• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اقبال، فلسفہ اور بغضِ ہودبھائی(دوسرا ،آخری حصّہ )۔۔ارسلان شکیل

اقبال، فلسفہ اور بغضِ ہودبھائی(دوسرا ،آخری حصّہ )۔۔ارسلان شکیل

ایران کی تاریخ شریعت محمدی سے بھی ہزاروں سال پرانی ہے، اس میں پارسی مذہب کا بھی بہت عمل دخل ہے، بلکہ اسلام سے پہلے ایران میں پارسی مذہب ہی سرکاری مذہب کی حیثیت کا حامل تھا، لہذا اقبال کے تھیسس  کا پہلا حصہ پارسی مذہب اور اسکے مابعدالطبیات  سے متعلق ہے، اپنے مقالے میں اقبال نے شروع میں قدیم ایران کے میٹافزکس پر پہلا باب باندھا ہے، اس کے بعد فلسفہ کے ایک اور موضوع گریک ڈوولازم اسکے بعد دیگر فلسفی موضوعات اور انکے ایران میں وجود پر لکھتے ہیں۔

ایسے میں اقبال کے مقالے کے بارے یہ کہنا کہ یہ فلسفے سے متعلق نہیں بلکہ تاریخ اور اسلام سے متعلق ہے، ایسا ہی ہے جیسے کوئی برٹرینڈ رسل کی کتاب تاریخ فلسفہ کا ٹائٹل دیکھ کر کہے کہ یہ تو تاریخ کی کتاب ہے ۔

پھر آگے چل کر اقبال پر الزام لگاتے ہیں کہ اقبال کا ذہن اور دماغ کھلا ہوا نہیں تھا جسکی وجہ سے انکا دل فلسفے سے اچاٹ ہو گیا ۔ اور اس بات کی دلیل کے طور پر اقبال کے اس شعر کو بنیاد بناتے ہیں

اس قوم میں شوخئی اندیشہ خطرناک

جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

گو فکر خداد سے روشن ہے زمانہ

آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

فرماتے ہیں کہ

اگر کھلا ذہن ابلیس کی ایجاد ہے، آپ فلسفہ نہیں پڑھ سکتے۔ آپ کا دل اس میں نہیں لگے گا ۔ اور علامہ اقبال کا دل نہیں لگا فلسفے کی طرف۔

اقبال، فلسفہ اور بغضِ ہودبھائی(حصہ اوّل)۔۔ارسلان شکیل

اقبال کے اس شعر کے بارے ہودبھائی کے   فہم سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ خود انکا دماغ اتنا بند ہے کہ انکو اقبال کا شعر ہی سمجھ نہیں آرہا ۔  اقبال نے یہاں محض آزادی ِ افکار پر تنقید نہیں کی بلکہ ایک مخصوص قسم کی آزادی ِ افکار پر تنقید کی ہے اور اس پر تنقید کرنے سے پہلے اشارہ بھی کیا کہ

اس قوم میں ہے شوخئی اندیشہ خطرناک

جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

اور قوم کے اس مخصوص رویے اور اس سے پیدا ہونے والی آزادی اظہار پر تنقید کی ہے۔اور آجکل کے دور میں اس بات کو سمجھنے کے لئے کسی لمبے چوڑے مضمون کی بھی ضرورت نہیں ہے ، ہر بندہ  واقف ہے کہ کس طرح فیسبک نے سٹینڈرڈ بنایا ہوا ہے کہ کسی کی توہین وغیرہ کرنے پر پوسٹ ہٹا دی جاتی ہے۔ اور کچھ عرصہ پہلے جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کا ویڈیو کلپ گردش میں تھا جس میں وہ ارشاد فرما رہی تھیں کہ آزادی اظہار رائے کی بھی حدود ہیں۔  اور یہاں اقبال بھی محض آزادی اظہار رائے یا آزادری افکار پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ اس آزادی افکار پر تنقید کر رہے ہیں جسکی بنیاد شوخئی اندیشہ خطرناک ہے۔

آگے چل کر ہودبھائی نہایت ہی کوئی عجیب و غریب دلیل لے کر آئے ہیں ،اقبال کے فلسفی نہ ہونے کو ثابت کرنے کی ، علامہ اقبال کے بیٹے کی کتاب خود رو سے ایک اقتباس کوٹ کرتے ہیں جس میں اقبال نے ایک ایسی بات کی ہے جو دین کا شوق رکھنے والے ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں۔۔

“میں جو اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمریورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔ خدا تعالی نے مجھے قوائے دماغی بہت اچھے عطا فرمائے تھے۔ مگر یہ قوا دینی علوم پڑھنے میں صرف ہوتے تو آج خدا کے رسول صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خدمت کرسکتا۔ اور جب مجھے یاد آتا ہے کہ والد مکرم مجھے دینی علوم ہی پڑھانا چاہتے تھے تو مجھے اور بھی زیادہ قلق ہوتا ہے” ۔

یہ تو ایک ایسی بات ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے، اللہ کو راضی کرنے کی ،دین کی خدمت کرنے کی اور اپنی آخرت بنانے کی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ باتیں ہیں احساسات کی ، انکو وہی سمجھ سکتا ہے جسکے دل میں ایمان ہو جو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہودبھائی کو بھی عنایت فرمائیں۔ آمین۔ بہرحال ہودبھائی نے اس بات سے بڑا ہی عجیب نکتہ نکالا ہے۔

یہ دسمبر1919 کو لکھا گیا۔ یعنی کہ ٹھیک ایک سو سال پہلے۔ یہاں وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ میں نے جا کے کیا اپنا وقت ضائع کیا فلسفہ پڑھنے میں۔ مجھے تو دین کی خدمت کرنی چاہیے تھی۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ ان کو فلسفی کیوں بنانا چاہتے ہیں جب وہ اپنے منہ سے، اپنے قلم سے یہ کہتے ہیں کہ اس شعبے ہپر لعنت ہو۔ اس پر وہ لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ وہ اس شعبے کے بڑے ایک لیڈر تھے۔ دیکھیے نا جب بت بناتے ہیں تو پھر کس قسم کی غلطیاں ہم کرتے ہیں۔

اب مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی اس بات سے ہودبھائی نے فلسفہ پر بھیجی جانے والی لعنت کہاں سے نکال لی ؟ یہاں علامہ اقبال تو ایسی کوئی بات ہی نہیں کر رہے کہ فلسفہ بیکار تھا، یا جو شاعری وہ کرتے رہے وہ بیکار تھی، یا پھر جو خطبات دئیے تھے بیکار یا قابل لعنت تھے۔ یہاں تو علامہ اقبال وہی درد دل بیان کر رہے ہیں جو ہر مسلمان کے دل میں ہوتا ہے کہ دین کی خدمت کا اپنا حق ادا نہیں کر پایا، اور اس درد دل کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں ایمان ہو ، جیسے کے دل میں اللہ اور اسکی رضا کے لئے کچھ کرنے کی کسک ہو۔

ہودبھائی کی تقریر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور اسکا پہلے  اور بنیادی حصے میں انہوں نے سارا زور یہ ثابت کرنے میں لگایا ہے کہ اقبال فلسفی نہیں تھے،  اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ساری ڈگریاں ہی پی ایچ ڈی میں لینے والا، اپنی شاعری اور خطبات میں فلسفے پر گہری گفتگو کرنے والا ، ایسا شخص جس کو دنیا فلسفی مانتی ہو اور  جس کے فلسفے پر بعد میں لوگ پی ایچ ڈی کے مقالے لکھ رہے ہوں اگر وہ فلسفی نہیں ہے تو پھر ہود بھائی کے نزدیک فلسفی ہونے کا میعار کیا ہے ؟ اور کسی شخص کو فلسفی تسلیم کرنے کا میعار خود ہودبھائی اپنے اسی لیکچر میں بیان کرتے ہیں۔

“دیکھیے فلاسفر آج کل کے زمانے میں کچھ زیادہ آسانی سے نہیں بنتے۔ اگر آپ کو سٹینفورڈ میں، اگر آپ کو یونیورسٹی آف کیمبرج میں کوئی ملازمت چاہیے، آپ کو پروفیسر بننا ہے وہاں پر تو آپ کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو اس شعبے میں فلسفے کے شعبے میں کتاب لکھنی پڑتی ہے۔ ایسے تحقیقی مقالات لکھنے ہوتے ہیں جو فلسفے کے شعبے کے جرائد میں شائع ہوئے ہوں۔ پبلیکیشنز جن کو کہتے ہیں۔ اور ڈھیر ساری چاہئیں۔ اور ایسی چاہئیں جو دنیا مانے کہ واقعی یہ بہت بڑا کام ہے۔ “۔

ہود بھائی کی اس عجیب و غریب سٹیٹمنٹ سے فلسفی بننے کا جو طریق سامنے آیا ہے  کہ اسکو یونیورسٹی میں پروفیسری کرنی چاہیے، کتابیں لکھ کر اپنی زندگی میں ہی دنیا سے منوانا چاہیے اور جدید جرائد میں مضامین شائع کروانے چاہئیں تو اگر اسکے مطابق  لوگوں کو فلسفی تسلیم کیا جانا شروع کر دیا جائے تو مغربی یونیورسٹیوں میں فلسفہ کے ڈیپارٹمنٹ بننے سے پہلے اور علمی موضوعات پر جدید جرائد کے سلسلے شروع ہونے سے پہلے کے جتنے لوگ بھی فلسفی کہلائے ہوئے ہیں جیسے افلاطون، ارسطو ، کنفیوشس وغیرہ وہ بھی فلسفیوں کی لسٹ سے خارج ہو جائیں گے ۔

ہودبھائی کی یہ باتیں اور رویہ دو میں سے ایک بات ہی ثابت کرتا ہے،

نمبر ایک: یا تو ہودبھائی کو اقبال سے بُغض ہے جسکی بنِا پر وہ ایسے بیہودہ جھوٹ بول رہے ہیں

نمبر دو: یا پھر وہ فلسفے سے اتنے نابلد  ہیں کہ اسکی مبادیات کا بھی علم نہیں اور اپنی اس جہالت کے باوجود خود کو اقبالیات پر علامہ ثابت کرنے کے لئے لیکچر دینے پہنچ گئے ہیں۔

ہودبھائی نے انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا والوں کو اگر یہ بتا دیا ہوتا تو شاید وہ انکی بات مان کر اپنے انسائیکلوپیڈیا میں اقبال کو فلسفی نہ لکھتے اور دنیا انکو فلسفی کے طور پر نہ جانتی۔

اور میرے نزدیک تو دونوں باتیں ہی سچی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہودبھائی کو اقبال سے ایسا بغض کیوں ہے جسکی وجہ سے وہ اقبال کی کریکٹر اساسینیشن کرنے کے لئے انکے خلاف ایک سمئیر کیمپین چلائے ہوئے ہیں ۔ تو اسکا جواب خود ہودبھائی نے اسی لیکچر میں ڈھکے چھپے الفاظ میں ان وجوہات پر روشنی ڈال ہی دی ،جن کی بنیاد پر انہوں نے نہ صرف اقبال کو اپنی اس سمئیر کیمپین کا حصہ بنایا ہوا ہے بلکہ انکی کریکٹر اساسینیشن بھی کھل کر کرتے ہیں۔

ہودبھائی کہتے ہیں۔۔

اب عمران خان آپ کو پتہ ہے نا پچھلے دنوں جنرل اسمبلی میں انہوں نے تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا ۔۔۔ وہ بڑی ایک خبیث، خراب چیز ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سارے دہشت گرد ہیں، تلوار اٹھا کے آجائیں گے یورپ۔ یہ سب آپ کا خوف ہے۔ تو اقبال یہی کہہ رہے ہیں کہ دیں اذانیں ہم نے یور پ کے کلیساؤں میں دیں۔ کوئی آپ کی مسجد میں آکر اس طرح کی بے حرمتی کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ اقبال کے پاکستان سے مجھے بڑا خوف آتا ہے۔

پھر اسی تقریر کے بعد ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

جھپٹ کر پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا ، وہ چیزیں جو ہیں مجھے ان سے بڑا ڈر لگتا ہے کیونکہ وہ بڑا ملیٹرسٹک اقبال ہے

یعنی ہود بھائی کو اصل تکلیف اقبال کی اس بات سے نہیں ہے کہ وہ صرف ماضی کے مسلمانوں کی شان اور عظمت کے قصیدے پڑھتا ہے نہ ہی انکے ان ادوار کا ذکر کرتا ہے جب مسلمان عروج پر تھے اور دنیا میں اپنی عظمتوں کے جھنڈے گاڑ رہے تھے۔ علم و فنون میں مسلمانوں کا ڈنکا بجتا تھا ۔ بلکہ ہودبھائی کو اصل مسئلہ اقبال کی وہ دور اندیشی ہے جس میں وہ 100 سال پہلے جب مسلمان انگریزی کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے وہ ان مسلمانوں کو انگریز کی فکری غلامی سے بھی آزادی حاصل کرنے کی طرف بلاتا ہے ۔ جیسے اقبال کہتا ہے

علاج آتش رومی کے سوز میں ترا

ترِی خودی پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

عاقل تھا مگر عقل کے پیچاک سے آزاد

اور حکمت افرنگ کے فتراک سے آزاد

اور میں اس مضمون کا اختتام اقبال کے اس شعر سے کرتا ہوں

یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی

یقیں، اللہ مستی، خود گُزینی

سُن، اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار

غلامی سے بَتر ہے بے یقینی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *