محبت کُھرک ہے،سے اقتباس(میری پہلی کمائی)۔۔سلیم مرزا

ویسے تو شوق کی کوئی قیمت نہیں مگر آٹھویں جماعت کے بچے کیلئے پینٹنگ بہت مہنگا شوق تھا ۔ جیب خرچ کے نام پہ صرف چونی ملتی تھی۔ ابا جی زیادہ مذہبی تو نہیں تھے مگر تصویریں بنانے کو سراسر حرام سمجھتے تھے ۔ان دنوں تصویر بنانے سے زیادہ بنی ہوئی پینٹنگ کو چھپانا مشکل کام ہوتا تھا ۔

82 میں مڈل کا امتحان دیکر فری ہوا تو پینٹنگ کا جنون سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔اور پینٹ برش کیلئے پیسے نہیں تھے ۔
سائنس میرا مضمون نہیں تھا پھر بھی تھامس ایڈیسن کی طرح مجھے بھی بلب بنانے کا آئیڈیا آیا ۔
سب سے پہلے میں نے ڈھونڈا ایک خالی ڈبہ ، جس میں بلب پیک ہوکر آتا تھا ۔ پھرایک فیوز بلب ڈھونڈا ۔
میرا محلے کے ہر گھر میں بنا روک ٹوک آنا جانا تھا ۔
چنانچہ بھری دوپہر کسی گھر کی ڈیوڑھی ،سیڑھی یا چھت کا بلب اتار کر ،میں وہاں فیوز بلب لگا آتا ۔
پھر وہاں سے اتارے بلب کو اچھی طرح دھو چمکا کر ڈبے میں ڈال کر رکھ لیتا ۔ سر شام ہی ریکی کرنی شروع کر دیتا ۔
پڑوسی چاچا ۔ماما ۔تایا جوبھی بلب جلاتا،
گالیاں فلپس والوں کی ماں بہن کو سیدھی ہالینڈ پہنچتیں ۔میں جائے وقوعہ پہ انجان بنا کھڑا رہتا ۔ قرعہ ہمیشہ میرے نام نکلتا ۔
“پت چھیمے بھاگ کر ایک بلب پکڑنا ”
میں گولی کی  سپیڈ سے جاتا اور پانچ روپے والا بلب ساڑھے چار میں لے آتا ۔باقی اٹھنی بھی عموما ٹپ میں مل جاتی ۔
فیوز بلب پھر سے میرا ہوتا ۔
فنکار کے پاس اب آئل کلر ،واٹر کلر اور ان کی مناسبت سے برشوں کاڈھیر لگ گیا۔
یہ سلسلہ بہت لمبا چلتا اگر میں راز رکھ پاتا ۔مجھے بڑبولے پن نے پھنسوا دیا۔ چھاپہ پڑنے پہ میرے پاس سے نئے اور فیوز بلب ،مختلف کمپنیوں کے خالی ڈبے اور پینٹنگ کا سامان برآمد ہوا۔مال مسروقہ نظر انداز کرکے زیادہ مار پینٹنگ کی وجہ سے پڑی ۔میں نہار منہ گرما گرم پھنٹی کھا کر گھر سے بھاگ نکلا
اور مین بازار کے چوک میں جا کر آتی جاتی ٹریفک دیکھنے لگا ۔پیٹ میں چوہے ون وہیلنگ کر رہے تھے ۔
پہلی بار پھینٹی ادھوری چھوڑ کے بھاگا تھا ۔واپس جاتا تو چونگی والوں نے گیارہ گنا مارنا تھا ۔
سترہ سال کے بچے کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔دلدل بہتر رہے گی کہ کھائی ؟
اتنے میں کسی چیز کے کھڑکانے کی آواز آئی ۔
مڑ کے دیکھا تو پک اپ کے پیچھے کھڑا ایک لڑکا اس کی چھت پیٹ رہا تھا ۔پک اپ میرے قریب آ کر رک گئی ۔مجھ سے تین چار سال بڑا ایک لڑکا اس میں سے کودا ۔اور ڈرائیور کو میری طرف اشارہ کرکے کہنے لگا
” پا مقصود ،یہ لڑکا بڑی اچھی فوٹو بنا لیتا ہے ”
مقصود نے مجھے پاس آنے کا اشارہ کیا اور پوچھا ۔
“کام کروگے “؟
میں نے نہ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا ۔اس نے کہا “چڑھ جا پک اپ پہ “میں چھلانگ لگا کر دوسرے لڑکوں کیساتھ پک اپ کے پیچھے بیٹھ گیا ۔جس لڑکے نے مجھے پہچانا تھا اس کا نام جانی تھا ۔وہ مجھے ناصر پینٹر کے پاس شوقیہ کام کرتے دیکھ چکا تھا۔
پک اپ کوکاکولا فیکٹری گوجرانوالہ جاپہنچی ۔
مجھے دس ضرب بیس فٹ کے ایک ہورڈنگ بورڈ کے سامنے لاکھڑا کیا ۔مقصود ٹھیکیدار نے مجھے فانٹا ایک تصویر دکھائی جس میں اس وقت کے سارے مشہور کارٹون کلہاڑی ،چاقو چھریاں لیکر ایک مالٹے پہ حملہ آور تھے ۔
میں شروع ہوگیا ۔لنچ ،چائے ،پانی کی جگہ بار بار کوک پیتے
رات ساڑھے سات بجے تک وہ پینٹنگ مکمل ہوئی تو پک اپ واپس روانہ ہوئی ۔
مجھے مقصود نے دو روپے فٹ کے حساب سے چار سو روپیہ دیا ،اور یہیں سے میری بدقسمتی کا سفر شروع ہوا۔
چھیما تو اس شام واپس گھر پہنچ گیا ۔
مگر کولمبس پیسوں اور پینٹنگ کی ایک رنگین دنیا دریافت کرچکا تھا ۔
وہ وہیں رہ گیا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *