وبائی صورتحال میں بلوچ طلبا کا مزاحمتی کردار۔۔زبیر بلوچ

کورونا کے وبائی مرض نے قریب نصف سال مکمل کر لیا ہے۔ اس دوران اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو گوشہ نشینی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ گوشہ نشینی کی اس زندگی میں جہاں ایک طرف انسانی زندگی کو بریک لگی ہے، وہاں دوسری طرف اس غیرمساوی اور طبقاتی سماج میں غریب اور مفلوک الحال بلوچ عوام ایک درد ناک زندگی جھیلنے پر مجبور ہیں۔ اذیت کی اس زندگی نے برسوں سے جاری بلوچ سماج کی فرسٹریشن کو مزید کرب ناک بنا دیا ہے۔

مسندِ اقتدار پر بیٹھے حکمرانوں کو کیا خبر کہ گھٹ گھٹ کر زندگیاں گزارنے والے غریب عوام کس طرح روح اور جسم کا رشتہ اب تک قائم رکھے ہوئے ہیں۔ روح اور جسم کا یہ رشتہ استحصال، لوٹ کھسوٹ، غربت، مہنگائی، بے روزگاری، لاعلاجی، ناخواندگی، بنیاد پرستی، تنگ نظری، انتہاپسندی کے خونی ریلےمیں بہہ رہا ہے، جو کسی بھی وقت ناگہانی کی شکل اختیار کر کے بلوچ بے بس عوام، شپانک اور عام دیہاڈی دار مزدورں کو اجتماعی خود کشیاں کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

بلوچ معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت کے ذمہ دار کون ہیں؟ قدرتی وسائل سے مالامال سرزمین کے وارث نان شبینہ کے محتاج کیوں ہیں؟ یہی وہ بنیادی اور سلگتا ہوا سوال ہے جس سے ہر بلوچ پیر و ورنا کو گزرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف آج ہمارا ہر پیر و ورنا بلوچ مزاحمت کا حصہ ہے۔ سیاست اور مزاحمت کے اس رشتے کو نوجوان بڑی ہمت اور جرات سے نبھا رہے ہیں۔ نوجوان جو اس سماج کی پچاس فیصد آبادی سے زیادہ ہیں، کووڈ 19 کی اس گوشہ نشینی اور تنہائی کے دور میں بھی ایک روشن اور آسودہ سماج کی تشکیل کے لیے مسلسل فتح کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ نوجوانوں کی اس مسلسل اور انتھک جدوجہد نے طویل جمود اور گھٹن کی کیفیت کو توڑ کر ایک نئی سیاسی بحث کو چھیڑ دیا ہے۔

یہ تمام صورت حال بلوچ سماج میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ بلوچستان کے طول و عرض میں وبائی مرض کے شدید ترین پھیلاؤ کے باوجود بلوچ نوجوان اپنی جان ہتھیلوں پر رکھ کر اپنے جائز تعلیمی آئینی حقوق اور سہولیات کے لیے مزاحمت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ آن لائن کلاسز اور انٹرنیٹ کی سہولیات کی فراہمی کا مسئلہ ایک گھمبیر و پیچیدہ معاملے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

طلبا بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ اس پینڈمک میں طلبا کی آن لائن کلاسز شروع کرنے سے پہلے طلبا کو وہ تمام ضروری سہولیات اور گیجیٹ فراہم کیے جائیں جس کے بغیر آن لائن کلاسز کی بات محض ایک خواب اور سراب ہوگی۔ لیکن ہائر ایجوکیشن کی طرف سے زمینی حالات کا جائزہ لیے بغیر اس طرح کا ایک بہت بڑا فیصلہ لینا طلبا کا تعلیمی سال ضائع کرنے کے ساتھ ایک نیا علاقائی تعصب پیدا کرنے کی طرف شعوری کوشش لگتی ہے۔

بلوچ طلبا الائنس میں شامل تنظیمیں، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور مختلف یونیورسٹیوں کے کونسلز نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اس تعلیم دشمن اقدام کے خلاف بلوچستان بھر اور اسلام آباد میں احتجاجی دھرنوں اور بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ طلبا کے اس نئے ابھار نے بلوچ طلبا کی صفوں میں ایک نئی شکتی اور جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ اس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ بلوچستان میں نوجوانوں نے سیاسی مزاحمت کا راستے اختیار کر کے مزاحمت اور شعوری جدوجہد کی ایک نئی بنیاد رکھ دی ہے۔ مزاحمت مظلوم قوموں کی ثقافت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ بلوچ نوجوانوں نے اس وبائی مرض کے دوران بھی مزاحمت کو اپنے ماتھے کا جھومر بنائے رکھا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *