چاند پانے کی تمنا۔۔داؤد ظفر ندیم

وبا کے عفریت نے میری حرکت و نقل کو روک دیا تھا۔ سانس کے مختلف عارضوں میں متبلا ہونے کی وجہ سے میں اس وبا کا ایک آسان شکار ہو سکتا تھا، اس وبا کے سیزن میں میرے دو عزیز رشتہ داروں  کی وفات ہوئی تو خطرے کا سائرن بجنے لگا، مگر ان کی بڑی عمر کی وجہ سے کچھ حوصلہ بھی تھا کہ یہ مرض نسبتا ً بڑی عمر کے لوگوں کی جان لیتا ہے مگر جب میرے دو کلاس فیلو، ایک ہم عمر محلے دار اور ایک انتہانی قریبی دوست موت کی آغوش میں اتر گئے تو سخت گھبراہٹ طاری ہوئی۔ اس ساری مدت میں زندگی کو کیسے مثبت بنایا جائے یہ ایک بڑا سوال سامنے درپیش تھا۔

زندگی میں ہمیشہ یہی معلوم ہوا ہے کہ مشکل صورت حال میں کوئی مخالف جنس ہی آپ کو مشکل سے نکال سکتی ہے والدہ کی وفات نے بھی سخت بوجھل اور افسردہ کر رکھا تھا۔ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس تنہائی یا ڈیپریشن سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے۔ اس صورت حال میں سوشل میڈیا پر موجود بعض خاتون دوستوں نے غیر معمولی مدد کی ۔ایک شادی شدہ بچوں والی عورت ہی جان سکتی ہے کہ ایک شخص کتنا ہی بڑا ہو جائے اس کے اندر کا بچہ کہیں نہ کہیں چھپا ہوتا ہے، اس کو سخت افسردگی میں ممتا جیسے جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ،چاند مل نہیں سکتا مگر چاند کو پانے کی خواہش جگانا بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ چنانچہ میں نے سوشل میڈیا پر موجود مختلف ویڈیوز کو دیکھنا شروع کیا۔ اچھی شاعری کا ہمیشہ شوق رہا ہے۔ اس لئے ایک خاتون جو کہ میرے ساتھ فیس بک پر شامل ہیں ان کی آواز میں کچھ ویڈیوز پر نظر پڑی۔ میں نے ان کی ایک نظم جو میرے دوست صفی سرحدی نے لکھی تھی “ایک کلک کا فاصلہ”میں ،مَیں نے یہ نظم سنی اور ایک طویل سانس لی، اتنی خوبصورت آواز میں اتنی خوبصورت نظم، واقعی ہم لوگ ایک کلک کے فاصلے پر ہوتے ہیں اور افسردگی اور مایوسی کے عالم میں کسی سے رابطہ نہیں کر سکتے۔ میں نے ان کی ایک دوسری ویڈیو کھولی، اس میں وہ اپنی آواز اور چہرے دونوں کے ساتھ موجود تھی، پہلے میں نے سرسری طور پر یہ نظم سنی۔ ابن انشا کی فرض کرو ہم اہل وفا ہوں۔ میری ایک پسندیدہ نظم۔ پھر رنگ و نسل کی ہوس۔ میں چونک گیا، پھر بے اختیار میری نظر اس خاتون کے خوبصورت چہرے پڑی ،چاند کی مانند روشن اور خوبصورت۔ ہم سفر ہو تو اک کام کرو گفتگو کے بنا کام کرو۔ جیسے خوبصورت نظم اس خوبصورت آواز میں سنی تو مدہوش ہوگیا۔ اس کے خوبصورت بالوں کا تصور آیا اور اس میں انگلیوں سے کلام کی خواہش پیدا ہوئی ،اس کی خوبصورت آنکھوں کو ہاتھوں سے ڈھانپنے کی خواہش پیدا ہوئی، اس کے خوبصورت لبوں سے دل میں ہلچل پیدا ہوئی، دل چاہا کہ انگلوں سے چھو کر دیکھوں کہ یہ مسحور کرنے والے ہونٹ کیسے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ یہ سب محض خیال ہیں چاند کو چھونے کی خواہش جاگ بھی پڑے تو کوئی شخص چاند کو چھو نہیں سکتا، مگر ذہنی تنہائی اور افسردگی کے اس سخت موسم میں کسی کا یوں دل میں جوت لگانا بھی کمال ہے اگر بندہ اپنی زندگی کی جانب  لوٹ آئے، موت کے خوف کے حصار سے باہر نکل آئے تو آپ اسے یوں نظر انداز نہیں کر سکتے میں جانتا ہوں ہم مختلف مقاموں پر، مختلف زمانوں میں پیدا ہوئے ہیں ہمارے درمیاں عمر، خاندان اور زمانوں کا فاصلہ ہے مگر سوچ اور خیال ایسی طاقتیں ہیں جو ان فاصلوں کو عبور کر لیتی ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں تم اپنی زندگی میں، اپنے خاندان میں ہمیشہ خوش رہو مگر میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ تم میری روح میں اتر چکی، تم میرے وجود کا حصہ بن چکی ہو۔

Avatar
دائود ظفر ندیم
مجھے لکھنے پڑھنے کا شوق نہیں بلکہ میری زندگی لکھنے پڑھنے سے وابستہ ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *