• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کرپشن یا نااہلی کون سی چیز زیادہ خطرناک ہے؟۔۔عامر کاکازئی

کرپشن یا نااہلی کون سی چیز زیادہ خطرناک ہے؟۔۔عامر کاکازئی

پاکستان کی موجودہ نااہل، نالائق اور نکمی حکومت کی کارکردگی کے بعد پوری دنیا کے اکانومسٹ اور سوشیالوجسٹ اب یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے  ہیں کہ کرپشن یا نااہلی میں سے کون سی چیز زیادہ خطرناک ہے، آپ کس کے ساتھ نہیں رہ سکتے؟ ابھی بھی عوام سمجھتے ہیں کہ یہ بدعنوانی ہے، جبکہ ماہرین نااہلی پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ اصل سوال دونوں کے درمیان مقابلے  کا نہیں بلکہ دونوں کو تلاش کرنا ہے۔

کرپشن کو سمجھنا اور اسے کنٹرول میں رکھنا آسان ہے ، مگر اس پر کلی طور پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ دوسری طرف نااہلی کو سمجھنا، اسے تلاش کرنا اور اس کے ساتھ اس کے سدباب کا حل تلاش کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ کسی بھی سیاسی حکومت میں وزیر اعظم ہر چیز کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس نے اپنا نکتہ نظر اور وژن دینا ہوتا ہے۔ جبکہ اس وزیر اعظم کے وژن اور پالیسیز پر کیسے عمل کیا جاۓ، یہ ذمہ داری بیوروکریٹس اور مشیروں پر ہوتی ہے۔ وزیراعظم کو اپنے مشیروں کے مشورے کو اپنی عقل اور دانش سے بھی سمجھنا ہوتا ہے اور اس میں اگر کسی ترمیم کی ضرورت ہے، تو وہ ترمیم کروانا یا مکمل طور پر اس مشورے کو ریجکٹ کرنا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

عاطف میاں ایک امریکن اکانومسٹ ہیں، یہ کچھ عرصہ موجودہ حکومت کی معاشی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں، انہوں نے کچھ دن پہلے ایک ٹویٹ کیا اور لکھا کہ کرپشن کے مقابلہ میں نااہلیت ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایک سسٹم اور معاشرہ کرپشن کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے ، ایک کرپٹ معاشرہ ڈیلیور کر سکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جاۓ اور آگے جایا جاۓ۔ مگر ایک نااہل اور نکما کبھی بھی ڈیلیور نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جانتا ہی نہیں کہ آگے کیسے جانا ہے۔

کرپشن ملک کو پیچھے نہیں دھکیلتی  مگر نااہلیت اور نکما پن ملک کو دنیا کے مقابلے میں کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی پیمانہ اس وقت دنیا میں نہیں جو نااہلیت کی پیمائش کر سکے کہ اس نے ملک کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ مگر ایک بات حالیہ نکمی حکومت نے دنیا کو بتا دی ہے کہ نااہلیت سے ملک کو نقصان کہیں زیادہ پہنچتا ہے، بمقابلہ کرپشن کے۔

بقول ملک ریاض کے کرپشن سے کام رکتا نہیں بلکہ تیز ہو جاتا ہے۔ مگر نااہلیت اور نکمے پن سے ملک کی ترقی میں جمود طاری ہو جاتا ہے۔ ہر چیز رُک جاتی ہے۔ پاکستان ، انڈیا، بنگلہ دیش جیسے ترقی پذیر ملکوں میں کرپشن ختم نہیں ہو سکتی مگر اگر ایک نااہل اونچی سیٹ پر آ جاۓ تو یہ نااہل ہر کام کرپشن کے نام پر  روک دیتا ہے۔ نتیجہ ملک میں معاشی جمود طاری ہو جاتا ہے۔

انصافی پچھلے پندرہ سال سے ایک ہی بات پر چیخیں مار رہے ہیں کہ کرپشن اس ملک کو تباہ کر دے گی۔ دو سال پہلے تک اس ملک کی اکثریت کو ایسا   ہی لگتا تھا، مگر جب دو سال پہلے ایک مہان اور کرشماتی لیڈر نے ملک کی باگ ڈورسنبھالی تو اس مہان لیڈر کے ایسے ایسے نااہلیت اور نکما پن کے کارنامے سامنے آنے شروع ہوۓ  کہ دنیا یہ سوچنے پر مجبورہو گئی کہ کرپشن سے تو ملک چل جاۓ گا مگر جاہلیت اور نااہلیت سے کوئی بھی ملک شاید کچھ سال ہی مشکل سے نکال سکے۔

تحریک انصاف کے کٹر اور اندھے سپورٹر اوریہ مقبول جان (غزوہ ہند فیم) اپنے ایک حالیہ کالم میں یہ خبر دیتے ہیں کہ حالیہ پیٹرول کی شارٹج کے بعد جب اچانک پیٹرول کی قیمت زیادہ کرنے کی سمری ان کے مشیروں نے وزیر اعظم کے سامنے پیش کی تو ان اعلیٰ    دماغوں نے ہمارے عظیم وزیراعظم کو قیمتیں زیادہ کرنے پر کچھ اس طرح قائل کیا:
ان مہان مشیروں نے وزیراعظم کو بتایا کہ پیٹرول کی شارٹج کی دو وجوہات ہیں۔
(1)) ہم (مشیروں ) نے مارچ ۱۹ سے بارڈر سکیورٹی اتنی سخت کر لی تھی کہ ایران سے پیٹرول اب سمگل نہیں ہو رہا۔ (مطلب مارچ سے پہلے سمگل ہو رہا تھا) ایران سے 10 بیرل (ایک بیرل = ۱۵۹ لٹر) روز سمگل ہوتا تھا۔ اور پاکستان کی کھپت پانچ لاکھ چھپن ہزار بیرل روزانہ ہے اور چونکہ اب دس بیرل روزانہ ایران سے سمگل ہونا بند ہو گیا ہے، اس لیے پاکستان میں پیٹرول کی شارٹج ہو گئی ہے۔

(2) دوسری منطق ان آکسفورڈ ، ہاورڈ اور مائیکرو سافٹ سے امپورٹڈ مشیروں نے یہ بتائی کہ چونکہ پاکستان میں پیٹرول ساتھ ہمسایہ ملکوں کی نسبت  بہت سستا ہو گیا ہے اس لیے سارا پیٹرول افغانستان اور انڈیا سمگل ہو جاتا ہے اس سے دو نقصانات ملک کو پہنچ رہے ہیں، ایک ملک کے اندر شارٹج آ رہی ہے دوسرے ہمارے فارن ایکسچینج پر انڈیا اور افغانستان مزے کر رہا ہے۔ ان مہان مشیروں نے باقائدہ اعداد و شمار پیش کر کے کہا ” خان صاحب دیکھو پختون خوا میں پیٹرول کی ڈیمانڈ ایک دم سے بہت زیادہ ہو گئی ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ افغانستان میں پیٹرول سمگل ہو رہا ہے۔ اس لیے فوراً سے پیشتر پیٹرول مہنگا کر دو اس سے تین فائدے ہوں گے ، ایک پیٹرول کی شارٹج ختم ہو جاے گی دوسری سمگلنگ رُک جاۓ گی، اور تیسرے ہمارے فارن ایکسچینج پر انڈیا اور افغانستان مزے نہیں کر سکے گا۔

دوسرے لفظوں میں ان امپورٹڈ مشیروں کا یہ مطلب تھا کہ ایران کے  بارڈر پر سختی کر دی گئی ہے کہ دس بیرل روزانہ سمگل نہ ہو اور دوسری طرف افغانستان اور انڈیا کی بارڈر پر سمگلروں کے لیے نرمی کر دی گئی کہ دبا کے لاکھوں بیرل کی سمگلنگ کرو۔

سینٹ پال نے اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا کہ کرشماتی لیڈرز ملکوں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ مگر ہمارے عظیم الشان قائد نے دنیا کا یہ فارمولہ بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔سقراط کہا کرتا تھا کہ ’’میں ایک بات جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا، مگر ہمارے والے کرشماتی لیڈر کی خود پسندی ، جہالت اور نااہلیت اس درجے کی خطرناک ہے کہ وہ اپنے اپ کو عقلِ کُل  سمجھتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارا عظیم لیڈر اپنی اس نااہلیت کو اپنی مہارت سمجھتا ہے۔

موجودہ حکومت نے کرپشن روکنے کے نام پر ووٹ لیے، مگر اب اپنی نااہلی سے تمام منصوبوں پر کام روک چکے ہیں۔ نہ  کوئی بیوروکریٹ کام کرنے پر تیار ہے اور نہ  ہی کوئی ٹھیکہ دار کام لینے پر۔ موجودہ نااہل حکومت نے ہر کام روک کر یہ سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ کرپشن پر قابو پا لیا ہے، نہ  رہے بانس نہ  بجے گی بانسری، مطلب کہ نہ کوئی کام ہو گا اور نہ کرپشن ہو گی۔ افسوس اس بات کا کہ اس کم عقلی اور کم فہمی پر یہ مورکھ اِٹھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوۓ نخرہ بھی دکھاتے ہیں۔

کرشماتی لیڈر کا آئیڈیا جرمن سوشیالوجسٹ میکس ویبر نے ڈیویلپ کیا تھا۔ شکر ہے ان کی وفات سو سال پہلے ہی ہو چکی ہے ورنہ پاکستان کے کرشماتی لیڈر کی حرکتیں دیکھ کر  سوشانت کی طرح ابھی تک اپنے آئیڈیا سے تائب ہو کر خود کشی کر چکے ہوتے۔

آخر میں ایک بات ہم کلیئر کر دیں کہ ہم ہرگز بھی کرپشن کو سپورٹ نہیں کرتے، یہ مضمون ہرگز ہرگز بھی کرپشن کی ہمایت میں نہیں لکھا گیا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مثالی معاشرے میں دونوں چیزیں یعنی کرپشن اور نااہلیت معاشرہ کے لیے قاتل ہیں۔ مگر شرط مثالی معاشرہ کی ہےِ اور مثالی معاشرہ کئی سالوں کی مسلسل محنت اور حکومتوں کے تسلسل سے بنتا ہے۔

(اس تحریر کے لکھنے کا آئیڈیا اور فگرز اوریا صاحب کے کالم اور کورٹ پروسیڈینگز سے لیے گئے  ہیں)

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *