• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • چاہ بہار، کیا انڈیا جا اور چین آرہا ہے؟۔۔ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

چاہ بہار، کیا انڈیا جا اور چین آرہا ہے؟۔۔ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

ایران نے انڈیا کو چاہ بہار سے زاہدان تک بچھائے جانے والے ریلوے لائن پروجیکٹ سے الگ کر دیا۔ ایران اب چاہ بہار کو ترقی اور اس ریلوے لائن کو اپنے وسائل سے بغیر انڈین مدد کے تعمیر کرے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران کے قومی ترقیاتی فنڈ سے اس مقصد کے لیے چالیس کروڑ ڈالر مختص کیے گئے۔ ایران کے نقل و حمل کے وزیر محمد سلامی نے چھ سو اٹھائیس کلومیٹر طویل اس ریلوے لائن کو بچھانے کے کام کا افتتاح کر دیا۔ یہ ریلوے لائن اگلے مرحلے میں چاہ بہار کو افغانستان کے زارانج خطے سے منسلک کرے گی اور یہ سارا منصوبہ 2022ء تک مکمل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، انڈیا اس منصوبے کے ذریعے افغانستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی چاہتا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ پاکستان کو خاطر میں لائے بغیر ایک نیا تجارتی روٹ قائم کیا جائے، جس سے اسے واہگہ کے راستے افغانستان تک رسائی میں حائل رکاوٹوں سے بھی نجات مل جائے گی اور تجارت کے لیے اسے نئی منڈیاں بھی میسر ہوں گی۔

انڈین حکومت نے بھی اسے بہت زیادہ اہمیت دی، اس معاہدے پر دستخط کے لیے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی تہران آئے۔ اس ریلوے منصوے کو انڈیا کی سرکاری کمپنی نے بنانا تھا، جس کے لیے اس کے ماہرین نے زمینی صورتحال جاننے کے لیے کافی دورے بھی کیے، مگر عملی کام شروع نہ کیا اور حیلے بہانوں سے وقت ضایع کرتے رہے۔ ویسے تو کافی عرصے سے انڈیا اور امریکہ کی یاری چل رہے تھی اور انڈیا پر امریکی نوازشات ہو رہی تھیں، مگر چین سے مار کھانے کے بعد رہی سہی غیر جانبداری بھی ختم ہوگئی اور اب انڈیا مکمل طور پر امریکی کیمپ کا حصہ بن چکا ہے۔ انڈیا نے فقط امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اس مواصلاتی منصوبے میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ جب انڈیا اور چین بارڈرز پر مدمقابل ہیں، انڈیا کے کافی سپاہی مار دیئے گئے ہیں، ایسے میں ایران کا انڈیا کو اس منصوبے سے آوٹ کر دینا کافی پیغام رکھتا ہے۔

چین اور ایران کے تعلقات دن بدن مستحکم ہو رہے ہیں اور چین قدیم سلک روٹ کے ایران والے حصے پر بڑی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ میڈیا پر یہ خبر کافی پہلے نشر ہوچکی ہے کہ چین کی پہلی مال بردار ٹرین ترکمنستان کے راستے ایران پہنچ گئی۔ یہ ریل گاڑی دو ہفتے قبل چین کے صوبے جہ جیانگ کے شہر یی وو سے روانہ ہو کر قزاقستان اور ترکمنستان سے ہوتے ہوئے ایران کے شمال مشرقی شہر سرخس پہنچی۔ اس پروجیکٹ پر چین کی کمپنی تیانمن کام کر رہی ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ یہ پہلی مال گاڑی ہے، جو چین کو وسطی ایشیا کے ملکوں اور ایران سے ملا رہی ہے۔ تجارتی سامان سے لدی ہوئی چین سے ایران پہنچنے والی اس ٹرین نے ایران پہنچنے کے لئے دس ہزار تین سو انتالیس کلو میٹر کا راستہ چودہ دن میں طے کیا۔ سلک روڑ کو چین بڑی تیزی سے بحال کر رہا ہے، اس کو وسعت دے رہا ہے۔ چائنہ ڈیولپمنٹ بینک نے گذشتہ سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران بتایا تھا کہ اب تک اس پٹی اور شاہراہ کی تشکیل کے لیے 900 منصوبوں کا افتتاح ہوچکا ہے، جن کی لاگت 900 ارب ڈالر آئی ہے۔

ایران چین کے ساتھ 25 برس کے لیے اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کا ایک معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔ اس وسیع منصوبے کا جو خاکہ سامنے آیا ہے، اس کے تحت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، مینیوفیکچرنگ، توانائی کے شعبے اور ٹرانسپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں سرمایہ کاری سے لے کر بندرگاہوں، ریفائنریوں اور دیگر اہم تنصیبات کی تعمیر نو تک میں تعاون و اشتراک کیا جائے گا۔ اس مدت میں ایران چین کو رعایتی دام پر خام تیل کی سپلائی جاری رکھے گا۔ اقتصادی طور پر یہ منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تربیتی مشقیں، مشترکہ ریسرچ اور ہتھیاروں کی تیاری سمیت خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی ہوگا۔ جس کا مقصد “دہشت گردوں سے مقابلہ کرنا، منشیات اور انسانی سمگلنگ کا خاتمہ اور سرحدی علاقوں میں جرائم پر قابو پانا ہوگا۔” اس کے ساتھ ساتھ چین چار سو ارب ڈالر کی ایران میں سرمایہ کاری بھی کرے گا، جس سے ایران کو مالیاتی مسائل پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔

یوں لگ رہا ہے کہ انڈیا مزید امریکی کیمپ کا حصہ بن رہا ہے، اگرچہ اسے لداخ کی موجودہ جھڑپ میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور امریکہ نے سوائے لفظی بیان بازی کے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ پھر بھی ہندتوا کی مودی حکومت ٹرمپ کے عشق میں مبتلا ہو کر چین سے چھیڑخانی کر رہی ہے۔ ایسے میں چین خطے میں اپنے دوستوں کی تعداد میں تعمیر و ترقی کے ذریعے اضافہ کر رہا ہے۔ ایران میں چین کی اتنی بڑی سرمایہ کاری کے آنے کا مطلب بہت ہی واضح ہے، یہ خطہ دنیا کی تیل کی بڑی گزرگاہ ہے۔ مشرق وسطیٰ تنازعات کا شکار ہے، امریکی مداخلت عروج پر ہے، اسرائیل کی چیرہ دستیاں خطے کے امن کو داو پر لگائے ہوئے ہیں۔ چین چاہ بہار کو سلک روڑ کا حصہ بنانا چاہے گا اور گوادر و چاہ بہار کو باہمی تعاون کرنے والی بندرگاہ بنانے کی تجویز دے چکا ہے۔ جیسے جیسے چین کی سرمایہ کاری بڑھے گی، انڈیا خود کو بخود آوٹ ہوتا جائے گا۔

پاکستان ایران اور چین اس خطے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے ترقیاتی منصوبے چین کے تعاون سے سی پیک منصوبے کے تحت ہی مکمل کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان، ایران اور چین خطے کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بلاک تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہ ایک طرف خطے میں بڑھتی امریکی مداخلت کو روکے گا، جس کی وجہ سے خطہ پچھلے چالیس سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے اور دوسرا باہمی رابطے سے خطے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ ویسے چین نے اتنی بڑی سرمایہ کاری اور اس پچیس سالہ معاہدے کے ذریعے امریکی ورلڈ آرڈر کو چیلنج کیا ہے۔ امریکہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ ایران کو تنہا کرے اور اقتصادی طور پر مفلوج کر دے، مگر چین اور ایران کے اس معاہدے کے نتیجے میں ایران امریکہ کی اقتصادی دہشتگردی سے نکلنے کی پوزیشن میں آجائے گا، جو یقیناً بڑی امریکی ناکامی ہے۔

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *