آیا صوفیہ کی آزادی۔۔اورنگ زیب وٹو

رجب طیب اردوان کا جمہوریہ ترکی ایشیا اور یورپ کی سرحد پر واقع ایک عظیم الشان ملک ہے جس میں چھے کروڑ سے زائد ترک مسلمان آباد ہیں۔ترک قوم یورپ سے لے کر روس تک اور مشرق وسطیٰ سے لے کر چین کی سرحد تک آباد ہے اور آج ترک نسل سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد سترہ کروڑ سے زیادہ ہے۔تاتاری، مغل ،خلجی تغلق اور عثمانی سب ترک نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ترکوں کو پہلی دفعہ سیاسی اہمیت آٹھویں صدی عیسوی میں خلیفہ معتصم باللہ کے دور میں ملی جب اس نے عباسی فوج اور اقتدار سے فارسی اثر ورسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی۔ترک قبائل آہستہ آہستہ اپنی طاقت اور اقتدار میں اضافہ کرتے چلے گئے اور عثمانی سلطنت کے قیام سے پہلے بھی کئی چھوٹی ترک ریاستیں قائم ہوئیں۔ترکوں کے عروج کا سلسلہ تیرہویں صدی عیسویں میں عثمانی سلطنت کے قیام کے ساتھ ہوا جس کا بلند ترین مقام 1453 میں بازنطینی سلطنت کے دارلحکومت قسطنطنیہ کی فتح تھا۔عثمانی سلطنت کا عروج اگلی صدیوں میں بڑھتا گیا اور سلطان سلیمان قانونی کے دور میں عثمانی اقتدار کی سرحدیں ایشیا، افریقہ اور یورپ تک پھیل چکی تھیں۔سلطنت عثمانیہ نے مشرقی یورپ،افریقہ اور مشرق وسطی پر اسلامی پرچم لہرایا اور اس عظیم سلطنت کا سربراہ خلیفة الاسلام کہلاتا تھا۔عثمانی ترکوں کے ہاتھ میں نہ صرف عالم اسلام کی سیاسی رہنمائی تھی بلکہ مذہبی طور پر بھی خلیفہ پوری اسلامی دنیا کا راہنما سمجھا جاتا تھا۔مسلمانوں کے مقامات مقدسہ جن میں مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ اور بیت المقدس شامل تھے صدیوں تک عثمانی خلافت کا حصہ رہے۔ سلطنت عثمانیہ کے عروج کے دوران آبناۓ باسفورس سے لے کر بحر ہند تک اور دریاۓ نیل سے لے کر شاہراہ ریشم تک بحری اور بری راستے ترکوں کے زیردست رہے اور عثمانی بحریہ سمندروں کے ساحلوں اور بندرگاہوں پر راج کرتی رہی۔عثمانیوں کی سمندری فوج خضر خیرالدین باربروسا کی کمان میں دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت رہی۔اسی طرح عثمانی فن تعمیر نے نیلی مسجد، سلطان سلیم مسجد اور توپ کاپی محل جیسے عظیم شاہکار تعمیر کیے۔عثمانی دور میں ترکوں نے زندگی کے ہر شعبے میں ایسا عروج دیکھا جو کسی اور سلطنت یا ریاست کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔اس دور میں جب فرانس اور انگلینڈ جاگیرداروں اور مذہبی رہنماٶں کی آماجگاہ تھے اور پورا یورپ فرقہ وارانہ اور سیاسی خانہ جنگیوں میں گھرا ہوا تھا، ترک اپنی تاریخ کی عظیم کامیابیاں سمیٹ رہے تھے۔سترہویں صدی کے آغاز میں انگریز ڈرامہ نگار شیکسپئر اور کرسٹوفر مارلو اپنی کہانیوں میں ترکوں کا ذکر بطور فاتحین کرتے اور یورپ عثمانیوں کو اپنی بقا۶ کے لیے ایک عظیم خطرے کے طور پر دیکھتا رہا۔ صدیوں تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا اور سلطنت عثمانیہ عروج و زوال کے مراحل طے کرتے ہوۓ بالآخر بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی جنگ عظیم کے بعد بکھر گئی اور اس سے ملحقہ تمام علاقوں کو جنگ کے فاتحین امریکہ برطانیہ اور اٹلی نے اپنی کالونیاں بنا لیں اور کچھ علاقوں میں نام نہاد آزاد قومی ریاستیں قائم ہو گئیں۔ترکی بھی ایک آزاد ریاست کے طور پر سامنےآیا اور اسکی قیادت قوم پرست فوجی جرنیل مصطفیٰ کمال کے ہاتھوں چلی گئی۔مصطفیٰ کمال نے پندرہ برس تک ترکی پر آمرانہ حکومت کرتے ہوۓ ترک قوم کی خواہشات کے برعکس یورپی تصور زندگی کو نافذ کرنے کی کوشش میں ترکی کے سیاسی،ثقافتی، معاشرتی اور اخلاقی نظام پر استعماری حملے کیے اور مغربی جدیدیت کو ایک اسلامی تہزیب کے آئینہ دار ملک پر تھونپ دیا۔کمال نے اپنے حامی جرنیلوں کے ساتھ مل کر سب سے پہلے عثمانی خلافت کو ختم کیا اور اس کی جگہ مغربی پارلیمانی نظام نافذ کر دیا۔کمال نے عثمانی قوانین ختم کیے اور ایک یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کے سول کوڈ کے نمونے پر ترکی کا قانون بنایا۔اسی طرح ترکی کا پینل کوڈ 1924 سے 1937 کے درمیانی عرصے میں اٹلی کے پینل کوڈ کو سامنے رکھتے ہوۓ منظور کیا گیا۔۔ ۔کمال نے ترک قوم جو 99 فیصد کے قریب مسلمانوں پر مشتمل تھی،کو یورپی لباس پہننے پر مجبور کیا۔ترکی میں ہیٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا اور ترکی ٹوپی پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔99 فیصد مسلمان آبادی رکھنے والے ملک میں علما کے دستار پہننے پر پابندی لگا دی گئی اور ترکوں کو مغربی لباس اور ہیٹ پہننے پر مجبور کیا گیا۔1929 میں ترکی میں پہلا مقابلہ حسن منعقد کروایا گیا جس میں فرح توفیق پہلی مس ترکیہ منتخب ہوئیں۔خواتین کو سکرٹ اور جینز پہننے کی ترغیب دی گئی۔حجاب پر پابندی عائد کر دی گئی اور شراب پر لگائی گئی پابندی ہٹا لی گئی۔مصطفیٰ کمال اور اقتدار پر قابض اس کے حامی جرنیلوں نے بندوقوں کے ساۓ میں ترک قوم کو عربی کی بجاۓ ترکی زبان میں اذان دینے پر مجبور کیا اور عربی میں اذان غیر قانونی قرار دے دی گئی۔کمال اور اس کے حواریوں نے ترک قوم کو اسلامی دنیا سے کاٹنے کے لیے ترکی زبان کا عثمانی رسم الخط کالعدم قرار دے کر راتوں رات اسے لاطینی رسم الخط میں بدلنے کا اعلان کر دیا۔ترکی زبان میں نئے حروف تہجی 1928 میں متعارف کرواۓ گئے۔اس قدم سے نہ صرف ترکی باقی اسلامی دنیا سے کٹ کر رہ گیا بلکہ تمام پڑھے لکھے لوگ جاہلوں میں بدل گئے اور لاکھوں عالم بے روزگار ہو گئے۔کمال اور اسکے ساتھیوں کی آمرانہ حکومت کے دوران حزب مخالف کی کوئی جماعت کھڑی نہ ہو سکی اور جو انفرادی آوازیں اس ظلم کے خلاف اٹھیں انہیں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔سیکولر بریگیڈ نے مساجد اور خانقاہوں میں تعلیم پر پابندی عائد کر دی اور مغربی طرز پر ایک قومی طرز تعلیم متعارف کروایا گیا۔اسی آمرانہ دور میں1934 میں مصطفیٰ کمال کی کٹھ پتلی کابینہ کے ایک فیصلے کی بنیاد پر تاریخی آیا صوفیہ مسجد کو عثمانی خلافت اور اسلامی تاریخ کا ایک نشان سمجھتے ہوۓ عجائب خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔مصطفیٰ کمال کی آمریت نے جمہوریت اور عوام کے احساسات کو کچلتے ہوۓ ایک عظیم الشان ملک جو چند برس پہلے تک دنیا کی بڑی طاقتوں اور عظیم تہزیبوں میں ہوتا تھا اسے یورپ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش میں قومی وقار،منفرد معاشرت، سیاسی فکر اور معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ترک ایک عظیم سلطنت کھونے کے بعد انہی اقوام کے طرز تمدن،سیاسی خیالات اور فلسفہ زندگی کے غلام بن کر رہ گئے جو چھے سو سال تک ترکوں کے نام سے خوف کھاتی تھیں۔اس آمرانہ دور میں ہزاروں اسلام پسند ترکوں کا قتل عام کیا گیا اور ترکی سے اسلام کے نام تک کو مٹانے کی ہر کوشش کی گئی۔مصطفیٰ کمال کا 1936 میں انتقال ہوا تو ان کی جگہ عصمت انونو نے لے لی اور کمالسٹ پالیسیاں جاری رکھی گئیں۔ترکی کی اس اسلام دشمن حکومت نے امریکی ایما پر اسرائیل کو تسلیم کیا اور ناجائز یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ترکی کا اسلامی دنیا کے معاملات میں کردارختم ہو کر رہ گیا۔فوج نے مذہب دشمنی اور مغرب پرستی میں ترکی کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ بھی بگاڑ کر رکھ دیا۔ترکی کے مقبول عام وزیراعظم عدنان میندریس کو1960 کی دہائی میں اسلام پسندوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنے پر لا دین فوج کے ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑا۔میندریس نے عربی زبان میں اذان کو قانونی قرار دیا اور مذہبی اداروں پر پابندیاں نرم کر دیں۔فوجی جرنیلوں نے اپنے پیش روؤں کی روایت پر چلتے ہوۓ 1960 میں عدنان میں دریس کی حکومت ختم کی اور ستمبر 1961 میں انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔اس سارے عرصے میں ترکی نے امریکہ اور یورپ سے تعاون کی امیدیں لگاۓ رکھیں مگر ملک مجموعی طور پر بدترین معاشی مشکلات کا سامنا  کرتا رہا۔فوجی مداخلتوں اور سیاسی انتشار کے باعث ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ترکی میں بالترتیب دس اور گیارہ وزراۓ اعظم کو تبدیل کیا گیا جس سے ملک میں پھیلے سیاسی انتشار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔1980 کی دہائی میں ترکی کی سب سے بڑی نسلی اقلیت کردوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور اس متشدد لہر نے ہزاروں افراد کی جان لی۔ترکی نے اس دوران تین فوجی حکومتیں دیکھیں جو لادین اور قوم پرست نظریات کو ترکی کےعوام پر تھوپنے کی کوشش کرتی رہیں۔ترکی میں فوج اپنے آپ کو سیکولر جمہوریت کی محافظ قوت بیان کرتی رہی اور 1997 کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے اسلام پسند رہنما پروفیسر نجم الدین اربکان کو فوجی رہنماٶں نے اسلامی نظریات رکھنے کی پاداش میں معزول کر دیا۔انجینئر نجم الدین اربکان پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کے ساتھ ان کی جماعت “ویلفیر پارٹی” کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ویلفیر پارٹی کے ارکان جن میں طیب اردوان بھی شامل تھے، نے2001 میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی AKP کی بنیاد رکھی۔اس پارٹی کا قیام ہی ترکی کے 99 فیصد مسلمان عوام کی مغرب پرست لادین فوجی آمریت سے نجات کا باعث بنی۔2002 میں ہونے والے قومی انتخابات کے بعد رجب طیب اردوان ترکی کے نئے رہنما بن کر سامنے آۓ اور ترکی کا انتشار سے اتحاد اور کامیابی کا سفر شروع ہوا۔طیب اردوان کی زیر قیادت ترکی نے معاشی میدان میں زبردست کامیابیاں حاصل کیں اور چند سالوں میں ہی ترکی دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں شامل ہو گیا۔رجب طیب اردوان نے نہ صرف ترکی کو معاشی لحاظ سے ایک مضبوط ملک بنایا بلکہ بین الاقوامی امور پر بھی سلطنت عثمانیہ کے انہدام کے بعد پہلی مرتبہ ایک موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوا۔2002 کے بعد ہونے والے چھے مسلسل انتخابات میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی AKP کامیابی حاصل کرتی آرہی ہے اور طیب اردوان کی اسلام پسند پالیسیوں کو ان کی ترک عوام میں مقبولیت کی بڑی وجہ کہا جا سکتا ہے۔طیب اردوان کے دور میں ہی ترکی کی خاتون اول حجاب پہن کر صدر کے ساتھ بین الاقوامی اور ملکی تقریبات میں شرکت کرتی نظر آتی ہیں اور طیب اردوان کھلم کھلا اسلامی ممالک کی حمایت میں بھی کھڑے نظر آتے ہیں۔اردوان کے نظریات اور اسلام پسندو کی طرف جھکاٶ ترکی کی سیکولر فوجی قیادت کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا اور بالآخر 2016 میں فوج نے بغاوت کر دی۔ترک عوام کی اکثریت جو فوج کے جبر کو ایک عرصے تک برداشت کرتی آئی تھی،اردوان کی حمایت میں کھڑی ہو گئی اور باغی فوجیوں کو واپس بیرکوں میں بھیج دیا گیا۔اس بغاوت کے بعد رجب طیب اردوان کا حکومت پر کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا اور ہزاروں مشکوک افراد کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔اردوان اور انکے حامی اس بغاوت کے پیچھے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کاہاتھ دیکھتے ہیں جو ترکی کے بڑھتے ہوۓ سیاسی کردار اور اسلام پسند نقطہ نظر کو ایک نیا خطرہ سمجھتا ہے۔اردوان حکومت نے امریکہ میں مقیم ترک رہنما فتح اللہ گولن کے حامیوں کو چن چن کر عدلیہ بیوروکریسی اور سرکاری محکموں سے نکال کر جیلوں میں ڈال دیا۔جمہوریہ ترکی جو ایک صدی تک لادین فوج کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا پہلی مرتبہ بغاوت کے مجرموں کو تختہ دار پرپہنچانے میں کامیاب ہوا۔غیر ملکی محاز پر بھی ترکی ایک بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آیا ہے۔اردوان کی زیر قیادت ترکی مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں مرکزی کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے جس کی واضح مثالیں شام کی خانہ جنگی اور قطر سعودی تنازعہ میں ترکی کا بھرپور کردار ہے۔ترکی نے افریقہ میں بھی اپنا اثرورسوخ بحال کرنے کے لیے صومالیہ جیسے ممالک میں اربوں کی سرمایہ کاری کی ہے اور لیبیا میں ہونے والی خانہ جنگی میں ترک فوج کی آمد نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور کشمیر کے تنازع پر اردوان حکومت نے کھلم کھلا پاکستان کی حمایت کرتے ہوۓ اپنی نظریاتی سمت کا ایک دفعہ پھر سے اعادہ کیا۔ترکی کا ترقی اور خوشحالی کی طرف سفر بھی عوام کی آزادی اور قومی امنگوں کی ترجمانی کے ساتھ لازم و ملزوم رہا ہے اور اردوان ترک قوم کا کھویا ہوا وقار بحال کرتے نظر آتے ہیں۔ایک طرف ترکی معاشی آزادی کے سفر کی طرف کامیابی سے گامزن ہے اور ساتھ ہی اپنی خودمختاری کے سامنے کسی بھی قسم کی مصلحت کو تیار نہیں۔امریکہ،یونان،رشین آرتھوڈکس چرچ کے انتباہ کے باوجود آیا صوفیہ کے معاملے پر ترک عدالت کے فیصلے پر اردوان کا فوری عملدرآمد اس امرکی غمازی کرتا ہے کہ نہ صرف ترک قوم مغرب پرست فوج کی مسلط کردہ تاریک رات سے نکل آئی ہے بلکہ اپنے عظیم الشان ماضی کی طرف رجوع کرنے کا مصمم ارادہ کیے ہوۓ ہے۔رجب اردوان کا عظیم تاریخی مسجد آیا صوفیہ،جو ایک درخشاں ماضی کااستعارہ ہے،کی حیثیت بحال کرنے کا یہ فیصلہ نہ صرف ان کی سیاسی حمایت میں اضافہ کرے گا بلکہ مسلم دنیا میں بھی ترکی اور رجب طیب اردوان کے وقار اور احترام میں اضافہ ہو گا اور وہ ایک بڑے عالمی رہنما بن کر بھی سامنے آئیں گے۔مسجد آیا صوفیہ کی آزادی ترک قوم کی آزادی اور ایک عظیم فتح ہے۔

Aurangzeb Watto
Aurangzeb Watto
زندگی اس قدر پہیلیوں بھری ہےکہ صرف قبروں میں لیٹے ہوۓ انسان ہی ہر راز جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *