• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سیاہ فامیت نہیں نسل پرستی خطرناک ہوتی ہے۔۔ اقتدار جاوید

سیاہ فامیت نہیں نسل پرستی خطرناک ہوتی ہے۔۔ اقتدار جاوید

کلائیو لایڈ کی ٹیم نے ستر کے عشرے میں دنیائے کرکٹ میں حکمرانی کی، ہمارا تو وہ بچپن کا زمانہ تھا، اب پچپن کا زمانہ بھی گزر گیا، اس وقت اسی ٹیم کا شہرہ تھا اور کالی آندھی کی کوئی دہشت تھی کہ ایک سے ایک بڑا ہیرا ایک سے ایک بڑا ہیرو(ویسے ہیرے اور ہیرو کا کوئی تعلق ضرور ہو گا )خود کلائیو لائڈ، ووین رچرڈز، میلکم مارشل، جوئیل گارنر اور مائیکل ہولڈنگ یہ سارے ہمارے ہیروز تھے اور ٹیم یہ ویسٹ انڈیز کی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے نام کی وجہ تسمیہ بھی دلچسپ ہے، چھ صدیوں قبل یورپ کو اپنی قسمت آزمائی کے لیے انڈیا کی تلاش تھی جو یورپی جہازران کریبین کے ساحل پر پہنچے انہوں نے اس جگہ کو ویسٹ انڈیز سمجھا، جو مشرق میں انڈونیشیا اور فلپائن کے جزیروں کی جانب نکلے انہوں نے اسے ایسٹ انڈیز کہہ دیا ۔یہاں پہلے ہسپانوی آئے اسی لیے اس علاقے کو پہلے ہسپانوی ایسٹ انڈیز کہا جاتا تھا۔ کولمبس اور اس کے ساتھی امریکہ پہنچے تو ان لوگوں کا  سرخ رنگ دیکھ کر انہیں ریڈ انڈین کہہ دیا ۔اصل میں عثمانیوں نے زمانوں پرانا سلک روٹ بند کر دیا تو اہل یورپ چین اور انڈیا تک کسی سمندری راستے کی تلاش میں تھے ،کریبین sea کے کنارے تیرہ جزائر کی یہ ٹیم تھی جو کالی آندھی کے نام سے مشہور تھی، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اندر سے یہ کتنے ریزہ ریزہ لوگ ہیں اور کس تعصب کا شکار ہیں ۔اسی کا اظہار اب مائیکل ہولڈنگ نے آبدیدہ ہو کر کیا، جس کی گیند کی رفتار کسی کو بھی کسی بھی وقت بولڈ کر سکتی تھی۔ شاید ہولڈنگ بھی اپنے دکھ کا اظہار نہ کر پاتا اگر پورے مغرب میں جارج فلائڈ جس کو گھٹنے کے نیچے دبا کر ہلاک کیا گیا اس کی موت پر ماتم نہ برپا ہوا ہوتا۔فلائڈ کے بہیمانہ قتل کے بعد بھی یہ سلسلہ اسی امریکہ میں ابھی رک نہیں سکا ۔ابھی پچھلے جمعہ کو امریکی شہر اٹلانٹا میں سیاہ فام رے سارڈ بروکس کے قتل کی پولیس پر فرد جرم عائد ہوئی ہے۔

کچھ سیاہ فاموں کا تجربہ بالکل الگ ہے۔ ٹوئٹر پر جن لوگوں کے ہم فالورز ہیں ان میں باراک اوبامہ بھی ہیں۔اس دفعہ انہوں نے فلائڈ کے لیے اپنے ٹویٹ کے ساتھ ایک آرٹیکل بھی اٹیچ کیا ہے جو ایمانی پیری نے The Atlanticکے لیے لکھا ہے۔وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں امریکن افریقن مطالعہ کے پروفیسر ہیں۔ان کا تجربہ مائیکل ہولڈنگ سے بالکل مختلف رہا ہے۔ وہ خود سیاہ فام ہیں اور کہتے ہیں مجھے زندگی میں کبھی سیاہ فام ہونا مسئلہ نہیں رہا میں اور میرے کزنز بچپن میں اپنی دادی اماں کے گھر شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے رنگ کی چمک پر فخر کرتے تھےاور اپنے بالوں کے گھنگھریالے پن اور ان کے پف بنانے پر ناز کرتے تھے۔ باراک اوبامہ بھی سیاہ فام ہیں اور انہوں نے ایک تاریخ رقم کی ہے کہ کس طرح ایک عام آدمی جو ہمارے ملک پاکستان کے ایک شہر میں اپنی ماں کے ساتھ عام سی زندگی گزار کر بڑا ہوا ،کیسے دنیا کا طاقتور ترین آدمی بنا۔

مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب کا شکار ہوئے اور اپنی کہانی سنا رہے تھے تو اصل کہانی آنسوؤں نے ہی بیان کی ۔ اس میچ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم اک ہاتھ میں سیاہ دستانہ پہن کر کھیلنے آئی اور گھٹنے ٹیکے جو جارج فلائڈ کو خراج اور ایک سلام تھا اس نسلی تعصب، اس استحصال اور اس رویے سے ویسٹ انڈیز سے لے کر ایسٹ انڈیز تک ہندوستان اور پاکستان کوئی بچ نہیں پایا۔ہندوستان میں دلت کے ساتھ جو ذلت آمیز سلوک کیا جاتا تھا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دلت سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی ٹکڑے کیا ہوا ہے ہم آج بھی لکڑی کے ٹکڑے کرنے کو پنجابی میں دلنا ہی کہتے ہیں اس کو قتل کرنے اور مارنے کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح ہریجن کا مطلب ہے ہری کی اولاد یعنی وشنو کا جنا ہوا ۔سنسکرت کا ویسے بھی مطلب ہے جس کی سنبھال کی کی جائے ،سن سنبھالنا اور کرت کرنا پراکرت جو پہلے کیا جاتا تھا جیسے ہم پنجابی پچھلے سالوں کو پر پرار کہتے ہیں۔پنجابی پراکرت کا ہی سنسکرت بنانے میں سب سے بڑا کردار ہے بلکہ میرا تھیسز ہے پنجابی پراکرت ہی زیادہ تر سنسکرت میں متشکل ہوئی۔

انڈیا کے اہم انقلابی لیڈر ۔آر اے امبیدکر نے سب سے پہلے ایک لیبر پارٹی بنائی جس میں ان لوگوں کو شامل کیا جنہیں ملیچھ کہا جاتا تھا یعنی The untouchables وہ خود مہر تھا مہر وہ کلاس تھی جس نے بدھ مذہب کو اختیار کیا تھا۔مہاشٹرا سارا ماہر یا مہر پر مشتمل تھا۔ یہ سری لنکا نیپال بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی موجود ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو آریاؤں نے غلام بنائے تھے۔میرا اپنا خیال ہے یہی وہ لوگ ہیں جو یہاں سے فرار ہو کر جنوب منتقل ہو گئے تھے، آریاؤں کے چار ورنوں میں دلت شامل ہی نہیں ہیں یعنی یہ شودر سے بھی نچلے سطح کے لوگ ہیں۔انڈیا میں بہر حال دلت کی صورت حال بہت بہتر ہے کیرالہ میں دلت لفظ کے توہین پر مبنی استعمال پر آئینی پابندی ہے، وہاں آزادی کے ساتھ ہی ہریجن دلت کو سیاست میں نمایاں مقام حاصل ہو گیا اس کی وجہ کانگریس کی لیڈرشپ کا بیک گراؤنڈ جاگیردارانہ نہ ہونا بلکہ مڈل کلاس کا ہونا تھا مگر ہمارے یہاں سارا جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والا طبقہ ہی مسلم لیگ میں آیا اور اس پر قابض ہو گیا ،اسی لئے ہی قائد کو کہنا پڑا کہ ان کے حصے میں کھوٹے سکّے ہی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انہی کھوٹے سکّوں نے ہی پاکستان میں اسلام کی جاگیرداری کے متعلق غلط تعبیروں کا آغاز کیا اور مذہب کو اپنے مقاصد اور دولت کے ارتکاز کے لیے استعمال کیا۔انڈیا میں پہلا دلت وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش ڈاموڈرم سنجے ویایا آج سے ساٹھ سال پہلے یعنی 1960-62 میں بنا تھا ۔دنیا کا امیر ترین دلت راجیش سرایا ہے جس کی یوکراین میں سٹیل مل ہے اس کی کل آمدنی 2000 کروڑ سے زائد ہے۔بی جے پی کا صدر رام ناتھ کوونڈ بھی دلت ہے۔کس کس کا نام لیں جوگندر ناتھ منڈل ہیں اور اشوک تنور ہریانہ کی کانگریس پارٹی کا صدر
رہا۔ شیام سندر جس نے بھارتی بھیم سینا کی بنیاد رکھی تھی مگر یہ سب درست سہی کیا مسلمانوں سے انڈیا میں جو سلوک ہو رہا ہے وہ جارج فلائڈ سے بھی المناک ہے وہاں دلت کو حقوق حاصل ہیں مگر مسلم کمیونٹی کو نہیں اسی لیے انڈیا کا سوشل میڈیا انڈین کرکٹرز گواسکر اور ٹنڈولکر وغیرہ سے پوچھ رہا ہے وہ دن کب آئے گا جب تم بھی دلتوں اور مسلمانوں کے حق میں بولو گے مائیکل ہولڈنگ کی طرح تم کب اشکبار ہو کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ گے۔

یہی سوال ہم پاکستانی اشرافیہ سے کریں گے وہ دن کب آئے گا جب آپ شیڈولڈ کاسٹ سے متعلقین اور ان کے حقوق کے لیے اٹھ سکو گے شاید کبھی بھی نہیں۔یاد رکھیے مشرق ہو یا مغرب یہ مرض ہر جگہ موجود ہے مگر بقول پرنسٹن یونیورسٹی کے ایمانی پیری کے شیڈولڈ کاسٹ یا سیاہ فامیت نہیں فقط نسلی تعصب خطرناک ہے!

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *