنے ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہوں۔

تاریخی کہانیاں کتنی غلط ہیں اور کتنی درست، جاننا تقریباً ناممکن ہے۔
ہزاروں سال پرانی تاریخ تو چھوڑیے۔۔۔آج کے جدید دور میں انٹرنیٹ، اخبارات اور مواصلات کا نظام ہونے کے باوجود لوگ جھوٹ پہ جھوٹ لکھتے اور بیان کرتے ہیں۔ کبھی نواز شریف، کبھی بینظیر اور عمران خان یا کسی مخالف کے ویڈیو کلپ جان بوجھ کر آدھے ادھورے کاٹ کر اپنے مطلب کے معانی بڑی ڈھٹائی سے پہناتے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے ہزار سال پرانی تاریخ سے کھیلنا کون سی بڑی بات ہے۔ جب بجلی نہ تھی، مواصلات اور رابطوں کا نظام نہ تھا، پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی اور جو تھے وہ بھی کسی ایک جگہ یا نکتے پر جمع نہ تھے، نہ گوگل جیسا کوئی مجموعی سرچ انجن تھا نہ ٹی وی چینل، تب شورشوں اور گھپ اندھیرے صحراؤں میں کسی کٹیا میں دیے کی لو میں بیٹھا شخص کیا کیا افسانے نہ گھڑتا ہو گا اور اس کے مقلدین و معتقدین اسکی تائید میں کس طرح سرگرم رہتے ہوں گے؟۔

ہمیں تو ابن سعد، ابن اسحاق و ہشام، غزالی و رومی وغیرہ بھی آکسفورڈ پرنٹنگ پریس کے  ذریعے ملے ہیں۔ ہم بنی بنائی (فیبریکیٹڈ) کہانیوں کے اس قدر عادی ہیں کہ یہاں سچ کو بھی جھوٹ کی طرح باقاعدہ اہتمام کے ساتھ پیش کرنا پڑتا ہے ورنہ لوگ سچ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ میری اب تک کی زندگی کا مشاہدہ ہے کہ مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز کو ایک سیاسی سٹنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، بھولے بھالے عوام کو ایک سراب کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔

وہ افراد جو کبھی اپنے گاؤں، شہر یا ملک سے باہر نہیں نکلے یا جن کا سفر اور مطالعہ کم ہے، انکی سوچ ایک محدود دائرے کے اندر گھومتی ہے۔ جیسا وہ سوچتے ہیں انہیں وہی درست لگتا ہے کیونکہ ان کی سوچ ایک مخصوص ماحول میں پروان چڑھتی ہے، اس سے باہر وہ جھانک ہی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا مختلف سوچ رکھنے والا شخص انہیں غلط لگتا ہے۔ دوسرے کا سچ بھی انہیں جھوٹ لگتا ہے۔خصوصاً برصغیر پاک و ہند کی بات کی جائے تو چونکہ یہاں شروع سے ہی سوچنے سمجھنے کی تعلیم نہیں دی جاتی، بس جو پڑھایا گیا یا رٹایا گیا، دماغ کی بتی بجھا کر مان لینا ہے اور من و عن تقلید کا حکم ہوتا ہے، لہذا یہاں کا دماغ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا۔ اگر پاکستان سے باہر کسی بندے کے ساتھ کسی موضوع مثلاً تاریخ، سائنس یا آرٹ پر بات کی جائے یا کسی نظریے کا ذکر کیا جائے تو وہ آپ سے فوراً اس کی تحقیق، دلیل اور منطق وغیرہ پوچھے گا، حوالے دریافت کرے گا۔ وہ ٹھوس دلائل کے بغیر مطمئن نہیں ہو گا، خود کھوج لگائے گا، متعلقہ ماہرین کی رائے لے گا اور تحقیق اور شواہد کی روشنی میں ہی کوئی نتیجہ (منفی یا مثبت یا غیر جانبدار) اخذ کرے گا۔ اسکے برعکس پاکستانیوں کی سوچ یہ ہے کہ پہلے تو آپ پر فتویٰ ٹھوکا جائے گا پھر آپکو ہی کہا جائے گا کہ بھیا ہم تو آپکی بات نہ سمجھتے ہیں نہ سمجھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں آپ خود ہی تحقیق کیجیے، سارے شواہد اور ثبوت اکٹھے کیجیے وگرنہ ہم تو ویسا ہی سمجھیں گے جیسا ہم شروع سے سمجھتے آ رہے ہیں۔۔۔ جب آپ سارے ثبوت اور دلائل لا کر سامنے رکھ دیں گے تو پھر کہیں گے کہ آپ ہمارے سامنے یہ سچائی لائے ہی کیوں ہیں۔ آپکو تحقیق کی ضرورت ہی کیا تھی، ضرور دال میں کچھ کالا ہے، آپ اپنا سچ اپنے پاس ہی رکھیے، ہمیں کسی تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں، ہم اپنے پرانے خیالات کے ساتھ خوش ہیں اور بہتر ہو گا کہ آپ بھی ان سچائیوں سے دور رہو۔

یعنی مختلف فرقوں کے نابغے ایک طرف تو اپنی مرضی کی تاریخ اور نظریہ پر ایسے کاربند ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے پر فتوے لگاتے نہیں تھکتے لیکن جب کوئی تیسرا ان کی حقیقت کھول کر سامنے رکھ دیتا ہے تو ہر ایک کو اپنی مرضی کی تاریخ یا نظریہ غیر مصدقہ ثابت ہونے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ھے۔ پھر یہ کہہ کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں کہ جناب ہمیں آپ سچائی نہ بتائیں ہم اپنے عباراتِ اکابرپر ہی چلیں گے۔

آج کی تاریخ میں غامدی صاحب، خادم رضوی، طارق جمیل، انجنیئر مرزا علی اور بپا جانی وغیرہ مذہبی علماء کہلاتے ہیں۔ پچاس سال بعد یا ان علماء کی وفات کے بعد ان کے چاہنے والے ان کی کسی نہ کسی نسبت سے اپنا اپنا گروپ تشکیل دے لیں گے (بلکہ گروپنگ تو موجود ہی ہے) پھر آہستہ آہستہ جب ایک دوسرے کی مخالفت اور رد در رد کا سلسلہ شروع ہو گا اور ایک دوسرے کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کیلئے کتابیں لکھی جائیں گی تو ہر ایک اپنی جگہ ایک نیا فرقہ بن جائے گا اور ان کے الگ الگ مدرسے اور مساجد بھی بنیں گی۔۔۔ یہی کچھ ماضی میں بھی ہوتا رہا، آج بھی ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔۔ دنیا کا کوئی شخص گروپنگ کے اس سلسلے کو نہ پہلے کبھی روک پایا نہ آئندہ روک پائے گا۔۔ دنیا کے ہر مذہب میں ہر پانچ چھ سو سال بعد نئے فرقے جنم لیتے ہیں۔۔ آج سے آٹھ نو سو سال پیچھے کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اس وقت کے بہت سے فرقے آج ہم میں موجود نہیں کیونکہ انکی جگہ نئے فرقوں نے لے لی اور یہ سب معاشی، سیاسی اور سماجی تبدیلیوں اور ذاتی مفادات کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ آج ہمارے درمیان جو مذاہب، مسالک اور فرقے موجود ہیں، پانچ چھ سو سال بعد ان میں بیشتر معدوم ہو جائیں گے۔ یہ پراسس رکنے والا نہیں۔ یہ نیچرل پراسس ہے۔ جہاں انسان بستے ہوں وہاں اختلافات فطری طور پر جنم لیتے ہیں۔ تو پھر اس کا حل کیا ہے یا دوسروں لفظوں میں اسے ہینڈل کیسے کیا جائے۔ اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے انسانیت پر یقین۔ تمام انسان چاہے کسی بھی مذہب، رنگ یا نسل سے ہوں، انسان ہونے کے ناطے سب ایک قوم ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے اور انسانیت کا تقاضا بھی ہے کہ انسان ایک دوسرے کو برداشت کر کے آگے بڑھتے رہیں۔ انسان کے سامنے ایک وسیع و عریض دنیا ہے جہاں مختلف رنگ و نسل کے اربوں انسان مختلف خطوں میں بستے ہیں۔ ہر انسان کا اپنے ماحول، تعلیم و تربیت اور عقلی استعداد کے مطابق ایک سوچ یا نظریہ ہے جس کے تحت وہ زندگی گزارتا ہے یا گزارنا چاہتا ہے۔ مسئلہ تب پیش آتا ہے جب وہ اپنے نظریات دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتا ھے۔ وہ سچائی جاننے کے لئے بحث نہیں کرتا بلکہ پہلے سے طے شدہ مفروضات کے تحت دوسروں کو نیچا دکھانے کی دھن میں ہوتا ہے جس کا اکثر نتیجہ نفرت، تشدد، بغض اور دشمنی نکلتا ہے۔

جتنا جلد ہو سکے ہمیں یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہبی افراد کے تاریخی واقعات دین نہیں ہوتے۔ اگر دین زندگی گزارنے کے سلیقے کا نام ہے تو ہمیں یہ زندگی دنیا میں موجود تمام رنگ و نسل اور مذاہب کے بیچ رہ کر ہی گزارنی ھے نہ کہ کسی جنگل یا بند کمرے میں۔ (جنگل یا بند کمرے میں دین کی ضرورت ہی کیا ہے) تو پھر دین ایسا آفاقی ہونا چاہیے جو طلوع ہونے والی ہر نئی صبح کے ساتھ ہم آہنگ ہو یا ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار ہو۔ ظاہر ہے خالق کا دین فطرت کے عین مطابق ہی ہو سکتا ہے، مخصوص افراد کے واقعات پر منحصر نہیں ہو سکتا۔

جن بزرگوں نے اپنے اپنے زمانوں میں انسانوں کو تہذیب و تمدن سکھایا اور زندگی گزارنے کے گُر بتائے ان میں سے کئی احکامات یا نصیحتیں انکی زندگیوں تک محدود تھیں۔ جب دنیا کے حالات اور زمانے بدلیں گے تو احکامات اور پند و نصائح کی نوعیت بھی بدلے گی۔

جہاں تک فرقوں اور جتھوں کی بات ہے تو فرقے بنتے رہیں گے۔ لوگ اپنے فہم کے مطابق مذاہب کی تشریحات میں اختلاف رکھیں گے۔ لیکن آج کی جدید دنیا میں وقت جس رفتار سے بدل رہا ہے، ایک دن آئے گا جب یا تو کچھ فرقے اپنی نظریاتی موت مر جائیں گے یا پھر سب فرقے آپس میں باہم رہنا سیکھ لیں گے۔ (جیسا کہ یورپ میں ہوا ہے)۔ کسی کو اپنا مسلک یا سوچ دوسرے پر نافذ کرنے کا کوئی ربی اختیار ودیعت نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے اختیار کا مدعی ہے گویا وہ خدائی اختیار کا مدعی ہے۔

دوستو! ہم نے نفرت کا کھیل بہت کھیل لیا۔۔ آخر ہمیں ملا کیا؟۔۔ ستر برس بعد بھی ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے؟۔۔ دنیا میں پچاس سے زائد مسلم ممالک ہیں، ایک ہمی ہیں جن کی کوئی سمت نہیں۔ ہمارا فہم ایسا عجیب و غریب ہے جو پرکشش تو کیا ہوتا الٹا دوسروں کو دائرہ اسلام سے ہی خارج کر کے دم لیتا ھے۔

کسی فلاسفر نے کیا خوب کہا تھا کہ ‘ تاریخی کتابوں سے اخذ شدہ  علم” علم “نہیں ہوتا فقط معلومات ہوتی ہیں جو آپ کو بیساکھیاں تو دے سکتی ہیں ٹانگوں پر کھڑا نہیں کر سکتیں۔

SHOPPING

میں کہتا ہوں کہ قدرت نے اس زمین کو سبزہ، پھول، پہاڑ، پنچھی، جھرنے موسیقی، فن، فکر، محبت اور انسانیت سے خوبصورت سجایاہے۔ پنڈت، پادری اور مولوی اسے بدنما بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خوبصورت زمین پر سب کو زندہ رہنے کا حق ہے۔ جس طرح آپکو اپنے مذہب پر چلنے کا حق ہے، دوسروں کو بھی اپنی مرضی کا مذہب یا نظریہ رکھنے کی آزادی ہے۔ اگر ہم اس آزادی کو احترام دینے کے قابل نہیں ہیں تو ہم انسانیت کی تعریف سے ہی خارج ہیں۔ یہ وطن سب کا سانجھا ہے، محض تاریخی واقعات کو لے کر یہاں کا ماحول خراب مت کیجیے۔

SHOPPING

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *