یونس ایمرے (عشق کا سفر) ۔۔قُرسم فاطمہ

ہم وہ قطرے ہیں جو دریا کی طرف ہیں گامزن

نور حق کا آسمان سے ہم پہ ہے سایہ فگن

اپنی ہر خدمت کا مقصد دوستی اللہ کی

“ہم ہیں تاپتک والے” یہ پہچان اپنی بن گئی

شریعت و طریقت کے پلڑے تھام کر معرفت و حقیقت کی منازل پر قدم ٹھہرانا تصوف ہے۔ تصوف روح کا ایسا سفرِ کامل ہے جس میں حرف “ت” سے جان و مال کو اللہ کی راہ میں تصرف کرکے حرف “ص” سے صراطِ مستقیم کے راستے پر پراؤ ڈال دیا جاتا ہے۔ حرف “و” سے حق کی راہ پر گامزن ہونے والے وعدہ خلافی نہیں کرتے اور یوں حرف “ف” میں داخل ہوکر قلب کو فتح اور نفس کو فنا کردیتے ہیں۔ سلوک کی راہ پر سفر کرنے والے “ت” سے توبہ کرکے “ص” سے صوفی کے درجے پر گامزن کردیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں صوفیاء حق کی منازل طے کرتے ہوئے “و” سے ولی کہلائے جاتے ہیں جو “ف” سے اپنے ظاہر و باطن حتٰی کہ اپنی ذات کو بھی حق تعالیٰ کی بارگاہ میں فنا کردیتے ہیں۔ فنا ہوجانے والے کبھی مولا علی بنتے ہیں تو کبھی مولانا رومی۔ کبھی غوث اعظم بنتے ہیں تو کبھی شیخ الاکبر۔ الغرض تصوف کی اصل جان کر مُرشدِ کامل کی ڈور تھامنے والے کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتے۔ یہ سفر قاضی یونس کو “یونس ایمرے” بنا کر ہی منزل پر قدم دھرتا ہے۔

عشق سے بہتر، عشق سے برتر

کون سی شے ہے، کوئی بتائے

تیرھویں صدی کے وسط میں ترکی کی “انسان دوستی” روایت نے دینِ اسلام کو بند مٹھی کی مانند یکجا کردیا تھا۔ اناطولیہ کی اس روایت پر مبنی تصوف کے باعث اس سرزمیں پر امن و اخوّت اور انسان کے خلقی و وجدانی شرف و بہبود کو مزید فروغ ملا۔ یہی وہ دور تھا جب پایۂ تخت قونیا میں گرد و پیش کے حالات سے قطع نظر مولانا جلال الدین رومی کی عظیم الشان خانقاہ میں معرفت و مراقبت اور ذکر و ازکار کی محافل منعقد ہوتیں جن کی گونج سے عرش و فرش لرز اٹھتے۔ دوسری طرف “رومی ثانی” کہلائے جانے والے “یونس ایمرے” روحانیت و تصوف سے بیزار اور معرفت و حقیقت سے قطع نظر مدرسے میں سکھائے جانے والے شریعت کے اصولوں پر ایمان رکھتے تھے اور اسی سبب قاضی کے عہدے پر فائز کیے گئے۔ مگر حکمِ ربی کے سبب راہ میں ملنے والے “شیخ تاپتک ایمرے” کو ایسا مرشدِ کامل ماننے لگے کہ پھر عوامی شاعر اور رومی ثانی کہلائے۔ مقامِ قضاء سے خود کو بری الذمہ کرکے پہلے درویش بنے پھر صوفی اور آخر میں نفس کی منازل طے کرتے ہوئے ایمرے (عاشق) کہلائے جانے لگے۔

یونس ایمرے کے نام کا روشن چراغ ۱۲۳۸ میں طلوع ہوا۔ آپ نے فقہ، حدیث، اسلامی تاریخ اور دیگر علوم علم و تہذیب کے مرکز قونیہ کے مدرسے سے حاصل کیے جس کے باعث آپ کو عربی، فارسی اور ترکی زبان پر بخوبی عبور حاصل تھا۔ آپ ایک طویل عرصے تک اپنے وطن سے دور رہے اور ۱۲۶۸ میں قونیہ کے معروف مدرسے سے دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نالیحان کے قاضی مقرر کیے گئے۔ یہی وہ وقت تھا جب یونس ایمرے کی ملاقات “شیخ تاپتک ایمرے” سے ہوئی جو خلافتِ عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کے شیخ حضرت شیخ ادہ بالی رحمتہ اللہ علیہ کے ہم مشرب و ہم مسلک تھے۔ شیخ تاپتک ایمرے حضرت پیر احمد یسوی رحمتہ اللہ علیہ کے مریدین میں سے تھے۔ پیر احمد یسوی ترکستان کے علاقے میں پہلی روحانیت شخصیت تھے جنہوں نے یہاں صوفی سلسلے “یساوی” کی بنیاد رکھی۔۱۱۶۰ میں آپ سلسلۂ نقشبندیہ کے مریدِ اعلیٰ بھی مقرر کیے گئے۔ یساوی سلسلہ ایک روشن چراغ کی مانند ثابت ہوا جس کی روشنی کے انگارے سلجوقوں کے مختلف علاقوں میں جاکر اپنے چراغ جلانے کے قابل ہوئے۔ شیخ تاپتک ایمرے بظاہر اُمّی ہونے کا دعویٰ کرنے والے معرفتِ الٰہی کا ایسا دریا تھے جن سے سینکڑوں متلاشیانِ حق محبتِ الہٰی کے نور سے فیض یاب ہوئے۔ شیخ تاپتک ایمرے کے مریدین ان سے فیض حاصل کرنے لیے اس انداز میں مناجات کرتے ہیں کہ:

اے بزرگو! درد میں ہیں ہم دوا درکار ہے

فیض اپنے پیر کا جاری سدا درکار ہے

اس حسیں رہ پر ہمیں ایک رہنما درکار ہے

اپنے ہمراہ آپ کی اذن و دعا درکار ہے

تاپتک کے سلسلے کا آسرا درکار ہے

اپنے ہمراہ آپ کی اذن و دعا درکار ہے

یہ آپ کی نظرِ کرم کا فیض ہی تھا جس کے باعث یونس آفندی یونس ایمرے کہلائے جانے لگے۔ قیل و قال ترک کرنے کے بعد شیخ تاپتک ایمرے کے سکھائے گئے اسباق یونس ایمرے کی زندگی کے دشوار و کٹھن راستوں میں بہترین معاون کار ثابت ہوتے رہے۔

سلوک کی راہ پر قدم رکھنے والے یونس آفندی کی تربیت و رہنمائی جلال کے ذریعے کی گئی۔ درگاہ میں شمولیت اختیار کرتے ہی “لا الہ الا اللہ” کے ورد اور “میں نہیں جانتا” کے ذکر کے ساتھ قلب کو پاک کیا گیا اور یوں نفسِ لوّامہ” کا دروازہ کھول دیا گیا۔ “ذکر اللہ” کرتے کرتے جلال بھری راہ پر طویل آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ نفس کے کڑے امتحانات کے بعد بلآخر “نفسِ ملہمہ” کی گرہ بھی کھولی گئی۔ اس راہ میں “ذکر ھو” کے ساتھ الہام کی واضح روشنی عیاں کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر آزمائش کی گئی جو غالباً چالیس سال کی در در مسافت کے بعد نفس کے مطمئن ہونے پر مکمل ہوئی۔ اس دوران یونس آفندی کا دل شعروں سے بھردیا گیا جن کا بنیادی مقصد انسان اور فطرت کے وجدانی تصور کو واضح کرنا تھا۔ نفسِ مطمئنہ کے دروازے پر قدم رکھتے ہی یونس آفندی درویش یونس سے یونس ایمرے بنے اور “ذکر حق” کے ساتھ نفسِ راضیہ و مرضیہ کی راہیں عبور کرتے ہوئے “مقامِ صافیہ” پر فائز کیے گئے اور بعد ازاں ولایت کے امین قرار پائے۔

ذکر اس کثر ت سے کرنا کہ اللہ جل جلال کی حضوری حاصل ہو جائے، سلسہِ نقشبندیہ کی بنیاد میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں نقشبندیہ حضرات نے اپنے طریقۂِ معرفت کی بنیاد جن گیارہ کلمات پر رکھی ہے، یونس ایمرے کی روحانی تربیت بھی انہیں کلمات کے ذریعے کی گئی تھی۔ ترک صوفیانہ تحریک جس کی بنیاد پیر احمد یسوی رحمتہ اللہ علیہ نے بارھویں صدی عیسوی میں وسطی ایشیا میں رکھی تھی، سو سال تک ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے یونس ایمرے تک جا پہنچی جنہوں نے بعد ازاں صوفیانہ ادب کو بامِ عروج تک گامزن کردیا۔ آپ بظاہر کسی صوفی سلسلے کے امین نہیں تھے مگر اسی مماثلت کے باعث آپ کو پیر احمد یسوی رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلے کی اگلی کڑی کہا جاسکتا ہے۔

یونس ایمرے ترکی کے ایسے عظیم صوفی شاعر تھے جنہوں نے اپنے اندر اسلامی تصورات کو اس انداز میں سمولیا تھا کہ آپ مذہب کو ضمیر کی آزادی اور معاشرے کی بنیادی اقدار کا مذہب تصور کرتے تھے۔ آپ کے اشعار میں انسان کی قدر و قیمت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ شیخ الاکبر حضرت ابن العربی رحمتہ اللہ علیہ نے “وحدت الوجود” کے جس فلسفے کی بنیاد رکھی، یونس ایمرے بھی اسی کے قائل ہیں۔ وہ اس عقیدے پر یقین رکھتے ہیں کہ قادرِ مطلق کا وجود کائنات کی ہر شے میں موجود ہے اور ہر شے میں جان اور شعور موجود ہے۔ یونس ایمرے خودی کے ادراک کو علم کی اصل قرار دیتے ہیں۔ الہامی کتابوں کے متعلق آپ کا نظریہ ہے کہ اللہ کے نام کی ابتداء میں حرف “الف” میں ہی چاروں کتابوں کے معنی پنہاں ہیں۔

الف کو تو الف سمجھا مگر اس میں

معانی ہے نہاں چاروں صحیفوں کے

بتا اس حرف کے معنی مجھے اے مُلّا

الف کا حرف ہے تیری زباں پر بھی

یونس ایمرے کی شاعری مذہب پر بحث و مباحثے کے لیے نہیں بلکہ مذہبی قواعد و ضوابط کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے کے لیے ہے۔ آپ کا کلام انسانیت و آفاقیت کا فصیح و بلیغ نمونہ ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب منگولوں کے غیر معمولی حملوں کے باعث سلجوق زندگی کے اصل رنگ کھو چکے تھے تو ایسے وقت میں یونس ایمرے کی عشق و محبت سے لبریز عوامی زبان میں شاعری ترک قوم میں جذبۂِ انسانیت کو ابھارنے میں کارِ خیر ثابت ہوئی۔ آپ کے کلام نے سلجوقوں کے دلوں میں جذبۂِ ہمدردی و یگانگت کو فروغ دینے میں اولین کردار ادا کیا۔

عوامی زبان میں گویا ہونے والے یونس ایمرے اور فلسفی شاعر مولانا رومی کی ملاقات کے بھی کئی شواہد ملتے ہیں۔ یونس ایمرے نے مولانا کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے کہ “ان کی شاندار بصیرت ہمارے دلوں کا آئینہ ہے۔” گو کہ یونس ایمرے مولانا رومی کے نظریہ کے قائل تھے مگر انہوں نے ایک ہی شعر میں مثنوی کی مکمل تفسیر اس انداز میں بیان کی کہ:

میں بنا پیکر گوشت و استخواں

پھر ہوا تکل یونس میں جلوہ نما

اسی سبب مولانا رومی بھی یونس ایمرے کے قائل تھے اور بعض روایات کے مطابق انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اگر یونس ایمرے کی طرح اعجاز بیانی پر قادر ہوتے تو ضخیم کتب تحریر نہ کرتے۔

“دیوان” اور ” رسالتہ النصیحہ” یونس ایمرے کے دو مجموعہ ہائے کلام ہیں۔ رسالتہ النصیحہ عالمانہ مثنوی ہے جو نصیحت آمیز انداز میں تحریر کی گئی ہے۔ علم و عرفان اورہدایت و ارشاد سے لبریز آپ کے کلام میں مذہبی، اخلاقی، اور صوفیانہ تعلیمات و نصائح پر زور دیا گیا ہے۔

آپ کا وصال ۱۳۲۱ اناطولیہ میں ہوا مگر علاقے کے متعلق تصدیق شدہ شواہد موجود نہیں ہے۔ ترک قوم نے آپ سے محبت کے اظہار کے طور پر مختلف جگہوں پر آپ کے نام سے منسوب مزار بنائے ہوئے ہیں جو دراصل “مقامات” ہیں۔ بعض دلائل و دستاویزات کے مطابق آپ کا مزار ساری کوئے میں ہے۔ اس علاقے میں ایک یادگار بھی قائم کی گئی ہے جس کا باقاعدہ افتتاح انیسویں صدی کے وسط میں ہوا تھا جس میں قرب و جوار کے شہروں اور بالخصوص گاؤں کے لوگوں نے جوق در جوق شرکت کی اور یونس ایمرے کی ایک نظم پڑھتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

سنو! خلدِ بریں میں کوثر و تسنیم کے چشمے

سناتے ہیں خدائے عزوجل کی حمد کے نغمے

سنو! اسلام کے طائر چمن میں چہچہاتے ہیں

خدا کے گیت گاتے ہیں، خدا کے گیت گاتے ہیں

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یونس ایمرے کی ابدی استراحت گاہ ترک قوم کا دل ہے۔ ۱۹۹۱ میں یونس ایمرے کی 750 ویں سالگرہ کے موقع پر، یونیسکو نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے اس سال کو “یونس ایمرے کے عالمی سال” کے طور پر منایا تھا۔ غالباً سات صدیوں قبل یونس ایمرے نے ترکوں کی جس “انسان دوستی” روایت کو فروغ دیا تھا، آج وہ نقطۂ کمالِ عروج تک پہنچ گیا ہے۔ آج کے جنگ و جدل دورِ ناصبور میں بھی آپ کی شاعری روح کو راحت بخشنے کی طاقت رکھتی ہے۔ یونس ایمرے بین السطور خلق کو وہ سب کہہ گئے جو راز تھا۔ حق کا راز، عشق کا راز، انسانیت کا راز۔ آپ نے انسانوں کو قدم قدم پر انسانیت کا درس ان الفاظ میں دیا ہے کہ:

آؤ! باہم کریں دائمی دوستی

آؤ! عاشق بنیں اور معشوق بھی

کیسی رنجشیں، کسی کی نہیں یہ زمیں

آج سے چند سال قبل ترکی کے مشہور و معروف تخلیق کار “مہمت بوزداغ” نے یونس ایمرے کی حالاتِ زندگی پر بے حد خوبصورت ڈرامہ تخلیق کیا۔ چوالیس اقساط پر مشتمل ڈرامہ سیریل میں ایک طرف تصوف کی منازل پر سفر کرنا سکھایا گیا ہے اور دوسری جانب یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک عام انسان معرفت کی سیڑھی پر قدم رکھ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ذکر و ازکار کی مجالس، عارفانہ کلام اور ترک لوک گیتوں کو بھی بے حد مسحور کُن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تصوف سے لگاؤ رکھنے والوں کے لیے یہ سیریل یقینی طور پر ایک خوبصورت تحفہ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *