کچھ اہل عرب کے بارے میں(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔سلمان اسلم

میں نے  عرب امارت میں اپنے پانچ سالہ قیام میں ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ یہاں کے اک شہامہ نامی گاؤں میں موجود اک شاپنگ مال میں بطور سکیورٹی اپنی خدمات انجام دی  ہیں۔ ابوظہبی میں سکیورٹی براہ راست پولیس نہیں ہوتی مگر پولیس کی براہ راست معاون ضرور ہوتی ہے،اور اس طور سے سکیورٹی کی اپنی لوکیشن میں پولیس کی مانند ہر جگہ رسائی ہوتی ہے۔ عرب کی آنے والی نسل اور موجودہ نوجوان طبقہ فحاشی کے عروج پہ پہنچ چکا  ہے۔ میں نے بذات خود ٹین ایجرز    کو کوریڈور میں جنسی خواہشات کی تسکین کرتے  ہوئے دیکھا  ،۔ اک جوڑے کو شاپنگ مال میں موجود مسجد کے دروازے کے ساتھ ملحقہ جگہ  میں  نازیبا حالت میں ملتے ہوئے دیکھا ہے۔ اک 12 سال کے بچے کو 30 سال سے اوپر   عمر کی لڑکی کو پیش کیش کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور سکول و کالجز میں ہونے والے واقعات توبیان سے باہر ہیں ۔ یوں رات گئے تک کالے شیشوں والی  گاڑیوں میں پارکنگ اور مختلف سیاحتی مقامات پہ جنسی بد اخلاقیاں اسکے علاوہ ہیں۔

عربوں   جیسی سست روی کی مثال ڈھوندنے سے بھی نہیں ملتی۔ حالت ان کی یہ ہے کہ اپنے کھانے کا آڈر بیڈ پہ پڑے رہ کر کرتے ہیں اور بغیر حرکت کیے اسی کھانے کو بیڈ پہ ہی وصول کرکے تناول فرماتے ہیں۔ اے  ٹی ایم مشین استعمال کرنے کے لیے گاڑی کے شیشے میں سے سر باہر نکال کر پیسے نکالنے والی قوم گاڑی سے قدم نیچے رکھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتی ۔ سست روی کے ساتھ ساتھ عجلت پسند قوم کا یہ حال ہے کہ کسی بھی سروسز کی فراہمی کے لیے دو منٹ کا انتظار بھی ان کو گوارا نہیں۔ یہ دنیا کی وہ واحد ویہلی قوم ہے جو غم روزگار نہ ہوتے ہوئے بھی فارغ نہیں ہوتے اور نہ ان کے پاس وقت ہوتا ہے۔

عدالتی انصاف کا یہ عالم کہ گر کسی غیر عرب کا عربی اور بالخصوص  ہم وطن  کے ساتھ یا کسی امریکی شہری کے ساتھ کوئی تنازعہ پیش آیا تو پھر انصاف کے بول بالا ہونے کا دعوی ٰ ہوا میں بلبلا بن کر اڑ جاتا ہے۔ اور سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی غیر عرب کسی عربی بالخصوص  ہم وطن  اور یا امریکی شہری کے خلاف مقدمہ جیت سکے الا ماشا اللہ (مستثنیات اپنی جگہ موجود رہیں گی)۔

دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *