جیسا منہ ویسی چپیڑ۔۔محمد اسلم خان کھچی

پچھلی تین دہائیوں سے ایک پلاننگ کے تحت عوام کو شعور اور تعلیم سے دور رکھا گیا ہے۔ عوام نے ڈگریاں تو لے لیں لیکن شعور و آگہی سے دور ہی رہے۔عوام تو عوام کچھ سیاستدان بھی ایسے ہی ہیں۔ صحیح کہتے ہیں ” جیسا منہ ویسی چپیڑ ” اور ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک مشہور سیاسی شخصیت جناب محترم راجہ ریاض صاحب پی ٹی آئی پہ تنقید کے نشتر برساتے ہوئے جیو ٹی وی پہ اپنی قابلیت کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ،لاہور سے سکھر تک موٹر وے پہ کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے اور نہ کوئی ریسٹ ایریا سکھر جانے والے لوگ ملتان سے پٹرول لیتے ہیں اور کبھی کبھی انہیں   لیہ انٹرچینح   سے اتر کے پٹرول لینا پڑتا ہے میں یہ سب سن کر  دم بخود رہ گیا۔
قربان جاؤں حامد میر جیسے اینکر پہ جو   لیہ انٹرچینج  کا نام سن کے بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے میں مصروف رہے۔
ویسے میں تھوڑا عرض کر دیتا ہوں کہ سکھر سے ملتان تک   عقل مندوں  کو ریسٹ ایریا بھی مل جاتے ہیں اور پٹرول پمپ بھی۔ ہاں اگر راجہ صاحب نے بھی فواد چوہدری کی طرح  “پی ” رکھی ہو تو پھر موٹر وے پہ ” لیہ ” بھی جاتا ہے۔

راجہ صاحب اور حامد میر کی علمیت کی داد دینے کے ساتھ ساتھ تھوڑا افسوس بھی ہے کہ یہ لوگ سوشل میڈیا سنچری ہونے کے باوجود بھی ہمیں ابھی تک ” چول ” ہی سمجھتے ہیں اور وہ اس معاملے میں حق بجانب بھی ہیں کیونکہ ہم نے   بغض عمران یا بغض نوازشریف   میں ہمیشہ ان جیسے لوگوں کو لبیک کہا ہے۔
بات ہو رہی ہے پٹرول کی تو چلو اس پہ بھی کچھ کہنے کی جسارت کر لیتے ہیں کہ کیونکہ ہماری   باشعور عوام   اس وقت کچھ سننے کے موڈ نہیں ہے، لیکن تھوڑا عرض کر دیتا ہوں کہ اگر پوری دنیا میں پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں تو پاکستان میں بھی تو بڑھنی چاہئیں ۔اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہے کیونکہ بھینس کے آگے بین بجانے کا فائدہ نہیں۔
ملک اس وقت لاک ڈاؤن ٹائپ کی کیفیت میں چل رہا ہے۔ یہ قوم پہلے ہی کام کرنے کی عادی نہیں تھی۔ رہی سہی کسر لاک ڈاؤن نے پوری کر دی۔ انکم کی کمی نے لوگوں کو فرسٹریشن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اپنی ناکامیوں کا غصہ نکالنے کیلئے سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بپا ہے کہ عمران خان نے یہ کر دیا۔
کبھی مندر بنا دیا۔
پٹرول سستا کر دیا۔ پٹرول مہنگا کر دیا۔
ویسے مجھے آج تک پٹرول کی کمی نہیں ہوئی، میں تو جب بھی کسی پٹرول پمپ پہ گیا ہوں، پٹرول ملا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کہیں نہ بھی ملا ہو، لیکن سوشل میڈیا دیکھوں  تو یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں گاڑیاں پانی پہ چل رہی ہیں۔ آج ایک بہت پیارے دوست پٹرول کی کمی کا رونا رو رہے تھے تو ڈرتے ڈرتے عرض کر بیٹھا کہ حضور آپکی گاڑی تو ایک دن بھی نہیں رکی تو موصوف کھسیانی ہنسی روک نہ پائے۔

جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے تب سے سوشل میڈیا, میڈیا اور اپوزیشن پارٹیاں اسے ناکام بنانے پہ تلی ہوئی ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے بجٹ بھی پاس ہو جاتے ہیں۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی ہو جاتی ہے۔ اس سال بھی بجٹ پاس ہو جائے گا لیکن ایک بات دل میں کھٹکتی ہے کہ اچانک اپوزیشن اور اتحادی حکومت سے الگ ہو جاتے ہیں اور پھر راتوں رات حکومت سے مل کے آئینی ترمیم اور بجٹ بھی پاس کروا دیتے ہیں۔

یہ سب کیسے ہو جاتا ہے۔ کچھ تو پردہ داری ہے لیکن اب کچھ ڈھکا چھپا رہتا نہیں، کیونکہ   کچھ لو اور کچھ دو   پہ عمل پیرا اپوزیشن پارٹیاں نئے نئے کھیل کھیل کر عوام کو بیوقوف بنا جاتی ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔ تمام اپوزیشن اور اتحادی اگلے چند دن میں پرانی تنخواہ پہ کام کریں گے اور باشعور عوام بغلیں   بجائے گی۔
عوام کے دل میں ایک سازش کے تحت نفرت بھر دی گئی ہے اور عوام بھی ایسی کہ اسامہ بن لادن کو شہید کہنے پہ عمران خان کو گالیاں دیتی ہے۔ یقین سے کہتا ہوں کہ اگر عمران خان اسامہ بن لادن کو دہشت گرد کہہ دیتا تو اس سے زیادہ گالیاں کھاتا۔ یہ تو شکر ہے کہ اس نے شہید کو شہید کہہ دیا۔

اسلام آباد میں   نیلسن منڈیلا  کا افتتاح شدہ رام مندر کیوں بن رہا ہے۔ عمران خان کو گالیاں
لال مسجد کو زمین دے تو دہشت گرد, نہ دے تو اسلام کا منکر۔۔۔۔
ہم کیسی قوم ہیں اور کن ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ؟
ایک طویل جدوجہد کے بعد پاکستان کو ایماندار حکمران ملا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا 77سالہ گند دو سال میں صاف ہو جائے۔ کرپشن کرنا بھی ہم نہیں چھوڑ رہے لیکن ہمیں اعتراض ہے کہ عمران خان نے کرپشن ختم نہیں کی۔۔

آٹا سکینڈل, شوگر سکینڈل, پٹرول بحران تمام حکومتوں میں آئے لیکن منظر عام پہ نہیں آئے ۔اب اگر عمران خان نے رپورٹ پبلش کر دی تو عمران خان کو گالیاں۔
ہر دور میں ہر حکومت کے جانے کے بعد ہم مٹھائیاں بانٹ کے ناچ ناچ کے پاگل ہو جاتے ہیں۔ بھٹو کو پھانسی ہوئی۔ ہم نے مٹھائیاں بانٹیں۔ ضیا الحق صاحب کا طیارہ کریش ہوا۔ ہم نے مٹھا ئیاں بانٹیں۔ بینظیر صاحبہ ,نوازشریف صاحب کی حکومتیں ختم ہوئی۔ ہم نے مٹھائیاں بانٹیں۔ ہم مجرموں کے رہا ہونے پہ مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔ کام کرنے والے کو ہم گالیاں دیتے ہیں۔
لیکن ہمیں یہ نہیں پتہ کہ سالانہ 18 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس حکومت کی کاوش سے زیرو پہ آگیا ہے۔
بینکنگ سود 13 % سے 7 % پہ آگیا ہے۔

چند دن پہلے دس لاکھ میں بکنے والا Actrema injection فری میں مل رہا ہے اور ہر کورونا مریض کو دو لگ رہے ہیں۔
ایک لمبی لسٹ ہے لیکن مضمون کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختصر کرتے ہیں۔

کوئی فائدہ نہیں ہے بات کرنے کا کیونکہ ان معاملات پہ کوئی بات نہیں کرے گا ۔ یا تو ان باتوں کی سمجھ نہیں اور اگر سمجھ ہے بھی تو معذرت کے ساتھ  بُغض عمران   نے زبان اور ضمیر کو تالا لگا دیا ہے۔ اس لیے عمران خان کے کسی اچھے کام کی کوئی تعریف نہیں کرے گا۔مسئلہ کیا ہے، عمران خان سے بغض کیوں ہے ؟

کیونکہ سابقہ حکومتیں کرپشن کی بہتی گنگا میں خود بھی نہائیں اور ہمیں بھی خوب نہلایا لیکن اب   کھابے   بند ہونے سے ہم پاگلوں کی طرح اپنے منہ نوچ رہے ہیں کہ ہم نے کیا کر دیا۔

کرپشن اب بھی بہت ہے لیکن سمٹ گئی ہے۔ ہر آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے اس لئے جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ اتنی ہی گالیاں دے کے بھڑاس نکالتا ہے ورنہ اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو عالمی وبا کا شکار ہونے کے باوجود بھی ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔

مسٹر عمران خان صاحب کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی جدوجہد کے ثمرات کے وقت  راجاؤں, مہاراجاؤں   جیسے لوگوں کو پھل کھانے میں شامل کر لیا جس کے وہ مستحق ہی نہیں تھے۔ پتہ نہیں یہ فیصلہ کس نے کیا لیکن پاکستان ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مُردہ ضمیر   لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا۔

یہ لوگ اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ کشتی ڈوب رہی ہے اور یہ چھلانگیں لگا کے کسی نئی کشتی پہ سوار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے اپنے درد سینے پہ سجائے کسی ڈاکٹر کی تلاش میں ہیں۔ کسی مسیحا کی تلاش میں جو   درد کرپشن   کا مداوہ کر سکے،لیکن جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے،نہ یہ کشتی ڈوب رہی ہے اور نہ کوئی ملاح کہیں جا رہا ہے۔سب پرانی تنخواہ پہ کام کریں گے ۔ تمام حکومتی ناکامیوں کے باوجود پاکستان اس وقت بہترین ہاتھوں میں ہے اور وہ ہاتھ ہیں عمران خان   کے۔۔

روزانہ ہر پتھر کے نیچے سے مافیاز نکل رہے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ کا خوفناک بازار گرم کر کے عمران خان کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپنے پرائے سب دشمن اور آستین کے سانپ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

میڈیا دو سال سے مہنگائی مہنگائی کا راگ الاپ کے حکومت کو بدترین ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اپنی کابینہ ہی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے
لیکن
کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا
کیونکہ اس برے وقت میں بھی 67 % پاکستانیوں نے عمران خان پہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔
یہ حکومت بھی رہے گی اور وزیراعظم بھی رہے گا۔
حکومت کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے دھول مٹی ہو جائیں گے جیسے نوزشریف ماضی کی کتاب بن گیا،اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر محترمہ مریم نواز صاحبہ کسی مصلحت پسندی کا شکار ہو کے کورنٹائن ہو گئیں۔
شہباز شریف کا کووڈ ٹیسٹ ہی نیگیٹو نہیں آرہا۔مرد بحران خاقان عباسی کا کورونا بھی لمبا ہو گیا ہے۔مسٹر زرداری بستر مرگ پہ ہے۔

لیکن جونہی عمران خان جائے گا یہ سب لوگ کونپلوں کی طرح پھوٹ پڑیں گے۔ نیلسن منڈیلا اپنی پلیٹلیٹس ٹھیک کر کے اڑان بھرے گا اور اپنی کرپشن کی مد میں دیئے ہوئے   500 ملین ڈالر  ہم سے وصولنے کی کوشش کرے گا۔
ایک زرداری سب پہ بھاری بھی ہم سب پہ بھاری پڑنے کیلئے اچانک بستر مرگ سے اٹھ کے   مولوی نواز شریف   کا نعرہ لگاتے ہوئے ہم پہ ٹوٹ پڑے گا۔
مسٹر خادم اعلیٰ بھی کورونا کو خیر باد کہتے ہوئے   بھینسوں   کے دودھ کا نیا ریٹ فکس کرنا شروع کر دیں گے۔
لیکن بھول جائیے۔۔۔۔ اب ایسا کچھ ہونے والا نہیں۔
شاید اس بار کچھ نیا ہو۔ جو لوگ ابھی بھی سابقہ لیڈروں پہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ اگر انہوں نے آنا تھا تو پھر یہ جاتے ہیں کیوں۔۔؟
اس لئے خاطر جمع رکھیے ،اگر سسٹم کو کوئی نقصان پہنچا تو یاد رکھیے عمران خان اس ملک کا آخری پرائم منسٹر ہے۔۔

اس وقت اس ملک کی آخری امید عمران خان ہے لیکن اگر آپ اس ناکامی کی سازش میں شریک ہو کے عمران خان کو ناکام کرتے ہیں تو یقین کیجیے آپ کی آئندہ آنے والی نسلیں غلام ابن غلام پیدا ہوں گی۔
مشرف نے سچ کہا تھا کہ اب اس قوم کا
اللہ ہی حافظ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *