کشمیر:اے واک تھرو ہسٹری۔۔غازی سہیل خان

کشمیراے واک تھرو ہسٹری (kashmir a walk through history)خالد بشیر صاحب کی انگریزی زبان میں لکھی گئی تصنیف ہے۔خالد بشیر کا تعلق وادی ِکشمیر سے ہے۔ موصوف تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر وشاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسزکے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کتاب سے پہلے تاریخ کشمیر پر ان کی ایک اور کتاب بھی کشمیر ایکسپوزنگ دی میتھ بیہائنڈ دی نیریٹیو (kashmir exposing the myth behind the narrative)قارئین نے خاصی پسند کی ہے۔ مذکورہ کتاب میں انہوں نے کشمیرکی تاریخ کے چند واقعات کو منفرد انداز میں قلم بند کیا ہے۔کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے غیر ریاستی اور غیر مسلم مورخین کے حوالوں سے کشمیر کے چندتاریخی حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے اورچند ذیلی عنوانات کے تحت مختصر اور جامع انداز میں واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور سے ڈوگروں کے مظالم اور نیشنل کانفرنس کے قائدین کی دغا بازیوں کو بھی ضبط تحریر میں لایا گیا۔راقم بھی یہاں عناوین کی صورت میں کتاب کے حوالے سے چند گزارشات قارئین کی نذر کرتا ہے ۔

پہلا عنوان لاپتہ مسجد (the missing mosque) اس عنوان میں موصوف نے سرینگر شہر کی تخت سُلیمانی پہاڑی جس کو آج ہم شنکر اچاریہ کے نام سے جانتے ہیں ،پہ ایک مسجد کے وجود کو تاریخی حوالوں سے   ثابت کیا ہے۔تخت سُلیمانی یا کوہ سُلیمانی پہاڑی کانام کیسے بدل کر شنکر اچاریہ رکھ کروہاں ڈوگرہ دور میں ایک مسجد کے وجود کے خاتمے اور اس جگہ کو بھگوان شیو کے لئے وقف کرنے پہ تحقیقی انداز میں بات کی ہے۔ آج اسی کوہ سُلیمانی کو ہم شنکر اچاریہ پہاڑی کے نام سے جانتے ہیں جہاں ایک تاریخی مندر بھی موجود ہے یہ مندر زمین سے ایک ہزار فٹ کی بْلندی پرواقعہ ہے۔ اس پہاڑی سے سرینگرشہر اور ڈل جھیل کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔مصنف   نے غیر ریاستی اور انگریز مورخین کی تحاریر سے یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح اس جگہ پہ ایک مسجد ہوا کرتی تھی جس کا وجود تک آج نظر نہیں آ رہا ہے۔

دوسرا عنوان یاترا کی تاریخ (history of pilgrimage) اس عنوان کے تحت مصنف  نے امر ناتھ یاترا اور اس کے تاریخی پہلوؤں پہ روشنی ڈالی اوراس بات پر بھی خامہ فرسائی کی کہ کس طرح یاتراکو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔امر ناتھ گھپا سرینگر سے145/کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے،اس گھپا میں پانی کے قطرے ٹپکنے سے اندر ایک برف کا ٹکرا جم جاتا ہے جس کو ہندو لوگ شیو لنگم کہتے ہیں۔اسی یاترا کو اب مذہبی کے بجائے سیاسی رنگ دے کے زیادہ سے زیادہ یاتریوں کو اس گھپا کے درشن کرائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کشمیر میں ماحولیات پہ بُراثر پڑ رہاہے گلیشئرز پگھل رہے ہیں پانی آلودہ ہو رہا ہے ۔پندرہ دنوں پر چند سو افراد پہ مشتمل اس یاترا کی مدت آج دو ماہ تک پہنچائی گئی ہے اور یاتریوں کی تعداد لاکھوں میں ہوا کرتی ہے۔ یہ یاتری سندھ ندیوں کے منبع کولاہی اور تھجواسن گلئشیرز کے درمیان واقع امرناتھ گھپا کے درشن کرتے ہیں اور تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے آبی وسائل کے ساتھ ساتھ جنگلات کی تباہی کا سبب بن رہے   ہیں ،بایں ہمہ کشمیر یوں نے اس یاترا کو وقت کے حکمرانوں کی اور سے مذہب سے زیادہ سیاسی رنگ دینے کے باوجود ان شردھالوں کی میزبانی کا وقتاً فوقتاً بہترین حق ادا کیا ہے تاریخ اس کی گواہ ہے۔

اسی طرح سے تیسرے عنوان جموں میں قتل عام(jammu massacres)میں 1947ء کے دلدوز واقعات کا ذکر چھیڑا گیا ہے جس میں نیشنل کانفرنس کے قائدین کی دغا بازیوں کی خوب خبر لی ہے۔تقسیم ہند کے بعد جموں شہر کے مسلمانوں کو یہ کہتے ہوئے گاڑیوں میں لادا گیا کہ ان کو پاکستان بھیج دیا جائے گا لیکن اْن معصوم اور نہتے مسلمانوں کو راستے میں ہی گولیوں، تلواروں اور چھریوں سے تہ تیغ کیا گیا اور ان کی لاشوں کو دریا بْرد کرنے کے علاوہ نذر آتش بھی کر دیا گیا۔موصوف نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ (ترجمہ)جموں کے شہر ادھمپورمیں 25/اکتوبر عید کے دن مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔سینکڑوں افرد پریڈ گراونڈ میں جمع تھے اور اْن کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا موت یا ہندو مذہب  ۔بہت سوں کو قتل کر دیا گیا۔اس قتل عام میں سے چند زندہ بچ جانے والوں میں وزیرہ بیگم کا کہنا تھا کہ بچوں کے انگ انگ کو چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں تقسیم کر کے کھانے کے ساتھ ملا کے پکایا گیااور یہ کھانا ان زندہ بچ جانے والوں کو کھلایا گیا وزیرہ بیگم کا کہنا ہے کہ میں نے کھانے میں بچوں کی انگلیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دیکھے۔اسی طرح  سے چودھری عبداللہ خان کی بیٹی رضیہ بیگم کو ٹھاکر بلون سنگھ کا اغوا کرنا او ر پھر زبردستی شادی رچانے کا دلدوز سانحہ بھی اس کتاب میں درج ہے۔

چوتھے عنوان میں خون ریزی کے عینی شاہدین (eyewitnesses to bloodshed) 1947ء میں جموں میں ہوئے قتل عام کے عینی شاہدین کی دردناک کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان عینی شاہدین میں کرشن دیو سیٹھی،وید بھیم،پروفیسر عبدالعزیز بٹ،چودھری شبیر احمد سلیری،محمود احمد خان،بلراج پْری،چودھری فتح محمد،خواجہ عبدالرف،وزیرہ بیگم،حاجی محمد بشیر،جمال الدین عبدالرشید کنتھ نے تقسم کے بعد کی روح فرسا کہانیاں بیان کی ہیں۔وزیرہ بیگم نے قتل عام کے بعد جموں میں زندہ بچ جانے والے مسلمانوں کے ایک کیمپ میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے دورے کے دوران ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ (ترجمہ)”جب مرحوم شیخ عبداللہ زندہ بچ جانے والے مسلمانوں کے کیمپ میں گئے تو وہاں مسلمانوں نے اْن پہ مظالم کا تذکرہ کیا جس کے جواب میں شیخ عبداللہ نے کہا کہ یہ سب کچھ جموں کے مسلمانوں کے ساتھ ہونا ہی تھا کیوں کہ انہوں نے مجھے کبھی اپنا لیڈر تسلیم ہی نہیں کیا۔اس نے لوگوں کو پاکستان بھیجنا شروع کر دیا۔حمید اللہ اور ڈاکٹر گوہر الرحمان کو جیل سے نکال کر آنکھوں پہ پٹی باندھ کے پاکستان روانہ کر دیا گیا۔میرے ماموں اقبال بٹ کو بھی آنکھوں پہ پٹی باندھ کے پاکستان بھیج دیا۔“

پانچویں عنوان میں جناح اور کشمیر(jinnah and kashmir)میں قائد اعظم محمد علی جناح کے کشمیر میں مختلف نوعیت کے دورے جس میں خاص طور پہ1944ء کے دورے کا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کا قائداعظم کے لیے الگ لگ جلسے کرنے اور بارہمولہ میں مسلم کانفرنس کی طرف سے منعقدہ ایک جلسہ تقریرکے دوران نیشنل کانفرس کے کارکنوں جن کی قیادت مقبو ل شیروانی کر رہے تھے نے قائد اور مسلم کانفرنس کے خلاف نعرے بازی کرنا وغیرہ کا واقعہ بھی صفحہ قرطاس پہ بکھیر کے کشمیر کی خونی تاریخ کا ایک حصہ بنا دیا ہے۔

چھٹے عنوان میں  آسکرپٹیڈ تنا زعہ(a scripted controversy)میں اُردو زبان کے خلاف روز اول سے ہی سازشوں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ1982ء میں ایک اسمبلی ممبرمرحوم غلام احمد شنٹو کا اسمبلی میں اُردو زبان کے حق میں تقریر کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مرحوم کو شہیداُردو کے لقب سے یاد کیا ہے۔واضح رہے جموں و کشمیر میں روز اول سے ہی اُردو زبان و ادب کے خلاف دیس نکالے کے لئے سازشیں رچائی جا رہی ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔

کتاب کا ساتواں عنوان ایک صدی کی یادیں (recollections if century)میں محمد صدیق پرے مرحوم جس نے اپنی سو سالہ زندگی کے چند واقعات کو بیان کیا ہے جس میں خاص طور پر شیخ محمد عبداللہ اور ہنری نیڈو) Nedou (Henry ایک یورپی نژاد کا ذکر شامل ہے۔ ہنری نیڈوکا ٹنگمرک میں ایک گوجر لڑکی سے شادی کے بعد کلمہ پڑھنے کے واقعہ کو بھی ضبط تحریر میں لایا ہے۔موصوف ہنری نیڈو ایک مغربی نژاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ(ترجمہ)”ہنری اْن تین افراد میں تھا جن کو مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اْنیسویں صدی میں یہ کہہ کے کشمیر لایا تھا کہ وہ گلمرک اور سرینگر میں برطانوی سیاحوں کے لئے ہوٹلوں کی تعمیر کریں۔ہنری کا کام یہاں گلمرک سے گوجر طبقے سے تازہ دودھ حاصل کرنا تھا اسی دوران ہنری کو میر جہاں نام کی ایک گوجر لڑکی پہ دل آگیا۔اس دوران ہنری نے اس کو پیغام بھیجا جس کو میر جہاں نے یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ تم غیر مسلم ہو،تاہم میر جہاں نے ایک شرط ہنری کو رکھی کہ میں تب آپ سے شادی کروں گی اگر آپ اسلام قبول کریں گے،محبت میں مجبور ہنری نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام شیخ احمد حْسین رکھ لیا اور رانی سے شادی رچائی۔“پھر اسی ہنری سے میر جان کی ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام اکبرجہاں تھا جس کی بعد میں شیخ محمد عبداللہ سے شادی ہوئی ہے۔

کتاب لکھنے میں جہاں موصوف نے عرق ریزی سے کا م لیا ہے وہیں کتاب کے مطالعہ کے دوران کتاب کے تیسرے عنوان کو پڑھنے کے بعد چوتھا عنوان غیر ضروری محسوس ہوا۔ان دونوں عناوین میں تکرار بھی محسوس ہوئی۔موصوف نے کتاب کے تیسرے  باب میں جموں میں قتل عام کے دلدوز واقعات کا تذکرہ کیا اور چوتھے  باب  میں بھی وہی واقعات عینی شاہدین کی زبانی بیان کئے ہیں جو کہ غیر ضروری محسوس ہوتے ہیں۔چونکہ چودھری غلام عباس کی تقسیم ہند اور اس سے پہلے کی زندگی کشمیر میں سیاسی جدوجہد کے حوالے سے عظیم قربانیوں سے عبارت ہے لیکن محترم موصوف نے اُن کی جدوجہد کو اُس انداز میں شامل کتاب نہیں کیا ہے جس انداز سے اُن کی جدوجہد و قربان تقاضا کرتی ہے جس کی   کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔تاہم ان چند کمیوں کے باوجودکتاب میں واقعات کے عینی گواہان اور مورخین کے ساتھ ساتھ کشمیر کی تاریخی جگہوں کی تصاویر نے بھی کتاب کو زینت بخشی ہے۔ ضمیمہ میں بھی واقعات اور تاریخی بیانات وغیرہ کا تفصیلاًتذکرہ شامل کتاب ہے۔کتاب کا دیدہ زیب ٹائٹل جس پر چنار کا پتہ کشمیر کی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے اور کتاب کے بیک کور پہ مصنف کی افغانی ٹوپی کے ساتھ تصویراور مختصر تعارف نظروں کو اچھا لگتا ہے۔کتاب کاپہلا ایڈیشن گلشن بْکس سرینگرکشمیر نے 2018ء میں شایع کیا ہے اور کتاب کی قیمت 595/روپے ہے جو کہ زیادہ ہے۔مجموعی طور پہ مذکورہ کتاب کشمیر کی خونی تاریخ کے چند اہم واقعات پہ ایک بہترین تصنیف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *