تعلیمی تعطل کے مضمرات۔۔اسلم اعوان

علم کی اہمیت کو تسلیم کرنے کے باوجود ہمارے سماج میں ایجوکیشن کبھی پہلی ترجیح نہیں رہی۔ اگر ہم غور کریں تو مملکت میں سب سے زیادہ نظرانداز کردہ شعبہ تعلیم ہی نظر آئے گا۔ہر فرد یہ تو چاہتا ہے کہ اس کے بچے پڑھیں لیکن وہ ایجوکیشنل سسٹم کی زبوں حالی بارے فکر مند دکھائی نہیں دیتا‘خاص طور ملک کے ان دور افتادہ علاقوں میں جہاں ریاست کی عملداری نسبتاً محدود ہے وہاں مقتدر وڈیرے تعلیم کے فروغ کو اپنی بالادستی کے لیے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اور سرکاری تعلیمی نظام کو مفلوج رکھنے میں عافیت تلاش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مایہ ناز بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب نے ”شہاب نامہ‘‘ میں کئی دلچسپ واقعات بیان کئے ہیں۔
1970ء کی دہائی میں اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں جب سرکاری سکولوں کے قیام کی کوشش کی تو کئی بلوچ سردار لاؤ لشکر لے کر ریاست کے خلاف مزاحمت پہ اتر آئے۔حیرت انگیز طور پہ جو سردار اپنے بچوں کو ایچی سن‘برن ہال‘لارنس کالج‘آکسفورڈ اور ہاورڈ یونیورسٹیز جیسے اعلیٰ اداروں میں پڑھا رہے تھے‘ وہی عام شہریوں کے بچوں کو کھلے دل کے ساتھ مقامی سطح پہ بھی حصولِ علم کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے۔بے شک تعلیم کسی بھی قوم کی سائنسی‘ذہنی‘اخلاقی اور فنی میراث کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کا وسیلہ بنتی ہے‘ مگر افسوس کہ ہماری اجتماعی سرکاری مشینری بھی تاحال نوآبادیاتی نظام کی تاریکیوں سے نکل کر آزادی کی صبحِ نور سے ہم آغوش نہیں ہو سکی۔ہمارے قبائلی علاقوں کے مقتدر وڈیروں نے ساٹھ سالوں تک سرکاری تعلیمی اداروں کو غنیم کا مال سمجھ کے جانوروں کے باڑوں یا پھر حجروں کے طور پہ استعمال کیا‘ لیکن وہاں کی سرکاری اتھارٹی دانستہ ایسے واقعات سے چشم پوشی کرتی رہی ؛چنانچہ پچھلے بیس سالوں میں دستِ قضا نے فاٹا کے طاقتور انتظامی ڈھانچے سمیت قبائلی ڈسٹرکٹ کے ان مقتدر سرداروںکو تہس نہس کرڈالا جو غرور اور تکبر میں حد سے بڑھ چکے تھے۔تاہم نوجوان نسلوں پہ جب علم و آگاہی کے دروازے بند اور ذہنی ترقی کی راہیں مسدود ہوئیں تو پھر سماج میںکلاشنکوف‘ راکٹ لانچراورمرکز گریز سوچوں کو فروغ ملا۔رفتہ رفتہ جہالتِ عمومی کے دائرے وسیع ہوتے گئے‘جن سے انتشار اور سماجی تفریق بڑھتی گئی اور آخر کار اس نامطلوب کشمکش نے ایک پوری نسل کو نگل لیا۔شاید اسی وجہ سے ہی اس وقت نوجوانوں کی بڑی تعداد سرکارکے خلاف نظر آتی ہے‘لیکن تمام تر قباحتوںکے باوجود فطرتِ انسانی اپنی قدرتی لچک کے ذریعے دائمی ارتقا کا سفر جاری رکھتی ہے‘بالکل ایسے جیسے چھوٹے سے چشمے سے نکلنے والا لطیف پانی بھاری چٹانوں اور سنگلاخ پہاڑوں میں کھڑی مہیب رکاوٹوں سے ٹکرائے بغیر اپنے لئے بیسیوں متبادل راستے بنا لیتا ہے‘ اس کی فطری لطافت اور استقلال اسے پُرشور دریاوں اور گہرے سمندروں کی ایسی پرشکوہ طاقت میں بدل دیتا ہے‘جس کے سامنے کوئی قوت ٹھہر نہیں سکتی۔اسی طرح تمام تر سماجی رکاوٹوں کے باوجود علم کے متلاشی انسانوں نے نجی تعلیمی اداروں کے قیام کے ذریعے حصولِ علم کی متبادل راہیں استوار کر لیں۔بلاشبہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے معاشرے میں فروغ تعلیم کے لیے ایسی گراں قدرخدمات سرانجام دی ہیںجس سے لاکھوں افراد فیض یاب ہوئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے شمال میں واقع دورافتادہ ضلع چترال سے لے کر جنوبی وزیرستان کی پُرہول چٹانوں تک اور بلوچستان کے ضلع ژوب سے لے کر ساحلِ مکران کی وسعتوں تک‘ جہاں ہزاروں سرکاری سکولز ویران پڑے ہیں وہاں مہیب شوریدگی کے باوجود نجی تعلیمی ادارے ہماری نوخیز نسلوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کا فرض نبھانے کے علاوہ قومی خزانے کو ٹیکسز دینے کا بڑا وسیلہ بھی بنے ہوئے ہیں۔یہ نجی تعلیمی ادارے سماجی وظائف کے ایسے فطری معاون ہیںجو بچوں کو بہترین تعلیم کی فراہمی کے علاوہ بہت سے افراد کو خاص کر خواتین کی بڑی تعداد کو باعزت روزگار کے بہترین مواقع بھی مہیا کرتے ہیں‘ لیکن کورونا وائرس کی عالمگیر وبا اور لاک ڈاون کے باعث جہاں مملکت کے دیگر شبہ جات متاثر ہو ئے ہیں وہیں تعلیم کے نجی شعبے کو بھی شدید ترین بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے پرائیویٹ ایجوکیشنل سسٹم کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ایک سروے کے مطابق اس وقت نجی تعلیمی ادارے ملک میں پچاس فیصد سے زیادہ بچوں کو تعلیم دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں‘صرف صوبہ پنجاب کے 60 فیصد بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے نور علم حاصل کر رہے ہیں‘مجموعی طور پر ملک بھر میں دو لاکھ 70 ہزار نجی تعلیمی ادارے سرگرم عمل ہیں‘جن میں سے117810 پنجاب میں39,850 سندھ میں‘29,660 خیبر پختونخوا میں‘6880 بلوچستان‘4450 اسلام آباد اور 9450 نجی سکولز آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں خدمات سر انجام دینے میں مشغول ہیں‘ان دولاکھ ستّر ہزار سکولوں میں کم و بیش دوکروڑ30 لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور 15 لاکھ سے زیادہ اساتذہ ان بچوں کو پڑھانے کا فریضہ سرانجام دینے کے وجہ سے باعزت روزگارحاصل کر کے ریاست کا بوجھ کم کرتے ہیں۔اس کے برعکس پچھلے دس سالوں میں ملک بھر کے کل 152,000سرکاری سکولز کم ہو کے 131000 رہ گئے یعنی اس ایک دہائی میں 21000 سرکاری سکولز فیل ہو گئے۔یہاں یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ وسیع تعلیمی ڈھانچے پہ بھاری اخراجات کا بوجھ اٹھانے اور گورنمنٹ کے 25 ٹیکسز ادا کرنے کے باوجود پچاسی فیصد نجی تعلیمی ادارے دوہزار روپے ماہانہ سے کم اور تیرہ فیصد سکولز پانچ ہزار روپے ماہوار سے کم فیس وصول کرتے ہیں‘صرف دو فیصد نجی تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو پانچ ہزار روپے ماہانہ فیس لینے کے مجازہیں‘اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نجی سیکٹر کے 98 فیصد سکول بہت کم فیسں لے کر عام شہریوں کے بچوں کو بہتر تعلیم دے کر قومی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔اس کے برعکس اُن گورنمنٹ سکولزمیں جہاں تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے سرکاری خزانے سے فی طالب علم 7960 روپے ماہوار خرچہ کیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں معیاری تعلیم کہیں بھی سستی نہیں‘ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ ان اعلیٰ تعلیمی اداروں کو گورنمنٹ یا کسی اور ذریعے سے بھاری فنڈ ملتے رہتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ گورنمنٹ یا مخیر حضرات تعلیم کے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے بلکہ نجی تعلیمی اداروں کو چلانے کا سسٹم نہایت پیچیدہ اور دشوار ہے۔اکثر نجی سکولز کرایے کی بلڈنگز میں قائم ہیں‘ان عمارتوں کے کرایوں میں ہر سال دس فیصد اضافے کے علاوہ بلڈنگ اونر کی جانب سے بیدخلی کے نوٹسز کے خطرات بھی ہمہ وقت سر پہ منڈلاتے رہتے ہیں۔اگر کسی وقت عمارت بدلنے کی نوبت آئے تومنتقلی کے عمل پہ لاکھوں روپے خرچہ اٹھتا ہے۔طلبہ سے حاصل ہونے والی فیس کا تقریباً پچاس فیصد حصہ اساتذہ کی تنخواہوں میں کھپ جاتا ہے‘بجلی فراہم کرنے والی پاور کمپنیاں نجی تعلیمی اداروں سے مہنگے ترین کمرشل نرخ چارج کرنے کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں تقریباً 27 فیصد سالانہ اضافہ کرتی ہیں‘لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ہر نجی سکول کو متبادل کے طور پہ جنریٹر بھی رکھنا پڑتا ہے‘جو اضافی بوجھ ہے۔اگرچہ شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن دسمبر 2014 ء کے بعد نجی سکولوں کو سکیورٹی کی مد میں بھاری اخراجات بھی اٹھانا پڑرہے ہیں۔علاوہ ازیں تعمیرات میں استعمال ہونے والا لوہا‘سیمنٹ‘ لکڑی‘پینٹ اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں ہر سال 25 فیصد اضافے کے ساتھ 16فیصد جی ایس ٹی کی ادائیگی بھی لازمی ہوتی ہے۔گزشتہ تین سالوں میں صرف کمپیوٹر آلات کی قیمتو ں میں25 فیصد اضافہ ہوا‘لیبارٹری میں استعمال ہونے والے سامان میں سالانہ 24 فیصد اورسکولز کے فرنیچر اوراس کی تنصیب کی قیمتوں میں23 سے25 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔اس سب کے باوجود پرائیویٹ ایجوکیشنل سیکٹر قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا تھا‘ لیکن لاک ڈاؤن کے نتیجے میں معیاری تعلیم کا یہ بہترین وسیلہ تباہی کے دہانے تک جا پہنچا ہے۔پچھلے تین مہینوں میں سکولوں کی بندش کی وجہ سے کروڑوں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے معطلی کے علاوہ پورا سسٹم بھی مضمحل ہو گیا ہے‘ جس سے دس لاکھ کے لگ بھگ اساتذہ جن میں اکثریت خواتین کی ہے بے روز گار ہو گئی ہیں۔