غزل۔۔اقتدار جاوید

SHOPPING

خاموش گلی کی نکڑّ پر کوئی وقت رکا ہے قہروں کا
اک نیند کشیدہ کاروں کی اک خواب ثواب دوپہروں کا
یہ حرف جو تھوڑا تازہ ہے یہ انت انداز اندازہ ہے
صحرا کی قدیم چٹانوں کا پانی میں غائب شہروں کا
نورستہ تھا نورستہ ہے یہ آپس میں وابستہ ہے
یہ زخم نشاں نیلاہٹ کا یہ نیلا رنگ سپہروں کا
جب آنکھوں میں آ جاتا ہے تو لوگوں کو دکھلاتا ہے
اژرنگ کئی نیرنگ کئی یہ پانی دائم نہروں کا
یہ نرم کنارے کیا جانیں پانی کے مارے کیا جانیں
دریاکے سینے سے وابستہ مستقبل ہے لہروں کا
نہیں حل ہوتا تفہیموں میں تجریدوں میں تجسیموں میں
اک انس گروہ خالص کا اک عشق گلابی دہروں کا
چھڑکاؤ رنگیں جاڑوں پر کوئی دھوپ سفید پہاڑوں پر
کیا سحر طراز معیّت ہے کیا وقت رکا سہ پہروں کا
کچھ پاک خصال خیالوں میں کچھ بندھا ہوا رومالوں میں
شیرینی مصر کی ڈلیوں کی تریاق قدیمی زہروں کا
یہاں جوتی وافر ہوتی ہے وہاں موتی وافر ہوتے ہیں
اک خاص طرح کا تعلق ہے ان بحروں سے ان بحروں کا!

SHOPPING

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *