جو ہوا حال ہمارا سو تمہارا ہو گا۔۔اقتدار جاوید

جان بولٹن پچھلی نصف صدی سے امریکی سیاست میں اہمیت کی حامل شخصیت ہیں مگر شہرت انہیں ٹرمپ کے سلامتی کے مشیر بننے، اس مشاورت سے استعفٰی اور کتاب لکھنے اور اس کے مبنی بر حقائق مندرجات سے حاصل ہوئی ہے ان کی کتاب

The room where it happened
ایک تہلکہ خیز کتاب ہے جس کی مدد سے جو تھوڑا بہت بھرم ٹرمپ کا تھا وہ بھی جاتا رہا۔بولٹن نے ویتنام کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا اور اب وہ کہہ رہا ہے کہ ٹرمپ جو دنیا کے سب سے بڑے اور کلیدی عہدے پر فائز  ہےوہ اس کے لیے قطعاً  ناموزوں شخص ہے ٹیگور کا کہنا ہے کہ حقائق بہت سارے ہیں مگر سچ صرف ایک ہے واحد ہے اور یکتا ہے۔ادھر فواد چوہدری خود نہ سہی مگر ان کا خاندان پچھلے پچاس سالوں سے پاکستان کی سیاست میں سرگرم ہے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ بولٹن کی باتوں پر اور کتاب پر پوری دنیا میں بحث بھی ہو رہی ہے اور ٹرمپ کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس پر اعتبار بھی کیا جا رہا ہے مگر جو فواد نے کہا ہے اس کو سارا نہیں تو آدھا تسلیم کیا جا رہا ہے اور اس پر بھی خاصی لے دے ہو رہی ہے۔ ان دونوں کے موازنے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ اور عمران کا موازنہ بھی دلچسپی کا حامل ہے۔
ان دونوں یعنی ٹرمپ اور عمران کی شہرت عورت ذات کے حوالے سے کچھ اچھی نہیں بری تو خیر نکّے میاں صاحب کی بھی بہت ہے مگر ان کی کہانی ذرا دراز ہے پھر کبھی سہی۔ٹرمپ کو عورت ذات کے حوالے سے جس نام سے یاد کیا جاتا ہے ہماری تہذیب اور اخلاقیات اس لفظ کے اظہار کی اجازت نہیں دیتی اس کا نام ایک درجن عورتوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کے تعلق سے لیا جا رہا ہے اور اسے تسلم بھی کیا جا رہا ہے اور عمران کو تو ساری دنیا پلے بوائے کے نام سی ہی جانتی ہے۔
ایک ہفت روزہ میں عورتیں تین کہانیاں ایک سلسلہ تھا جو کافی مقبول ہوا عمران خان کو بھی زندگی میں کئی ایسی عورتوں سے واسطہ پڑا جو باقاعدہ اس کی کردار کشی کے لیے تیار کی گئی تھیں۔زیادہ دور نہ جائیے اللہ بخشے ایک گلالئی تھی اس نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر شرم و حیا کے سارے تقاضے بالائے طاق رکھ کر پست سطح پر آکر الزامات لگائے مگر پاکستانیوں نے اس کے ان الزامات کو بھی نظر انداز کیا۔پھر ایک اور کردار نمودار ہوا جسے ریحام خان کے نام سے دنیا جانتی ہے وہ آج تک اپنی خرافات سے باز نہیں آئی، لوگوں نے اس کی باتوں اس کی کتاب کو اور اس کے مندرجات کو بھی رد کر دیا۔پنکی پیرنی کے نام پر کیا کیا گرد نہیں اڑائی گئی اور کیا کیا کہانیاں نہیں بنائی گئیں مگر یہ کہانیاں جھوٹی تھیں یا سچی بہرحال مسترد کر دی گئیں۔شاید تنہائی میں عمران نے خود اس بات پر غور کیا ہو کہ آخر کیا وجہ ہے جو لوگ اس کے بارے میں اڑائی گئی گرد خود صاف کرنے میں منہمک اور اتنے سیریس کیوں ہیں ۔اس کے پیچھے ضرور کوئی توجیہ ہوگی اور لوگوں کا ضرور کوئی دکھ ہو گا کوئی تجربہ ہو گا۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ عوام نے اس کے شخصیت سے متعلق ہر برے دعوے کو مسترد کر دیا کہ اب لوگ ایک تبدیلی ایک نئی سیاست اور ایک نئے پاکستان کی امید لگا بیٹھے تھے۔وہ سیاسی اشرافیہ جس نے اس معاشرے کی شاہ رگ پر اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے ان سے نجات حاصل کرنا وہ بڑا مقصد تھا جس کی خاطر وہ اس کی ہر خامی اور منفی پروپیگنڈے کو پرِ کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے پا رہے تھے۔
چانکیہ کا قول ہے زمین کو سب سے زیادہ مدد سچ کی طاقت سے ملتی ہے یہ سچ کی طاقت ہے کہ ہم دیکھتے ہیں سورج چمک رہا ہے ہوائیں چل رہی ہیں حقیقت میں سب کچھ سچ کی طاقت سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پلے سچ نہیں ہے تو جتنی مرضی مرصع اور مقفٰی انداز میں بات کریں اپنے دلائل دیں ایک تو وہ سب بے وقعت ہو گا اور دوئم اس پر کوئی اعتبار بھی نہیں کرے گا۔ اعتبار ہی وہ دولت ہے جس پر کسی سیاستدان کی ساری شخصیت اور کرزما انحصار کرتا ہے اگر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں۔
دو سال تو یہی سمجھا گیا کہ تحریک انصاف کا بیانیہ حقائق پر مبنی ہے عام آدمی کی پر کیپیٹل انکم کم ہو رہی ہے اڑھائی کروڑ کے قریب بچے سکول داخل ہی نہیں ہو پاتے پانچ کروڑ سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔۔

اب ذرا رک کر دیکھتے ہیں کہ خط غربت کیا بلا ہے اور یہ یہاں کے لوگوں کو کیسے نگل رہی ہے۔پاکستان میں اس خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد تقریباً نو کروڑ ہے اور موجودہ حکومت کے دو سالوں کے دوران اس میں دو کروڑ لوگوں کا اضافہ ہوا ہے۔سادہ لفظوں میں پاکستان میں جس آدمی کی تنخواہ یا ماہانہ کمائی تین ہزار سے کم ہے وہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اس کرونا کی وبا کے دنوں میں حکومتی امداد کی ماہانہ شرح چار ہزار رکھی گئی ہے۔
عمران خان کو پذیرائی  ملنے میں ”اور عوامل“ کے ساتھ اس کے ایسے وعدے اور توقعات تھیں جو عوام نے اس سے باندھ لی تھیں جیسے ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھروں اور نوے دنوں میں بنیادی تبدیلیوں کا آغاز تھا۔ثانیاً آزمایا ہوئی سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں عوام ذہنی طور پر نالاں تھے اور عمران سے واقعتاً کسی بڑی تبدیلی کی امید لگا بیٹھے تھے۔ کچھ تلخ حقائق یہ تھے:

نورا کشتی کی اصطلاح عمران خان نے پہلی بار استعمال کی تھی اور یہی وہ واحد اصطلاح تھی جس کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ پچھلے دس سالوں میں نواز شریف اور زرداری نے ملی بھگت سے ایک معاہدہ کیا جو اصل میں پیسوں کی بندر بانٹ تھی مگر اسے ملفوف اور پوشیدہ انداز میں ایک نئے عمرانی معاہدہ کا نام دیا گیا کہ یہ جمہوریت نواز لوگ ہیں اور 1999 کی آمریت اور پی سی او ججز اور تحریک بحالی عدلیہ کی سرگریوں اور عوام میں اس کی پذیرائی کی وجہ سے ان دونوں بنارسی ٹھگوں کو ایک بار پھر نجات دہندہ سمجھ لیا ان ٹھگوں کی حمایت ان صحافیوں نے کی جو آج کل اس موضوع کا ذکر چھڑتے ہی معافی کے خواستگار بن جاتے ہیں مگر اس وقت وہ صحافی انہیں نجات دہندہ ثابت کر رہے تھے اس وقت عمران خان نے ان دونوں کو پہچان لیا اور لوگوں کو باور کرایا کہ یہ اک سکے کے ہی دو رخ ہیں اور دونوں کھوٹے ہیں۔ان ٹھگوں کو چیلنج کرنے والا میدان میں کوئی نہیں تھا۔
اگر صحیح معنوں میں بیوروکریسی کو اگر کسی نے نتھ ڈالی تھی تو وہ شہباز شریف تھے بڑے بڑے جغادری بیوروکریٹ 90 H میں بزعم خود شہنشاہ ِ معظم کی ہیبت اور جلالت سے بچنے کے لیے اوراد و وظایف کرتے ہوئے داخل ہوتے تھے اور منہ چھپاتے باہر نکلتے تھے اسی دور میں ماڈل ٹاون میں چودہ لوگوں کو اسی بیوروکریسی کی مدد اور ملی بھگت سے قتل کر دیا گیا ان مظلومین کے لیے کھڑا ہونا تو دور کی بات ان کے لیے دو حرفِ خیر کہنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔جلالت کے اس عہد میں عمران خان ہی وہ واحد آدمی تھا جس نے نہ صرف بیوروکریسی کو چیلنج کیا بلکہ ان مظلومین کے ساتھ کھڑا ہو گیا اس سے عوام میں ایک ایسی امنگ اور حوصلہ پیدا کیا کہ وہ اس کی طرف کھنچتے چلے گئے مگر اب وہی بیوروکریسی نہ صرف بزادر بلکہ عمران خان کے آگے ایک دیوار بنی کھڑی ہے۔کوئی ایسا شعبہ نہیں کوئی گورننس نہیں کسی قسم کی اصلاحات نہیں وہی عوام اپنی امیدیں ٹوٹنے پر اور بے بسی اور مایوسی کےعالم میں وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو امریکہ میں جان بولٹن کہہ رہے ہیں اور یہاں فواد چوہدری اور ان کی دیکھا دیکھی بولٹنوں کی بہار آ گئی ہے۔
یہاں پاکستان میں اس وقت تحریک انصاف میں بہت سارے بولٹن اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جن میں فواد چوہدی کے علاوہ راجہ ریاض بھی شامل ہیں کچھ بولٹن ایسے ہیں جو تحریک انصاف نے از خود بنائے ہیں جن میں وڈے بولٹن شیخ رشید اور چھوٹے بولٹن فیاض الحق چوہان ہیں مگر فواد چوہدری سب سے وڈے ثابت ہوئے ہیں ان کے کہے کا مطلب وہی ہے جو بولٹن نے کہا ہے۔
جان بولٹن کا کہنا ہے ٹرمپ کو اکیلے نہیں چھوڑنا نہیں چاہییے کیونکہ بونگی مارنے کا ان کا کوئی وقت نہیں۔جان بولٹن کی کتاب میں بڑے دلچسپ واقعات درج ہیں کہ ٹرمپ کتنے بونگے ہیں۔وہ قومی سلامتی کے مشیر رہے ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مائیک پومپیو نے مجھے پرچی پر لکھ کر دیا کہ ٹرمپ کے دماغ میں گوبر بھرا ہے اب ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے مگر کچھ سبق ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔عمران کا بولٹن فواد ہے اور فواد کے لیے ایک اور نکا سا بولٹن فیاض چوہان ہے یعنی اس کہتے ہیں اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے بولٹن۔۔
عمران خان نے اپنی کابینہ سے کہا ہے کہ آپ کے پاس چھ مہینے ہیں ہمیں نہیں معلوم اس کے پیچھے کیا سچ چھپا ہے مگر عام آدمی تو عمران کو چھ دن دینے پر بھی اب راضی نہیں ہے۔ٹرمپ کے دماغ میں تو بولٹن کے بقول گوبر بھرا ہے مگر ہمارے وزیر اعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا اوپر والا خانہ ہی خالی ہے کہ ٹیگور کے بقول حقائق بہت سارے ہوتے ہیں مگر سچ ایک ہوتا ہے۔انجم رومانی نے کہا تھا:
سچ کے سودے میں نہ پڑنا کہ خسارہ  ہوگا
جو ہوا حال ہمارا سو تمہارا ہوگا!

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *