ممانی دردانہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

دردانہ کو آپ ہماری عزیزہ سمجھ لیجیے۔ فرض کر لیجیے وہ ہماری ممانی ہیں۔ اللہ پاک نے جب کسی کو آزمانا ہو تو اس کے آس پاس کوئی ممانی دردانہ بھیج دیا کرتا ہے۔ پھر آزمائش میں مبتلا شخص دردانہ کے ہاتھوں دل جلا جلا ضائع ہوجایا کرتا ہے۔ ممانی دردانہ اوسط سے انتہائی کم درجے ذہنیت کی سندھن خاتون ہیں۔ ماموں باسط نے ان کے عشق میں ماریں کھائی ہیں۔ فیڈرل بی ایریا میں ماموں باسط پنجرے کے اندر اندر مرغی ذبح کر کے گوشت کی صورت میں نکالا کرتے اور ممانی دردانہ کی خدمت میں چوری کا ہدیہ پیش کر دیا کرتے۔ آج کل ماموں باسط اللہ کے فضل سے بہت بڑے تبلیغی ہیں جو افریقہ کے جنگلات میں غالباً زیبروں کی تبلیغ پر بھی مامور رہنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ان کی ہر بات میں جب تک الحمد للّٰہ سبحان اللہ اور ماشاءاللہ نہ آجاوے بات پوری نہیں ہوتی۔

ممانی دردانہ علم کا منبع ہیں۔ ایک دن چار گھنٹے اس بحث میں گزار چکی ہیں کہ فلاں دینی شخصیت سکالر نہیں عالم ہیں۔ ان کا علم جملہ کتب سے بالا ہے کہ آکسفرڈ ڈکشنری میں سکالر کے معنی عالم دیکھ کر بھی وہ اپنے مؤقف پر قائم رہ چکی ہیں۔ استقامت کے یہ درجات اللہ پاک کسی کسی کو بخشتا ہے۔ ایک دن صدیقی صاحب مرحوم کے سامنے اس بات پر بھی ڈٹی رہیں کہ انڈہ مکروہ ہے۔ یہ بحث کل ملا کر دو گھنٹے جاری رہی۔ ان دو گھنٹوں میں ممانی دردانہ نے ناصرف اپنی اولاد کو انڈوں پہ انڈے کھلائے بلکہ خود کو بھی انڈے فرائی کر کر کے کھائے۔ ممانی دردانہ کی اولاد اب بڑی ہوچکی ہے ورنہ گزرے وقتوں میں ان کا بہترین مشغلہ فریج سے آم نکال کر اپنی آل اولاد سمیت کمرے میں بند ہوکر کھانے میں مشغول ہوجانا تھا۔ سڑے ہوئے آم بوجہ حقوق العباد ہمارے حصے میں رکھ دیے جاتے۔

ممانی دردانہ سچی اور کھری خاتون ہیں۔ اتہاس گواہ ہے کہ انہوں نے جب بھی لگائی پوری نیک نیتی سے یہاں کی وہاں لگائی۔ ممانی دردانہ کٹر دینی خاتون ہیں۔ ہر بار یہاں کی وہ “ائے بہن بس کیا بتاؤں غیبت میں آجائے گا” کے کلمات سے آغاز کر کے ہی اگلے کئی گھنٹے غیبت میں مشغول رہتی ہیں۔ جامع قسم کی جامہ فروش ہیں۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے مگر دین مزید کی تحریک دیتا ہے سو برانڈز کے چربے بیچ باچ کر نظام چلاتی ہیں۔ پھر ایک آدھ کو چونا بھی لگ جائے تو اللہ نہایت غفور و رحیم ہے۔

ممانی دردانہ اپنے جذبات کا اظہار المعروف ساڑ کی عکاسی اپنے واٹس ایپ سٹیٹس سے کیا کرتی ہیں۔ مثلاً چند دن پہلے ہمارے یہاں سے کسی نے ان کے کرونا مریض سے ملنے کے بعد استفسار کیا کہ اب آپ ہمارے یہاں آئیں گی تو ہمیں بھی لگ جاوے گا۔ اس پر ممانی دردانہ نے خوب گند گھولا۔ ماموں باسط کو کچھ اس طرح بھرا کہ وہ اپنی ہی بہن بھانجی بھانجے سے ناموس تحفظ دردانہ کے چکر میں بھڑ بیٹھے۔ اس کے اگلے دن ممانی دردانہ کے واٹس ایپ پر مکافات عمل سے متعلق کوئی سٹیٹس لگا پایا گیا۔ تین دن بعد وہاں ماموں باسط، ممانی دردانہ کو بمعہ اہل و عیال اور یہاں ہم سب کو کرونا ہوگیا۔ اب ہم مکافات عمل والے سٹیٹس پر لافٹر ردعمل دیتے یہاں سے وہاں چلتے بنے۔

ممانی دردانہ شہد سا میٹھا بولتی ہیں۔ جب بولتی ہیں یوں محسوس ہوتا ہے خوش الحان لہجے میں صور پھونکا جا رہا ہو۔ ممانی دردانہ کی گفتگو اس قدر سہل اور جامع ہوا کرتی ہے کہ ہر پانچ منٹ بعد دس منٹ فون کان سے لگا کر ایک جانب رکھنا پڑتا ہے۔ ممانی دردانہ کی سیرت کمال ہے۔ خاندان کی ہر جوان ہوتی لڑکی کے بارے میں وہ کسی نہ کسی کے ساتھ عشق کے رموز کھولتی رہیں۔ آج ممانی دردانہ مکافات عمل شاید اسی وجہ سے لگاتی ہیں کہ ان کی تمام تر اولاد نے شیریں فرہاد ہیر رانجھے والے عشق کر کے ممانی دردانہ کو رشتے ڈھونڈنے کی زحمت سے بچا لیا۔

ممانی دردانہ پردے کے معاملے میں سخت گیر طبیعت کی مالکہ ہیں۔ الحمد للّٰہ شٹل کاک برقعہ کیا کرتی ہیں۔ وہ ہر نامحرم سے پردے کی اوٹ میں بات کرتی ہیں۔ موسم کوئٹہ کی گرمی ہو یا فارم ہاؤس کا سوئمنگ پول، ممانی دردانہ اپنے شٹل کاک ہی میں پائی جاتی ہیں۔ سوئمنگ پول میں چند ناہنجار معترض ہوتے ہیں کہ یہ کس قسم کا پردہ ہے جس کے ساتھ مخلوط سوئمنگ پول میں جانا جائز ہے، البتہ ایسے ناہنجار مجاہدین کا بس چلے تو سانس لینے پر بھی پابندی لگا ڈالیں۔

ممانی دردانہ ایک سوشل خاتون ہیں۔ جامہ فروشی کے نام پر اونچی اونچی فیملیز کے ساتھ سلام دعا قائم کر چکی ہیں۔ ایلیٹ کلاس کے ساتھ چونچ لڑانے کے لیے درکار انگریزی سیکھنے میں مصروف ہیں۔ ابھی کل ہی ہمارے بچوں کی بابت فرما کر گئی ہیں کہ معاذ تمہارے بچے ناں مجھے بہت ہی گڈ لگتے ہیں۔ پرسوں کسی اور سے فرما رہی تھیں کہ آج کل موسم بڑا ہوٹ ہے، تھوڑا کولڈ ہوجائے تو میں آؤں گی، تب تک تم دیکھو یہ ثناء سفینہ کی سیوین لمبر کاپی آئی پڑی ہے میرے پاس یہ خرید لو چیپ بیچ دوں گی۔

لب لباب یہ کہ ممانی دردانہ ہماری اگلی نسل کے لیے محبت، اسلام، حقوق العباد وغیرہ وغیرہ کا استعارہ ہیں۔ یقیناً آپ کے خاندان میں بھی ایک نہ ایک ممانی دردانہ اور ان کی پرستش کرنے والے ماموں باسط موجود ہوں گے۔ اگر ہیں تو اپنے اپنے تجربات شئیر کر کے ایک دوسرے کو احساس دلائیں۔۔۔ “بس بہن جو اللہ کی مرضی”۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *