انوکھا لاڈلا۔۔ شاہد محمود

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کچھ احباب میرے پیارے اللہ کریم کے انوکھے لاڈلے ہیں جو بارہا آزمائے جاتے ہیں یا مسلسل آزمائش میں رہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزمائش میں رہنے والا بندہ انوکھا لاڈلا کیسے ہو گا؟ لیکن جب سورۃ یونس کی درج ذیل آیت نگاہ سے گزری تو جیسے وجد طاری ہو گیا۔ میرا کریم اللہ ہی تو ہماری نفسیات کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ میرے جیسے ڈھلمل یقین والے کھوٹے سکوں کو بھی اللہ کریم ان آزمائشوں کے ذریعے اپنی آغوش رحمت میں لئے رکھتا ہے ورنہ شاید ہماری اپنی غفلت ہمیں لے ڈوبے۔ آیت درج ذیل ہے،(سورۃ یونس آیت 12)

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وه ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لیے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا، ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لیے اسی طرح خوشنما بنا دیا گیا ہے۔

مجھ ناچیز حقیر پر تقصیر گناہ گار و سیاہ کار بندے کو لگتا ہے کہ آزمائشوں میں مبتلا رہتے ہوئے اللہ کریم سوھنے پاک رب العالمین سے لو لگائے رکھنے والے اللہ کریم کے انوکھے لاڈلے ہیں جنہیں اللہ کریم آزمائشوں کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کئے رکھتا ہے اور اس طرح بندے کا رابطہ اللہ کریم سے جڑا رہتا ہے۔ اللہ کریم کی محبت دل میں راسخ ہوتی ہے اور بندے کی “میں” ختم ہوتی جاتی ہے۔ بندہ آزمائشوں پر صبر کرتا ہے اور سمجھ جاتا ہے کہ اللہ کریم میرے ساتھ ہے اور اسے میرا خیال ہے۔ اس کیفیت کی بابت میاں محمد بخش رح کھڑی شریف والے فرماتے ھیں کہ؛

جنہاں دکھاں تے دلبر راضی، سکھ انہاں توں وارے
دکھ قبول محمد بخشا، راضی رھن پیارے

اور خواجہ غلام فرید رح کوٹ مٹھن شریف والے فرماتے ہیں؛

جے سوہنڑا میری دکھ وچ راضی
تے میں سُکھ نوں چولہے ڈانواں
یار فرید کدی مل جائے سوہنڑا
اونہوں رو رو حال سناواں ​

اور اس وقت عامر عثمانی کے اشعار موضوع کی مناسبت سے ذہن میں آ گئے؛

عشق کے مراحل میں وہ بھی وقت آتا ہے
آفتیں برستی ہیں، دل سکون پاتا ہے

آزمائشیں اے دل! سخت ہی سہی لیکن
یہ نصیب کیا کم ہے، کوئی آزماتا ہے

عمر جتنی بڑھتی ہے، اور گھٹتی جاتی ہے
سانس جو بھی آتا ہے لاش بن کے جاتا ہے

آبلوں کا شکوہ کیا، ٹھوکروں کا غم کیسا
آدمی محبت میں سب کو بھول جاتا ہے

کارزارِ ہستی میں عز و جاہ کی دولت
بھیک میں نہیں ملتی، آدمی کماتا ہے

اپنی قبر میں تنہا آج تک گیا ہے کون
دفترِ عمل عامرؔ! ساتھ ساتھ جاتا ہے

پھر عشق و محبت کے اس سفر میں بندہ اپنی ہستی اپنے محبوب رب العالمین کے سامنے فنا کر دیتا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے ” صبغت اللہ ” سے نوازا جاتا ہے۔ صبغت اللہ جسے نصیب ہو جائے اس کی بات، دعا، دم درود، سب پر تاثیر ہو جاتا ہے۔ رب سوھنے کے رنگ میں رنگے ہوۓ ہوئے بندوں کی ہر ادا، ہر عمل اللہ سوھنے پاک رب العالمین کے رنگ میں رنگا ہوتا ہے اور ان کے پاس آنے والے ہر خاص و عام پر اللہ کے رنگ کی پچکاری چل جاتی ہے جو پریشان حال و بلیک اینڈ وائٹ زندگی تک کو رب سوھنے کی رحمت سے رنگ دیتی ہے اور اللہ کریم اپنے بندے کے کام خود بنانے لگ جاتا ھے اور بندے پر رحمتیں اور انعامات فرماتا ہے۔ اللہ سوھنا پاک رب العالمین سب پر رحمتیں ہی رحمتیں فرماتا ہے۔ دوسری طرف بسا اوقات بندہ جس شاخ پر بیٹھا ہوتا ہے خود ہی اس شاخ کو اپنے گناہوں، بدگمانی اور دیدہ دانستہ برے اعمال کی دیمک سے چاٹ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو گھن لگا بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے آزمائشوں کی بجائے اسے خوف و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ قرآن حکیم کی سورۃ الشورٰی میں اللہ کریم کا فرمان ہے کہ؛

وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْـرٍ (سورۃ الشورٰی 30)

اور تم پر جو مصیبت آتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں سے آتی ہے اور وہ بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے۔

اگر کبھی خوف و مصائب کا سامنا بھی ہو تو اس کا علاج رجوع الی اللہ ہی ہے۔ اللہ کریم ہی ستار العیوب اور معاف فرمانے والا ہے تو بندہ جب اللہ کریم سے رجوع کر کے اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہوئے توبہ کرتا ہے تو اس کا مقدر بدل جاتا ہے۔ وہ اندھیروں سے نکل کر اجالوں میں آ جاتا ہے۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ انسان جتنی مرتبہ رجوع الی اللہ کرتا ہے اتنی مرتبہ اس کا مقدر بدلتا ہے۔ اللہ کی طرف رجوع کا عملی مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کریم کے احکامات کی نافرمانی چھوڑ کر اللہ کریم کی فرمانبرداری میں آ جائے اور نافرمانی یا غفلت کے عرصہ میں اگر کسی دوسرے انسان کی حق تلفی کی ہے تو اس کا ازالہ کرے، کسی کی پریشانی کا باعث بنا ہے یا کسی بھی قسم کا نقصان و دل آزاری کی ہے تو اس کا نقصان پورا کرتے ہوئے عملی طور پر تلافی کرے اور دل آزاری کی معافی مانگ لے۔ اور باقی زندگی اللہ کریم کے احکامات اور اللہ کریم کے پیارے حبیب (ہمارے پیارے آقا کریم) رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق گزارے۔ دعا ہے کہ اللہ سوھنا پاک رب العالمین ہم سب کو معاف فرماۓ اور ہمیشہ اپنی خصوصی رحمتوں اور حفاظت کی لپیٹ میں رکھے اور ہمیں اپنے رنگ میں رنگ لے۔ آمین ثم یا رب العالمین۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *