انکار سے موت(دوسری ،آخری قسط)۔۔وہاراامباکر

افریقہ میں ایڈز کا بحران ہے۔ اور اس کی ایک وجہ انکار کی تاریخ رہی ہے۔ اس انکار کی، کہ ایڈز کی وجہ ایچ آئی وی وائرس ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جنوبی افریقہ کی آبادی کے 20.4 فیصد لوگ ایچ آئی وی انفیکشن کا شکار ہیں۔ جنوبی افریقہ اس حوالے سے دنیا میں بدترین متاثر ہونے والا ملک ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر 1999 سے 2008 تک تھابو مبیکی رہے اور اپنے دورِ حکومت میں اس بارے میں شک و شبہے کا شکار رہے کہ ایڈز کی وجہ ایچ آئی وی وائرس ہی ہے اور اس ملک میں بیماری پر قابو پانے میں ان کے رویے نے شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے ایک پینل تشکیل دیا کہ وہ اس ایشو پر تحقیق کریں اور اس کو ایچ آئی وی کا انکار کرنے والوں سے بھر دیا۔ اس میں سب سے نمایاں امریکی مائیکروبائیولوجسٹ پیٹر ڈوسبرگ تھے جو ایچ آئی وی کے وائرس کے انکار کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ اس پینل نے صدر کے انکار کی تصدیق کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی وجہ سے حکومت نے HAART کی ادویات کو مریضوں کو دینے سے انکار کر دیا۔ وزیرِصحت شبالا سیمانگ کو بنایا گیا تھا جو اس بارے میں یہی پوزیشن رکھتی تھیں۔
سیمانگ نے کہا کہ، “ہم مغربی تحقیق پر بھروسہ نہیں کر سکتے کہ وہ ہمارے کلچر اور لوگوں سے مطابقت بھی رکھتی ہے یا نہیں”۔ انہوں نے مقامی ادویات، جن میں لہسن اور چقندر کے عرق تھے، کو علاج کے لئے استعمال کیا اور ظاہر ہے کہ یہ بے کار تھے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ چقندر سے علاج کے شواہد کیا ہیں تو سیمانگ نے کہا کہ “مغربی میڈیسن شواہد اور کلینکل ٹرائل کے چکر میں پڑ جاتی ہے۔ یہ بہت سست طریقہ ہے۔ مریضوں کو آج علاج کی ضرورت ہے۔ ٹرائل وقت ضائع کرتے ہیں۔ میں نے فلاں جگہ پر اس علاج کی مدد سے مریض کو اچھا ہوتے ہوئے خود دیکھا ہے”۔

مبیکی کی پوزیشن یہ تھی کہ ایڈز دراصل بیماری نہیں اور اگر ہے تو اتنی اہم نہیں۔ “ایڈز نسل پرستی کی بیماری ہے۔ یہ افریقیوں کے غربت کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے سفید فام نے ایجاد کی ہے۔ سیاہ فام اس لئے ان گوروں کی بات مان آنکھ بند کر کے مان لیتے ہیں کہ یہ صدیوں کی غلامانہ سوچ کا نتیجہ ہے”۔ یہ 2004 میں کہا گیا۔

ڈپٹی ہیلتھ منسٹر نوزیز روٹلیج نے ان غلط پالیسیوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی کہ جنوبی افریقہ کے شہریوں کو علاج میسر آ سکے۔ انہیں اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ صدر نے انہیں برطرف کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرائیڈ چگوردے نے 2008 میں سٹڈی سے بتایا کہ مبیکی کی پالیسیوں کی وجہ سے 2000 سے 2005 کے درمیان 343000 ایسی اموات ہوئیں جن کو بچایا جا سکتا تھا۔ 35000 ایسے بچے پیدا ہوئے جن کو ایچ آئی وی تھی۔ سٹینڈر علاج سے یہ روکا جا سکتا تھا۔

یہ سوڈوسائنس سے ہونے والی موت کا بہت بڑا عدد ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ان زندگیوں کو واپس تو نہیں لا سکتا لیکن مبیکی نے 2008 میں صدارت چھوڑ دی۔ ان کے بعد اگلے آنے والے نے وزیرِ صحت باربرا ہوگن کو بنایا، جنہوں نے یہ پالیسی ختم کی اور مریضوں کو ادویات ملنا شروع ہوئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مسئلہ صرف ایچ آئی وی اور ایڈز کا نہیں۔ وہ لوگ ہیں جو بیماریوں کی وجوہات پر کھیل تماشے کرتے ہیں۔ تمباکو کی صنعت نے ایک وقت میں تمباکو نوشی اور کینسر کے تعلق کو جھٹلانے کے لئے زور لگایا تھا۔ ایسے لوگ ہیں جو ویکسین کو خطرناک گردانتے ہیں۔ ذہنی بیماریوں کے انکار نے بہت سے افراد پر ظلم ڈھایا ہے۔

یہ افسوسناک ہے کیونکہ ہم نے تحقیق کی ہے۔ بڑا عرق ریزی والا کام کیا ہے۔ اصل حل ہیں جو لوگوں کی مشکلات ٹھیک کر سکتے ہیں۔ انکار پر اڑنا، ضد اور آئیڈیولوجی۔۔۔ جب علم کے آڑے آتے ہیں تو نتیجہ ہمیشہ اچھا نہیں نکلتا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *