• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انقلاب فرانس: سیاسی اور سماجی ارتقاء کا نقیب(حصہ اوّل)۔۔ڈاکٹر طاہر منصور قا ضی

انقلاب فرانس: سیاسی اور سماجی ارتقاء کا نقیب(حصہ اوّل)۔۔ڈاکٹر طاہر منصور قا ضی

ہر انقلاب اپنی ماہیت میں داستان در داستان ہوتا ہے۔ یہ بات فرانس کے انقلاب پر بھی صادق آتی ہے۔ 14 جولائی 1789 کو انقلاب فرانس کا نقارہ بجا۔ انقلاب کے وقت فرانس پر بادشاہ لوئی سولہ کی حکومت تھی۔ اس دن شام کے وقت محل میں بادشاہ کے مصاحب نے دن بھر کے واقعات بادشاہ کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی تو بادشاہ نے اسے درمیان میں ٹوک دیا۔ ہاں، ہمیں معلوم ہے کہ شہر میں فسادات ہو رہے ہیں۔ بادشاہ کے مصاحب نے دھیرے سے جواب دیا۔ نہیں عالی پناہ، یہ فسادات نہیں، یہ انقلاب ہے۔ اس قصے میں کتنی حقیقت ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ تاہم اس سے یہ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ بادشاہ کے مصاحب کی سیاسی اور سماجی فہم بادشاہ سے کہیں زیادہ تھی۔

پیرس میں بستیل کا قلعہ ایک بدنام جیل تھا جہاں مجرموں اور بادشاہ کے مخالفین کو تشدد کے لئے لایا جاتا تھا۔ 14 جولائی کو وہاں صرف سات قیدی تھے اور ایک اسلحہ خانہ تھا۔ اس دن پیرس کے عوام نے صبح سے بستیل قلعے کا محاصرہ کر لیا تھا۔ بعد دوپہر عوام اور باغی سپاہیوں نے مل کر قلعے پر حملہ کیا، وہاں سے اسلحہ لوٹا اور قیدیوں کو آزاد کروایا۔ بادشاہ کی شاہی فوج کے دستے نے قلعے کے بہت قریب ڈیرے ڈال رکھے تھے مگر انہوں نے باغیوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ باغی عوام نے پیرس کے گورنر کا سر کاٹ کر اس کو ایک سلاخ کے اوپر چڑھایا اور دن بھر شہر میں جلوس کی شکل میں پھراتے رہے۔ تاریخ میں فرانس کے انقلاب کی شروعات کو عام طور سے اسی دن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ دن تو تاریخ لکھنے کے لئے صرف ایک حوالہ ہے ورنہ انقلاب نہ تو ایک دن میں شروع ہوتا ہے، نہ ایک دن میں مکمل ہوتا ہے ، نہ  اس کے نتائج ایک دن میں ظاہر ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے ثمرات ایک دن میں پھوٹتے ہیں۔ انقلاب فرانس کی کہانی بھی دنیا کے باقی سارے انقلابات کی طرح ہے۔

انقلاب فرانس کو سوا دو صدیوں سے بھی زیادہ زمانہ گزر چکا ہے مگر اس انقلاب کی باز گشت ابھی تک فضاؤں میں ہے۔ اس انقلاب سے بساط عالم پر ظاہر ہوا کہ روشن خیالی کا فلسفہ سماج کے تاریخی جبر کا تدارک ہے۔ اس انقلاب کے پہلے چند سال سیاسی طور پر معتدل اور روشن خیال تھے۔ اس حد تک کہ آج کی دنیا کے سیاسی اور سماجی انتظام و انصرام کے چشمے وہیں سے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔

آنے والے چند سالوں میں 1794 تک قہر ،تشدد اور قتل و غارت کی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں۔ خوف و ہراس کی فضا نے انقلاب کے راہنماؤں اور عوام کے اعصاب مضمحل کر دیے اور تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اس دور کا اختتام اس وقت ہوا جب انقلاب کے بہت بڑے داعی میکس میلاں روبے سپئر کو سر قلم کرنے والی مشین گلوٹین کی نذر کیا گیا۔ اس وقت عوام انقلاب کی وحشت سے تنگ آ کر اطمینان اور سکون کوترجیح دینے لگے۔ اور پھر چند ہی سالوں کے اندر انتظامی پالیسی کی سطح پر انقلابی اصلاحات کو اس وقت پا بہ زنجیر کر دیا گیا جب نپولین نے 1799 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ پہلے پہل نپولین کے اقتدار پر قبضے کو یورپ میں بہت پذیرائی ملی۔ پھر اسی نپولین نے فرانس کی سرحد سے باہر نکل کر پورپ میں طالع آزمائی کی تو یورپی طاقتوں نے نپولین کی بادشاہت کو بھی انقلاب کی باقیات میں شامل کر دیا۔ اس کا ذکر آخر میں آئے گا۔

مذہبی اداروں یعنی چرچ، سیاسی اشرافیہ اور بادشاہت کے اختیارات اور ان سب گروہوں کا آپس میں مل کر عوام کو زیر نگیں رکھنا فرانس کی تاریخی حقیقت تھی اور باقی یورپ کی تاریخ کا حال بھی ایسا ہی تھا۔فرانس کے انقلاب میں عوامی آزادی، برابری اور اخوت جیسے نظریات کے خدوخال واضح ہوئے جن سے پورے یورپ میں بادشاہت کے خاتمے کی سیاسی لہر اٹھتی نظر آنے لگی۔ اس وجہ سے فرانس کے انقلاب میں ان نظریات کا عملی مظاہرہ یورپ کی تمام بادشاہتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھا۔ لہٰذا ان نظریات اور اس کے عملی اظہار کا وہیں قلع قمع کرنا باقی بادشاہتوں کا مطمع نظر ٹھہرا۔ جیسے ہی کسی جگہ انقلاب آتا ہے، اسی طرح وہیں ایک اور سماجی فضا بھی تیار ہو جاتی ہے جسے “کاونٹر ریولیوشن” کہتے ہیں۔ انقلابات عالم کی یہ بھی ایک مشترکہ خصوصیت ہے۔ فرانس کے اندر بھی مذہبی اداروں، اشرافیہ اور پرانے بادشاہ کے حواریوں نے کاؤنٹر ریولیوشن کو ہوا دی۔

فرانس کی پرانی اشرافیہ کا ایک رکن چارلس ٹیلی  رینڈ   Talleyrand جو اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا اور آٹن کا بشپ رہ چکا تھا۔ اس کے بارے میں یورپ کے حکومتی حلقوں میں کہا جاتا تھا کہ یہ شخص وہ سانپ ہے جس نے اپنی کینچلی بدل رکھی ہے۔ یہ بات ٹیلی رینڈ کی چالبازیوں کی وجہ سے تھی۔ انقلاب کے بعد اس کا فرانس میں رہنا مشکل ہو چکا تھا۔ اس نے 1792 میں برطانیہ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ نپولین کے بادشاہ بننے کے بعد برطانیہ اور یورپ کی دوسری بادشاہتیں ٹیلی رینڈ کی معرفت ڈپلومیسی کی باتیں کرنے لگے ،تا کہ یورپ کے سیاسی مستقبل کا نقشہ بنایا جاسکے جس میں فرانس کی طرح کا انقلاب برپا نہ ہو سکے۔

ان حوادث و واقعات کے ساتھ یہ بھی پیش نظر رہے کہ سوا دو سو سال گزرنے کے بعد بھی فرانس کے انقلاب کی داستان تازہ ہے۔ اس انقلاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں واقعات کی ترتیب سے زیادہ ان تفصیلات کی ضرورت ہے جن سے انقلاب کی ماہیت کو سمجھنے میں مدد ملے اور دنیا کے دوسرے انقلابات کا مطالعہ فکر انگیز ہو سکے۔

انقلاب فرانس کو شیکسپئر کے ڈرامے کی طرح دیکھا جا سکتا ہے کہ جس میں ہر موڑ پر ڈرامے کے اندر سے ہی ایک نئی کہانی پھوٹی ہے جس کے آگے کئی ممکنات ہوتے ہیں۔ اسی طرح انقلاب فرانس کے کسی بھی مرحلے پر کوئی اتفاقی واقعہ یا حادثہ انقلاب کی کوئی ایسی راہ متعین کر سکتا تھا جس کے نتیجے میں فرانس یا دنیا کی تاریخ آج کی تاریخ سے بالکل مختلف ہوتی۔

تاریخ کے اس پہلو دار اور اہم انقلاب کے اسباب اٹھارویں صدی کے اواخر میں کچھ اِس طرح سے یکجا ہوئے کہ وہ دانشور جو تاریخ کو آئیڈیالوجی کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کی بات میں ایک سچائی ضرور ہے مگر انقلاب کی تصویر ادھوری رہتی ہے۔ اور وہ دانشور جو مادی اور سماجی اسباب سے انقلابِ فرانس کی توجیح کرتے ہیں اُن کے دلائل سے بھی صرف نظر مشکل ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کوئی آئیڈیالوجی اپنی ذات میں طاقت صرف اس وقت بنتی  ہےجب وہ سماج کے اندر اپنی قوت کا مظاہرہ کر سکے۔ آئیڈیالوجی کو سماجی قوت بننے کے لئے تاریخ اور معاشرے کے کن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی تفصیل کبھی پھر سہی، مگر ہمارے بہت سے دانشور شاید وِل ڈیورنٹ کی کتاب “روسو اور انقلاب” کے عنوان سے اتنے زیادہ متاثر ہیں کہ وہ روسو کے نظریات کو انقلاب فرانس کی بنیاد قرار دیتے ہیں یا صرف نظریاتی سوجھ بوجھ کو ہی انقلاب کی پہلی اور آخری وجہ گردانتے ہیں۔ یہ بات تاثراتی ہے اور خام خیالی ہے، اور نہ ہی تاریخی دلیل کے پیمانے پر پوری اترتی ہے۔ انقلاب کے بہت بڑے داعی کارل مارکس کے نظریات سے متاثر کئی دانشوروں کے خیالات میں بھی یہی سقم موجود ہے جس کی وجہ سے مارکس کو یہ کہنا پڑا تھا کہ “میں مارکسسٹ نہیں ہوں”۔ اس بات کا ذکر یہاں صرف ضمنی طور پر ہے، انقلاب فرانس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

بات انقلاب فرانس کی ہو، روسی یا ایرانی انقلاب کی، ان سب کے مطالعے سے واضح ہے کہ انقلاب کے دورانیے میں جو بہت سے موڑ آتے ہیں ان پر آئیڈیالوجی اپنی شکل اس قدر بدلتی ہے کہ اگلے موڑ پر کبھی تو بالکل ہی مختلف ہو جاتی ہے۔ ایک موڑ پر کوئی ایک اور دوسرے پر کوئی اور آئیڈیالوجی زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔

ہم نے ابھی کہا ہے “انقلاب کا دورانیہ” ۔ یہ ایک بنیادی نکتہ ہے جو انقلاب کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سماجی انقلاب کوئی ایک واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک عرصے پر محیط واقعات کی ایک لڑی ہوتی ہے جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ اسباب انقلاب
2۔ انقلابی سر گرمی یا جنون
3۔ انقلاب کے نتائج
عام طور پر تاریخ دان انقلاب فرانس کو 1789 سے 1799 کے دس سالہ دورانیے پر بیان کرتے ہیں مگر کئی معتبر تاریخ دان اس پر متفق نہیں۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ انقلاب فرانس کے پیچھے یا اس سے پہلے اسباب کی ایک لمبی لسٹ ایک عرصے پر محیط تھی۔ انقلاب فرانس کو سمجھنے کے لئے 1789 میں فرانس کی سوسائٹی کو ایک نظر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اُس وقت فرانس کی سوسائٹی میں تین طبقات تھے جنہیں “اسٹیٹ” کہا جاتا تھا۔ پہلی اسٹیٹ پادری یا چرچ تھی۔ ان کے پاس فرانس کی 10 فیصد زمین تھی۔ ان کے پاس عام آدمی کی دو وقت کی روٹی تک کا استحصال کرنے کے لئے مختلف اقسام کے ٹیکس لگانے کی اجازت بادشاہ کی طرف سے مرحمت کی گئی تھی۔ پادری ان اختیارات کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ بادشاہ لوئی سولہ کے زمانے میں پورے فرانس میں ایک بھی “بِشپ” ایسا نہیں تھا جو عوام میں سے چرچ کے اس اعلیٰ عہدے پہ فائز ہوا ہو۔ تمام کے تمام بشپ اشرافیہ سے آئے تھے۔ چھوٹے عام پادری بھی تھے جو اپنی مذہبی خوش گمانی میں خود بھی بشپ کے نظام کے ذریعے چرچ کی مالی اور معاشرتی دراز دستی کا شکار بھی تھے اور آلہ کار بھی۔

دوسری اسٹیٹ فیوڈل اشرافیہ تھے۔ اشرافیہ اور پادری دونوں ملا کر آبادی کا تین فیصد تھے اور ان کے ہاتھوں میں فرانس کے 45 فیصد زرعی وسائل تھے۔ اسی فرانس میں وہ تیسری اسٹیٹ بھی بستی تھی جو 97 فیصد عوام پر مشتمل تھی، اُن پر ٹیکس، عشرہ، ٹیتھ، کرایہ تقریبا ً پندرہ قسم کے ٹیکس تھے بلکہ انہیں مزید ٹیکس عائد کرنے کی آزادی بھی تھی اور وہ ان کی باریابی کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر سکتے تھے۔ انقلاب سے پہلے تو بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ شوقیہ کبوتر پالنے پر بھی ایک ٹیکس تھا۔

تیسری اسٹیٹ کے عوام کو تین حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے:
بوژوا — جن میں تاجر، ڈاکٹر، وکیل اور دیگر پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے لوگ تھے۔ دوسرے گروپ کو “سانس کولات Sans Cullote” کہا جاتا ہے۔ یہ شہری ورکر تھے جنہوں نے انقلاب برپا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اسی گروپ نے بعد میں انقلاب کی تشدد آمیز کاروائیوں میں بہت بڑا حصہ لیا۔ تیسرے گروپ میں عام کاشت کار تھے جن کے پاس فرانس کی زمین کا قریباً 55 فیصد حصہ تھا،مگر یہ سب لوگ ٹیکس کے نظام میں  بری طرح جکڑے ہوئے تھے اور جب بھی فصل خراب ہوتی یہ لوگ سستے مزدورں کے طور پر شہروں کا رخ کرتے۔ اگر خوش قسمتی سے ان لوگوں کو کوئی کام مل جاتا تو ان کے لئے چار دن اور جینے کا سہارا ہو جاتا۔

اس نظام کے اندر امراء کی آسائشوں اور عیاشیوں کے بعد جو پیسہ حکومتی اخراجات کے لئے بچتا وہ آہستہ آہستہ کم سے کم تر ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ 1786 میں حکومت کا دیوالیہ نکلنے والا تھا۔ مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ وزیرِ خزانہ کیلون کو دیوالیہ پن کی بری خبر بہ امر مجبوری بادشاہ کے گوش گزار کرنی ہی پڑی۔

فرانسیسی خزانہ خالی ہونے میں جہاں امراء کی عیاشیوں کی ایک لمبی فہرست ہے وہیں یورپی جنگوں میں فرانس کی مداخلت کا بھی ایک بڑا ہاتھ ہے جس سے خزا نے پہ اضافی بوجھ پڑا۔ انسانی تاریخ میں ماسوائے چند جنگوں کے یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ و جدل مالی منافع  کے لئے ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ فتح سے ہمکنار ہو جائے۔

اس تناظر میں جب خزانہ خالی ہو گیا تو تینوں اسٹیٹ  کے خصوصی نمائندگان کی کانفرنس بلائی گئی تا کہ نظام کی اصلاح کی جا سکے۔ 1787 میں بلائی گئی یہ کانفرنس بری طرح سے ناکام ہوئی کیونکہ خزانے اور مالیات کا وزیر امراء اور اشرافیہ کی دولت پر ٹیکس لگانا چاہتا تھا۔ تیسری اسٹیٹ کے تمام عوام اس تجویز کے حق میں تھے جبکہ فیوڈل اشرافیہ اور چرچ دونوں کو ٹیکس دینا نامنظور تھا۔ اسی تجویز کے دوسرے حصے میں وہ فیوڈل امراء کی زمینوں اور غرباء کے چھوٹے چھوٹے رقبوں پر بھی ٹیکس عائد کرنا چاہتا تھا ۔ اس خیال کو تینوں کلاسوں نے مسترد کر دیا۔ اس کانفرنس کے بعد وزیرِ خزانہ کیلون کو برطرف کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ ان واقعات کے تناظر میں کارل مارکس کا کہنا یاد آتا ہے کہ انقلاب معاشرے کے اندرونی تضاد کو ظاہر کرتا ہے جو وقت گزرنےکے ساتھ “دولت بنانے والی قوتوں” اور “سماجی رشتوں” کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔ انقلاب کے چند ابتدائی طالب علموں کے لئے ہو سکتا ہے کہ یہ اصطلاحات نئی ہوں۔ اس لئے انہیں علیحدہ سے سمجھنا ضروری ہے۔ اس موضوع   کو ہم یہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اس پر گفتگو ہمیں کسی اور طرف لے جائے گی۔

وزیر خزانہ کیلون کی ملک بدری کے بعد نئے آنے والے وزیر خزانہ کے ایماء پر اکٹھی ہونے والی اسمبلیاں بھی بے نتیجہ رہیں۔ بالآخر 3 مئی 1789 کو تمام اسٹیٹ نمائندوں کو “جنرل اسمبلی” میں ایک بار پھر اکٹھا کیا گیا۔ یہاں فرانس کے قومی نظام میں اصلاحات کے بارے میں فیوڈل اشرافیہ اور چرچ کا رویہ تو ایک طرف رہا ، اس بات پر بھی اتفاق نہ ہو سکا کہ ووٹ کی نوعیت کیا ہو گی۔ تیسری اسٹیٹ کے نمائندے جو تعداد میں 1200 کے قریب تھے جمہوری گنتی کے حق میں تھے جبکہ جاگیردار اور چرچ ایک اسٹیٹ ایک ووٹ کا اصول منوانے پر مُصر تھے جس سے وہ دونوں مل کر تیسری اسٹیٹ یا عوام کے اوپر اپنی مرضی لاگو کر سکتے تھے۔ یہ کانفرنس اور اسی طرح کی دیگر کانفرنسوں کی ناکامی نے عوام اور اس کے نمائندوں کو اصلاحات کی بجا ئے انقلابی بغاوت پر مجبور کر دیا۔

تیسری اسٹیٹ کے عوامی نمائندوں نے مجبوراً شاہ لوئی سولہ کے ٹینس کورٹ کو اسمبلی کا مقام قرار دیا کیونکہ انہیں اسمبلی کی اصل عمارت سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ بادشاہ کے ٹینس کورٹ میں انہوں نے خود کو عوامی اور قومی اسمبلی قرار دیا اور فرانس کو ایک نیا آئین دینے کا حلف بھی اٹھایا۔ واضح رہے کہ اس اسمبلی میں جاگیرداروں یا چرچ کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔

اسی ضمن میں ایبے سیعس Abbe Sieyes کی معرکۃ الآ راء نے تیسری اسٹیٹ کا مقدمہ بڑی چابک دستی سے لڑا تھا۔ سیعس کہتا ہے:
“1۔ تیسری اسٹیٹ کیا ہے؟ ہر چیز ہی تیسری اسٹیٹ ہے۔
2۔ آج تک کے سیاسی نظام سے اسے کیا مل سکا؟ بالکل کچھ بھی نہیں۔
3۔ تیسری اسٹیٹ آخر کیا چاہتی ہے؟ یہ سیاسی اور سماجی نظام میں کچھ بننا چاہتی ہے۔ ” یعنی اپنا حصہ چاہتی ہے۔

سیعس نے اعلان کیا، ” تاریخ ہمیں اس موڑ پر لے آئی ہے کہ تیسری اسٹیٹ سماج کے اندر ہر چیز ہے اور اشرافیہ کیا ہے؟ اشرافیہ کی حیثیت ایک لفظ سے زیادہ نہیں ہے ۔۔۔ سماجی نظام کے اندر مراعات یافتہ گروپوں کی کیا صورت ہے؟ یہ گروپ کینسر جیسا موذی پھوڑا ہیں جو تکلیف دیتا ہے اور جو بیمار اور کمزور جسم کی طاقت کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ اس مراعات یافتہ پھوڑے کا تدارک کرنے کی شدید ضرورت ہے”۔

سو ، 14 جولائی 1789 کو پیرس کے تاجروں اور عوام نے بستیل کا قلعہ جس کا ذکر شروع میں آ چکا ہے اس پر حملہ کر کے قیدی رہا کروا لئے اور اسلحہ لوٹ لیا۔ اس طرح 14 جولائی کا دن تاریخ دانوں کے نزدیک انقلابِ فرانس کی صبحِ اوّلیں قرار پایا بے شک کہ انقلابی صورت حال اس سے بہت پہلے مختلف شکلوں میں موجود تھی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”انقلاب فرانس: سیاسی اور سماجی ارتقاء کا نقیب(حصہ اوّل)۔۔ڈاکٹر طاہر منصور قا ضی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *