کالا رجسٹر لال لکھائی(حصہ دوم)۔۔سیدہ ہما شیرازی

میں رات کی اس بڑھتی ہوئی تاریکی میں لکھ رہی ہوں اس لمحے  دنیا میں کئی واقعات رونما ہو چکے ہوں گے اور کئی حیران کن واقعات ہونے والے ہوں گے لاہور میں قیام کا آخری دن ہے اس مختصر قیام کے دوران بہت سے مشاہدات اور تجربات سے گزری ،لیکن وبائی دور میں سفر اور قیام کا یہ منفرد تجربہ پہلی بار ہوا۔ ایک بات کی حقیقت کو شدت سے محسوس کیا کہ انسان کو کوئی چیز شکست نہیں دے سکتی، سوائے خوف کے اور پھر خوف بھی ایک اٙن دیکھی چیز کا ہو، تو اس کی شدت اور بڑھ جاتی ہے ،مجھے کبھی کبھی کرونا کا وجود محبوب کے وجود جیسا محسوس ہوتا ہے جس کی آمد عاشق کے لیے ناقابل برداشت اور اگر آجائے تو وصل کے لمحات کے بعد کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے ،گویا حضرت کرونا  نے محبوب کی مانند نہ دکھائی دیتے ہوئے بھی سب کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔
وبا محبت کی طرح تمام دنیا پر یکساں طور پر حملہ آور ہوئی ہے لیکن ہر شخص پر محبت کی طرح اثرات مختلف ہیں۔

کالا رجسٹر لا ل لکھائی۔۔سیدہ ہما شیرازی
آج دن بھر مختلف مصروفیات رہیں، ٹی وی کو وقت کم دیا تاکہ زندگی کے ان پُرسکون لمحات سے محروم نہ ہو جاؤں۔
میں رات کے اس پہر ان تمام لوگوں کا سوچ رہی ہوں جنہوں نے رات کا خبرنامہ سنا ہوگا ،ان کی ذہنی بےچینی کس قدر شدت اختیار کر گئی ہو گی اس کا میں بخوبی اندازہ لگا سکتی ہوں، مجھے دن میں گزرے وہ لمحات یاد آرہے ہیں جو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں گزرے۔

دن ڈھل چکا تھا لاہور کے ٹاپ ٹین جنرل فزیشن میں شمار موصوف کے ہسپتال پہنچی ،بیرونی دروازے پر گارڈ کے ساتھ ایک اور شخص کا اضافہ ہو چکا تھا اس کے ہاتھ میں ایک سفید کلر کی مشین تھی جو پیشانی کے سامنے رکھنے پر جسم کی حرارت کا پتہ دیتی تھی ،میں اسے دیکھ کر چونکی ۔وہ شخص داخل ہونے والوں کے جسم کی حرارت چیک کرنے کے بعد اندر بھیج رہا تھا جیسے ہی میری پیشانی کے سامنے مشین آئی اور کچھ دیر بعد مجھے اندر کی جانب جانے کا اشارہ کیا گیا قدم اٹھنے کے ساتھ ساتھ نئی سوچوں نے مجھے اپنے قبضے میں لے لیا ،میری پریشانی بجا کہ کل اگر کوئی ایسی مشین ایجاد کر دی گئی جو سامنے آنے کے بعد یہ بتا دے کہ اس انسان کے دماغ اور دل میں کیا چل رہا ہے اس کے اندر کتنے دُکھ موجود ہیں اور کتنی تکالیف کو جھیل رہا ہے یہ منظر کتنا بھیانک ہو سکتا ہے ،اس وقت لکھتے ہوئے بھی اس کے بھیانک پن کا سوچ کر قلم کانپ رہا ہے، ہم جیسوں کا بھرم کیسے قائم رہ سکےگا؟ مجھے بھی ایجادات سے پوری طرح سے خوف محسوس ہونے لگا ،خیالات کو دماغ کی پٹاری میں بند کیا اور مطلوبہ جگہ پر جا پہنچی جہاں ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ،ایک موصوف اور موصوفہ منہ پر ماسک لگائے کھڑے تھے جو ہر آنے والے کا نام ریکارڈ میں درج کر رہے تھے ،ساتھ میں مخصوص رقم فیس کے نام پر وصول کر رہے تھے فیس ادا کرتے ہوئے مجھے اپنی قیمت کا اندازہ ہوا ،اورمیں نے  فخریہ انداز میں اپنی فائل حاصل کی ،بیماریوں کا  شکار عوام کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی، شوگر، وزن اور بلڈ پریشر چیک کروانے کے بعد اپنی مطلوبہ سیٹ پر براجمان ہوگئی، یہ تینوں بیماریاں پاکستان میں سر درد کی طرح عام ہیں میں نے ہسپتال کے چاروں جانب نظر دوڑائی ایک مانوس چیز کو ڈھونڈنے کے لیے میں نے بہت سی غیر مانوس جگہوں کو ٹٹولا لیکن میرا یہ عمل رائیگاں رہا ،وہاں بولتا ہوا ڈبہ مجھے کہیں دکھائی نہ دیا، مجھے ڈاکٹر کا درشن کرنے سے قبل ہی اس کی صلاحیتوں کا متعارف ہونا پڑا، ایک دم خیال آیا کہ وہ لوگوں کے نفسیاتی مسائل اور ان کے پیچھے موجود محرکات سے بخوبی آگاہ ہے، اسی لیے اس نے اس مقبول اور مانوس بولتے ڈبے کو اپنے ہسپتال میں جگہ نہ دے رکھی تھی ،یہ بھی احساس شدت اختیار کر رہا تھا کہ ڈبے کے بغیر بھی وقت گزارا جا سکتا ہے میں لوگوں کی بے بسی اور بیماری کے آگے پسپائی کی عملی تصویریں مسلسل دیکھ رہی تھی جو دوائیوں کے بوجھ اور فائلوں کے وزن سے تنگ آچکے تھے میں لگاتار سوچوں کے تھپیڑوں کو برداشت کر رہی تھی کہ میرا بلاوا آگیا۔ میں تیز قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی کمرے کی طرف مڑی دروازہ کھلا تھا۔۔

ایک دبلا پتلا انسان سر پہ جگنو کی طرح سفید بال چمک رہے تھے جسم ہلکے نیلے رنگ کے مخصوص بناوٹ والے لباس سے ڈھکا ہوا تھا ،کمرے میں مریض اور ڈاکٹر کے درمیان فاصلہ وبا کے پیش نظر کچھ زیادہ ہی تھا درمیان میں ایک شفاف پلاسٹک لگایا گیا تھا ڈاکٹر صاحب کی مسند کے پیچھے اسناد اورسرٹیفکیٹ کا جھرمٹ تھا ،جو ہمارے لئے ان کی قابلیت چیخ چیخ کر بیان کر رہاتھا۔
دائیں جانب کا رقبہ شیلڈز نے گھیر رکھا تھا جبکہ بائیں جانب کا رقبہ کتابوں اور ڈاکٹری کے چند ضروری سامان کی زینت بنا ہوا تھا، موصوف کی آنکھیں موٹے شیشوں والی عینک سے شفاف دکھائی دے رہی تھیں، میں نے اپنے  امراض کو ترتیب دیا اور منہ سے اگلنا شروع کر دیا، ڈاکٹر اسی سپیڈ سے دوائی لکھنے میں مصروف ہوگیا ،میری زبان کے رکنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر کا قلم بھی ہاتھ کی کانپتی اور نحیف انگلیوں میں رک گیا ،اس کے بعد میری ہڈیوں کی مضبوطی کو مشین کے ذریعے چیک کیا گیا میں ان کی مضبوطی سے لاعلم تھی کیوں کہ  اس بار مشین کا منہ ڈاکٹر کے قریب تھا مجھے دوائیوں کے ناموں سے بھرا ہوا کاغذ تھماتے ہوئے نحیف جسم سے زور دار آواز میں کچھ چیزوں کے استعمال سے احتیاط برتنے کو کہا گیا میں جی بہتر سر شکریہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

سٹور تک جاتے ہوئے میرے ذہن میں یہ سوال بار بار آ رہا تھا کہ ایک غریب کو یہ سہولیات ،علاج اور قابل ڈاکٹر کب میسر آئیں گے میری آنکھیں ان لوگوں کے لئے نم ہوگئیں جو مرض کی غلط تشخیص کی بنا پر ایک نئے مرض کا شکار ہوگئے ،ایسے لوگ جن کی کئی امراض کی وجہ خود ڈاکٹر ہیں جو اس عمل سے لاعلم ہے کہ ان کی تھوڑی سی غلطی کسی انسان کی پوری زندگی نگل سکتی ہے، بلکہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں بدل سکتی ہے میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہوئے ایسے انسانوں کا رونا رو رہی تھی جو غیر محفوظ ہاتھوں میں ہیں، مگر صحت ،انسانی زندگی اور انسانی سکون کبھی ہماری ترجیح رہا ہی نہیں ہم انسانوں کو زندہ نگلنے والی قوم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *