مسنگ پرسنز اور ریاست۔۔عبدالولی

آج کل پاکستان میں مسنگ پرسنز کا ایشو بہت زیادہ زیر بحث ہے۔ چھوٹے بڑے, دبلے, پتلے ہر طرح کے لکھاری اور دانشور اس ایشو پر ثواب دارین سمجھ کر مسلسل لکھ رہے ہیں اور ساتھ ہی آئے روز روتی ماؤں کے آنسوؤں اور درد بھری غضب ناک تصاویر اور videos بھی میڈیا میں گردش کرتی نظر آرہی ہیں۔ مسنگ پرسنز کا ایشو کوئی نیا نہیں۔ ملک میں ماضی میں بھی مسنگ پرسنز کا مسئلہ رہا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ کسی زمانے  میں کراچی میں بھی اکثر پرسنز مس ہوجایا کرتے تھے۔ پھر ان مسنگ پرسنز پر بڑا واویلا, رونا دھونا, ہڑتال, جلاؤ گھیراؤ ہوا کرتے تھے۔ نیز اکثر اس ایشو کی آڑ میں غریب اور بے گناہوں کا بے دریغ خون بھی بہایا جاتا تھا۔ تاہم آج ہم سب یہ جانتے ہیں کہ وہ لوگ کیوں اور کس لیے مس ہوجایا کرتے تھے۔ اور آج ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان میں سے اکثر واقعی بڑے سفاک مجرم ہواکرتے تھے۔ ایسے مجرم کہ جن کا قانون بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ قانونی طور طریقوں سے ان حضرات کو لگام دینا تقریباً ناممکن سا تھا۔ اس کی بہت ساری وجوہات تھیں۔ جیسے کہ طاقتور سیاسی سرپرستی, مختلف مافیاز کا انھیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ ان کے ذریعہ بتہ اور کھالوں کی وصولی, اپنے دشمنوں کو ٹھکانے لگانا وغیرہ وغیرہ۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ڈرایا اور دھمکایا جاتا۔ اگر بات نہیں بنتی تو انہیں یا ان کے پیاروں میں سے کسی کو مار دیا جاتا۔ جج حضرات کی بھی یہی حالت تھی۔ نتیجتاً ان کی پکڑ اور انکے خلاف فیصلے مشکل ہوگئے تھے۔ لہذا مجبوراً ان درندوں کا آخری حل ان کے مس ہونے ہی میں نکلا۔ جوں جوں یہ درندے مس ہوتے گئے کراچی کی رونقیں بحال ہوتی گئی۔ (بے شک اس سارے عمل میں ریاستی اداروں کی بھی کمی کوتاہیاں تھی)۔

غور طلب اور اہم بات یہ ہے کہ آج جبکہ ملک کے معاشی, اقتصادی اور سیاسی حالت انتہائی ابتر اور نازک ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ملک چاروں اطراف سے انتہائی سنگین بیرونی خطرات سے بھی گِھرا ہوا ہے۔ لہذا ایسے میں کوئی انتہائی بے وقوف اور نادان ہی ہوگا جو کہ انتہائی سنگین اندرونی خطرات کی  آگ کو بھی بھڑکائے گا۔ کسی بھی ریاست کے لیے بیرونی خطرات کی بنسبت اندرونی خطرات زیادہ خطرناک اور مہلک ہوتے ہیں۔ ریاست کا فرد مطمئن نہیں تو ریاست محفوظ نہیں۔ جس طرح ایک عام فرد یہ بات بخوبی سمجھ اور محسوس کر سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارے ادارے بھی اس بات کی نزاکت کو میرے خیال سے بخوبی سمجھتے اور اس کی احساسیت کو بخوبی جانتے ہیں۔ چنانچہ آج اگر 22 کروڑ کی آبادی میں چند ہزار لوگ مسنگ ہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ ہاں پوری دال کالی نہیں بے شک ان میں سب کے سب گناہ گار نہیں کچھ واقعی بے قصور بھی ہوں گے۔ لیکن حالات اس طرح کے ہو گئے ہیں کہ مجبوراً سوکھے کے ساتھ گیلے بھی اس آگ کی نظر ہو رہے ہیں۔

دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم ماضی سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں۔ آج کے بلوچستان اور فاٹا کو سمجھنے کے لیے ہمیں بنا کسی تعصب کے ماضی کے کراچی کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ آج دراصل کراچی ہی کے فارمولے کو بلوچستان اور فاٹا میں دہرایا جا رہا ہے۔ اور کراچی کا فارمولا تھا ڈر اور خوف کا فارمولہ۔ کراچی کی طرح ان علاقوں میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ اور بڑے بڑے سرداروں کی سرپرستی کے باعث مجرموں تک رسائی, گرفتاری اور پھر سزا تقریباً ناممکن سا عمل ہوگیا ہے۔ ان علاقوں میں بھی جو اہلکار کسی مجرم کی گرفتاری میں ملوث نکلا اگلے دن اس کی یا اس کے کسی پیارے کی لاش ملی۔ جس جج نے مجرم کے خلاف فیصلہ دیا اس کا بھی یہی حال ہوا۔ یوں تخریب کاروں کو ان علاقوں میں ایک طرح سے مکمل چھوٹ اور آزادی مل گئی۔ چنانچہ مزید چھوٹ مزید بربریت کے فروغ اور ریاست کو مزید کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ اس طرح کی مزید نرمی اول تو ریاست کی کمزوری کو ظاہر کرے گی اور دوسرا تخریب کاروں کو اس سے مزید تخریب کاری کے لیے حوصلہ اور اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لیے مزید وقت ملے گا۔ ہاں کسی بھی فرد تنظیم یا گرو کو راہ راست پر آنے کے لیے وقت اور موقع ضرور ملنا چاہیے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ وقت سے تخریب کاری کی جڑیں معاشرے میں مزید مضبوط اور تخریب کاروں کا پروپگنڈا مزید طاقتور ہو جاتا ہے۔ لہذا یہ حضرات جتنے طاقتور ہوتے جاتے ہیں اتنے ہی ریاست کو بلیک میل کرتے جاتے ہیں۔ یعنی مزید وقت مزید لاشیں مزید وقت مزید تخریب کاری مزید وقت ریاست کی مزید کمزوری۔ ماضی میں ہمارے یہاں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب ریاست MQM اور طالبان کے مدمقابل بالکل بے بس اور کمزور سی نظر آنے لگی تھی۔ کراچی میں 92 آپریشن کے بعد MQM کو قومی دہرا میں شامل ہونے کے لیے ایک اور موقع دیا گیا۔ لیکن نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ یہ موقع جتنا طویل ہوتا گیا کراچی اتنا ہی زیادہ خون آلودہ ہوتا گیا۔ اتنا ہی تاریک ہوتا گیا۔

آزادی بے لگام گھوڑے کا نام نہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ بلا سوچے سمجھے جس کے جو من میں آیا وہ لکھ ڈالا۔ اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں۔ لہذا کسی موضوع پر لکھتے ہوئے ہمیں دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اس ملک میں ہر دوسرا شخص محرومی کا شکار ہے۔ تاہم محرومی کی ہاڑ میں تخریب کاری اور ریاست سے ٹکراؤ ہرگز مسئلہ کا حل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *