کالا رجسٹر لا ل لکھائی۔۔سیدہ ہما شیرازی

میں کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں۔۔ رات کا یہ پہر بھی عجیب ہے دن بھر میں ہونے والے اچھے برے ملکی و غیر ملکی سارے واقعات اس وقت دستک دیتے ہیں جب پُرسکون عوام خوابوں کے مزے لوٹ رہی ہوتی ہے اور ہم جیسے لوگ نیند سے بے وفائی کا خمیازہ بھگت رہے ہوتے ہیں ۔ تین بجے کا وقت خود اپنے اندر بھرپور معنویت لیے ہوئے ہے، نہ رات کا اگلا پہر نہ آخری بلکہ کہیں درمیان میں اٹکا ہوا لمحہ۔۔۔لمحے کا یہ حصہ ہمیشہ مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے اس کے پیچھے کیا وجہ ہوسکتی ہے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی ۔ایسے اسرار کو سمجھنے یا کھوجنے کے لئے وقت ہی کہاں میسر آتا ہے۔

لاہور میں آئے آج دوسرا دن ہے، یہاں زندگی اپنے معمول کے مطابق ہے ،ٹیلی ویژن والا لاہور ڈھونڈنے کے بعد بھی نظر نہ آیا ،کھانے کی دکانوں پر پیٹ کے پجاری ہر طرف دیکھنے کو ملے، مجھے وبا فری لاہور دیکھ کر اتنے دنوں سے ٹیلی ویژن پر پیش کی جانے والی ملکی اور غیر ملکی خبروں کی سچائی مشکوک ہوتی ہوئی دکھائی دینے لگی، گھر پہنچ کر لاہوری خاطر تواضع کے بعد ٹی وی کی آواز کانوں  میں  پڑی ،سوچا درشن کر لیا جائے ،ٹی وی پر ایک بار پھر کرونا کا وار تمام لوگوں پر یکساں طور پر جاری تھا ۔

میں سوچنے لگی کرونا نے  جس قدر پاکستان میں آ کر اپنے بھیس بدلے ہیں ، شاید ہی اس کو یہ مزیدار ماحول کسی اور ملک کی سرزمین پر ملا ہوگا۔ اب خبر بدل چکی تھی ،ٹی وی پر خاتون جو کہ خوبصورت ملبوس زیب تن کیے ہوئے تھی مسلسل چیخ رہی تھی ،شاید حکومت کی کامیابیاں اور ناکامیاں گنوانے میں مصروف تھی، نیچے سرخ پٹی میں حسب معمول بریکنگ نیوز چل رہی تھی ،سرخ سکرین کے درمیان مسلسل بولتی ہوئی عورت مزید الجھاؤ کا باعث بن رہی تھی۔ اس ذہنی مشقت سے تنگ آکر ٹی وی کو خدا حافظ بولا اور کمرے کا رخ کیا تاکہ تھکن کو مزید تھکن سے دور کیا جائے، کمرے میں موجود ٹھنڈک ،بولتی ہوئی عورت کی تصویر اور آواز کو مدہم کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح اردگرد کے ماحول کو تاریکی میں مبتلا کیا۔سونا بھی آج کے دور میں ایک دقت طلب کام ہے اللہ جانے آپ کے سونے کے درمیان یا اٹھنے کے بعد دنیا کیا شکل اختیار کر جائے ،کون موجود ہو اور کون نہ ہو۔ ۔۔

ان سب سوچو میں بولنے والی عورت کی آواز اور تصویر مزید مدہم ہوگئی ،اسی سکون کے ساتھ آنکھیں موند لیں  ۔کچھ کچھ وقت نیند پوری کرنے کے بعد جب آنکھ کھلی دن کا کافی حصہ گزر چکا تھا آنکھیں چھت پر لگے پنکھے پر ٹکی ہوئی تھیں، پنکھا پاکستانی نظام کی طرح  سُست روی کا شکار تھا، لیکن اس کی سُست روی کا حل میرے ہاتھ میں موجود تھا جبکہ پاکستان کے مسائل کا حل؟؟؟ یہ سوال بری طرح گردن دبوچے ہوئے تھا ،اسی دباؤ میں اٹھ کھڑی ہوئی ۔شعوری طور پر اس سوال کا جواب جانتے ہوئے بھی لاجواب تھی۔۔

کمرے سے نکلنے پر نظر پھر ٹی وی پر پڑی ،اب ایک اور خاتون جو کہ پہلی والی خاتون سے جسامت میں قدرے دبلی پتلی دکھائی دے رہی تھی، اپنا گلے کا پورا زور لگا کرونا کے حوالے سے لگاتار خبریں منہ سے اُگل رہی تھیں۔۔اُسی لمحے سکرین پر وزیراعظم پاکستان نمودار ہوگئے جو کہ قومی اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے جس کے مطابق تمام مسائل کی وجہ اپوزیشن میں بیٹھی پارٹیاں تھیں۔میں نے اپنی لا علمی کا ماتم کرتے ہوئے ٹی وی بند کرنے میں ہی عافیت جانی۔۔بہت کچھ بدل چکا ہے لیکن عوام کو پاگل بنانے کے فارمولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *