اقبال، فلسفہ اور بغضِ ہودبھائی(حصہ اوّل)۔۔ارسلان شکیل

سمئیر کیمپین اور کریکٹر اساسینیشن پولیٹیکل سائنس کی اصطلاحات ہیں جن کا بنیادی مقصد کسی فرد یا گروہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے، کئی دفعہ یہ محض کسی فرد تک محدود ہوتی ہے اور کئی دفعہ یہ طریقہ کار کسی گروہ کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ عمومی طور پر اسکا مظاہرہ الیکشن کمپینز کے دوران نظر آتا ہے جب کسی سیاست دان کے خلاف یہ کمپین چلا کر اسکی پارٹی کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس میں باتوں کو توڑ مروڑ کر، حقیقت کو جھوٹ میں ملا کر بیان کیا جانے لگتا ہے۔ اور کئی دفعہ حقیقت کو ہی ضروری سیاق و سباق سے ہٹا کر گمراہ کن طرز پر بیان کیا جاتا ہے کہ عام انسان مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اس سب کا مقصد نفسیاتی طور پر لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اور اگر عوام کے دل میں آپکے مخالف کے لئے محض شک ہی پیدا ہو جائے تو کریکٹر اساسینیشن کرنے والے کی یہی بڑی کامیابی ہوتی ہے ۔ کیونکہ شک ہی باقی سب چیزوں کا دروازہ ہے۔

پاکستان میں موجود فزکس کے ایک پروفیسر پرویز ہودبھائی نے ایسی ہی سمئیر کیمپین پاکستان کی مذہبی اساس کے خلاف شروع کر رکھی ہے، چونکہ پاکستان کی مذہبی اساس میں علامہ اقبال کو بہت اہمیت حاصل ہے لہذا اسی کیمپین میں اکثر علامہ اقبال کو ٹارگٹ بنائے رکھتے ہیں، اور کئی دفعہ انکی کریکٹر اساسینیشن کرنے میں بہت حد تک  پست ذہنیت کا مظاہرہ کرجاتے ہیں ، اسی طرح اقبال کی کردار کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں

جس نے میٹرک بھی نہ  کیا  ہو وہ آئن سٹائن کو للکارنے لگا

اقبال کا آئن سٹائن سے اختلاف تھا بھی یا نہیں یہ تو الگ موضوع ہے، لیکن ان کو اقبال کا آئن سٹائن پر کچھ کہنا بھی آئن سٹائن کی شان میں اتنی بڑی گستاخی بن گیا کہ اقبال کے بارے میں کہہ دیا کہ جس نے میٹرک بھی نہیں کیا  ہوا، آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہودبھائی اقبال کی کریکٹر اساسینیشن کرنے میں کس حد تک گئے ہیں۔

11 اکتوبر 2019 کو پرویز ہودبھائی نے حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد میں اقبال فلسفہ اور سائنس کے عنوان سے ایک لیکچر دیا ہے جس میں اقبال کے بارے میں  بات کرنے سے پہلے تمہید باندھتے ہوئے فرمایا

” ایسی شخصیتیں جو پہلے سے بہت قد آور ہیں ان کو ہم اور زیادہ قد آور کرتے ہیں۔ جو 6 فٹ کا ہے ہم اسکو 12 فٹ کر دیتے ہیں۔ جو 7 فٹ کا ہے اس کو 14 فٹ کر دیتے ہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ ”

یہ بات انہوں نے اقبال سے متعلق اس قوم کے رویے پر کی ہے۔ کیونکہ اس کے فورا ًبعد فرماتے ہیں

” آج کا موضوع علامہ اقبال ہیں”۔۔

یعنی ہود بھائی کے نزدیک پاکستانی مسلمانوں نے اقبال کو اسکے قد سے کہیں زیادہ بڑا کیا ہوا ہے اور کم سے کم دگنا تو ضرور کیا ہوا ہے ۔   اقبال پر تو خیر کتابوں کی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی سلوک ہودبھائی کے چاہنے والوں نے ہودبھائی کے متعلق اپنایا ہوا ہے، اور خود ہودبھائی نے آئن سٹائن کے متعلق اپنایا ہوا ہے جیسا کہ  پیچھے ہم نے ذکر کیا، ہودبھائی کی اکثر ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں جہاں وہ کسی جگہ گفتگو یا انٹرویو کے لئے انوائیٹ کئے گئے اور لوگ ان کو سننے بیٹھے ہوئے ہیں، اور ہودبھائی ایسی سطحی گفتگو کر رہے ہیں کہ الامان والحفیظ بلکہ زیادہ دور کیا جانا، یہ مضمون انکی جس تقریر کی بنا پر لکھا جا رہا ہے وہ تقریر ہی اس کی بہت اعلیٰ مثال ہے۔  لیکن اپنے حلقہ میں بہت آوٹ سپوکن شخصیت کے طور پرجانے  جانے والے ہود بھائی نے کبھی خود سے متعلق ایسے رویے پر اصلاح نہیں کی، شاید ان کی تنقید تب ہی ہوتی ہے جب ایسا رویہ کسی مسلمان شخصیت سے متعلق روا رکھا جائے۔

اسکے بعد اقبال سے متعلق اس قوم کی غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے فرماتے ہیں

” ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ فلاسفر تھے۔ فلسفی تھے۔ ”

یہ فرمانے کے بعد  عرض کرتے ہیں کہ

علامہ اقبال سنہ1905 میں یونیورسٹی آف کیمبرج کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اور تین سال انہوں نے فلسفہ پڑھا۔ اور اس کے بعد پھر وہ انہی تین سالوں کے دوران یونیورسٹی آف میونخ گئے جہاں انہوں نے پی ایچ ڈی فلسفے کے شعبے میں کی تھی۔ ڈیپارٹمنٹ آف فلاسفی، یونیورسٹی آف میونخ۔ وہاں انہوں نے اپنا تھیسس بھی جمع کروایا۔ ڈیپارٹمنٹ آف فلاسفی میں، جس کا عنوان تھا “دی ڈیویلپمنٹ آف میٹا فزکس ان پرشین” ۔

یعنی اقبال نے تین سال کیمبرج میں فلسفہ پڑھا، پھر جرمنی میں فلسفہ پر پی ایچ ڈی کے لئے تھیسس لکھا، جرمنی کی یونیورسٹی نے فلسفے میں ڈاکڑیٹ کی ڈگری دی جس کو حاصل کرکے وہ ڈاکٹر کہلائے۔

عجیب و غریب صورت حال یہ ہے کہ ہودبھائی نے پہلے تسلیم کرتے ہیں لیکن اسکے باوجود فرماتے ہیں کہ اقبال فلسفی نہیں تھے اور انکو فلسفی سمجھنا محض ایک غلط فہمی ہے۔یعنی جرمنی اور جرمنی کی یونیورسٹی انکو فلسفہ کی ڈگری میں ڈاکٹریٹ دے کر فلسفی تسلیم کر رہی ہے لیکن ہودبھائی کے نزدیک یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔

پھر ہودبھائی یہاں تک ہی نہیں رکے آگے بڑھ کر اقبال کے پی ایچ ڈی کے مقالے کے متعلق کہتے ہیں کہ

اس میں کوئی نئی سوچ تو نہیں ہے نا۔ یہ وہ سوچ ہے جو مولانا روم کی تھی۔ جو صوفیائے کرام کی تھی۔

ہود بھائی کی اس بات کو سن کر تو واضح ہو رہا ہے کہ ہودبھائی نے اقبال کے تھیسس کو پڑھنا تو دور کھول کر بھی نہیں دیکھا۔ بلکہ ظلم بالائے ظلم اگر اسکا انڈیکس ہی اٹھا کر دیکھ لیتے تو ایسی سطحی قسم کی بات کرنے کی نوبت نہ آتی۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ فلسفہ سے اس حد تک نابلد ہیں کہ مابعدالطبیات کو محض تصوف کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اور چونکہ اقبال کی شاعری مشہور ہے اور مولانا روم کی بھی شاعری موجود ہے تو انہوں نے مابعدالطبیعات اور شاعری کی دو جمع دو کر کے چار میں مولانا روم جیسی صوفیانہ سوچ نکالی ہے ۔

مابعدالطبیات خاص طور پر فلسفے کا ایک وسیع موضوع ہے جس کو انگریزی میں میٹافیزکس کہتے ہیں، اور اسکے فلسفے سے گہرے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ارسطو کے مرنے کے تقریباً سو سال بعد کسی فلسفی(شاید اینڈرانکس آف رہوڈیز) نے اسکے 14 مضامین کا مجموعہ جمہ کیا اور اسکا جو نام رکھا اس سے لفظ میٹافزکس بنا ہے ۔   یعنی اسکا فلسفے سے تعلق اتنا گہرا ہے کہ یہ دنیا کے ایک عظیم فلسفی ارسطو کے مضامین سے وجود میں آیا ہے۔ مابعدالطبیات کا تعلق فلسفے سے اتنا گہرا ہے کہ اسکو فلسفہ  کے بنیادی حصوں میں تسلیم کیا جاتا ہے اور چونکہ اس لیکچر میں ہودبھائی نے  کیلی فورنیا امریکہ کی مشہور یونیورسٹی سٹینفرڈ کا حوالہ دیا ہے لہذا ہم یہی کوشش کریں گے کہ فلسفہ سے متعلق تمام حوالے سٹینفرڈ کے ہی استعمال کیے جائیں اور  اسی سے دکھا دیتے ہیں کہ مابعدالطبیات یعنی میٹافزکس کو انہوں نے بھی فلسفے کے بنیادی موضوعات کی فہرست میں لکھا ہوا ہے، بلکہ اسی یونیورسٹی میں کئی استاذہ ایسے ہیں جنہوں نے مابعدالطبیات میں سپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔اور یہاں ایک ہودبھائی ہیں کہ وہ اقبال کو فلسفہ سے الگ کرنے کے لئے میٹافزکس کو ہی تصوف تک محدود کرنے کا دجل دکھا گئے ہیں۔

پھر اقبال پر اپنی سطحی سی رائے کو تقویت دینے کے لئے بات مزید آگے بڑھاتے ہیں کہ

اصل میں فلاسفی ایک بڑی ٹیکنیکل چیز ہے۔ اس میں ایسے ایسے شعبہ جات ہیں جن کے نام سے ہی انسان گھبرا جاتا ہے۔ ایپسٹیمالوجی، ایتھکس، ایگزسٹینشئیلزم۔ بیس اس طرح کے ہیں۔ جن کا اردو میں بھی کوئی ترجمہ نہیں۔ شاید ہولیکن بہت مشکل ہوگا۔ تو علامہ اقبال کا  فلسفہ ایک مخصوص شعبے میں تھا اور وہ تاریخ کا تھا اور وہ اسلام سے متعلق تھا۔

پہلے تو خود فلسفہ سے متعلق اپنی کم مائیگی کا اقرار کر رہے ہیں کہ فلسفہ میں ایسے ایسے شعبہ جات ہیں جن کے نام سے ہی ہودبھائی جیسا انسان گھبرا جاتا ہے ۔) ظاہر ہے جس قسم کا فلسفے کا علم اقبال پر تنقید کرتے ہوئے ظاہر کر رہے ہیں ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ بات خود پر ہی قیاس کی ہے)۔  اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ فلسفہ کی شاخوں کے جو نام ہیں انکے اردو تراجم سے بھی نابلد  ہیں ۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر جو  بات ہودبھائی نے ارشاد فرمائی وہ یہ ہے ۔

تو علامہ اقبال کا ایک مخصوص شعبے میں تھا اور وہ تاریخ کا تھا اور وہ اسلام سے متعلق تھا۔

جیسا کہ میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ ہودبھائی کو نہ تو فلسفے اور اقبال کی شاعری کا کچھ علم ہے اور فلسفہ سے اپنی جہالت کا اقرار وہ کر ہی چکے ہیں اور فلسفے سے تو وہ اس حد تک نابلد  ہیں کہ ا ن کو یہ تک نہیں پتا کہ مابعدالطبیات اصل میں ہوتی کیا ہے۔چونکہ جہالت کے ساتھ ساتھ انکو اقبال سے بغض بھی لاحق ہے لہذا یہاں بھی نہایت عجیب و غریب قسم کا دجل و فریب اور مکاری دکھانے کی کوشش ہودبھائی نے کی ہے ، پہلے خود ہی اقبال کے پی ایچ ڈی کے تھیسس  کا نام بتایا دی ڈیویلپمینٹ آف میٹا فزکس ان پرشین” یعنی ایران میں مابعد الطبیات کا ارتقا” ۔  پھر فرمانے لگے کہ اسکا تعلق تاریخ سے تھاہودبھائی فلسفے سے تو ناواقف ہیں  ہی،لیکن  ان کو  ایران کی تاریخ کا بھی ذرہ برابر علم نہیں اور اقبال کے تھیسس کو تو انہوں نے بہرحال کھول کردیکھا ہی نہیں، اگر دیکھا ہوتا تو انکو اندازہ ہوتا، بلکہ اگر نام کو ہی غور سے پڑھ لیتے تو انکو پتا چل جاتا کہ مقالے کا موضوع نہ تو تاریخ ہے نہ ہی خصوصی طور پر اسلام ہے، بلکہ مابعدالطبیات اور اسکا ارتقا ہے ، وہ بھی ایران میں۔