انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس6)

دروازہ کھلا، مسافر مہینوں کے سفر کے بعد لوٹا۔ابوالحسن نے تکیے سے سر اٹھایا۔مسافر، بہت دیر کر دی۔ ہم بڑی دیر سے تمہارے منتظر ہیں۔کہو، کیا حال ہے۔
ابوالحسن، لفظوں کے معنی بدل چکے ہیں۔ڈکشنریوں میں کچھ لکھا ہے۔لوگ کچھ اور کہتے ہیں۔تیری اس کوٹھری میں لفظوں کے معنی کچھ اور ہیں۔باہر کچھ اور۔
مسافر،سن۔ آوازوں کے شور پر مت جا۔اپنے باطن کی آواز سن۔معانی تو تیرے باطن میں چھپے ہیں۔باقی سب شور ہے۔
مسافر، یہ اجنبی کون ہے۔
ابوالحسن، یہ دانش ور ہے۔شہر میں مجھ سے ملا ہے۔ کہنے لگا۔ ابوالحسن سے ملنا چاہتا ہوں۔ سو ساتھ لے آیا۔یہ جمہوریت کی باتیں کرتا ہے۔
دانش ور جمہوریت رویے کا نام ہے۔ دوسروں کی بات سننے اور سمجھنے کا نام ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنے اور تسلیم کرنے کا حوصلہ ہے۔جمہوریت یہی کچھ ہے۔ دانش ور۔دوسروں کو نہ ماننا ظلم ہے۔

یہاں مجلس برخاست ہوئی۔