• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آغا جی” سید امجد حسین”(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آغا جی” سید امجد حسین”(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

’’گھر والوں نے نماز فجر کے بعد جلدی جلدی ناشتے کے جھنجھٹ سے چھٹکارہ حاصل کیا ۔ایک کڑاہی میں میدے کی ٹکیاں تلی جانے لگیں اور دوسری کڑاہی میں حلوہ بننے لگا ۔ جب ٹکیاں اور حلوہ تیار ہو گیا تو ٹکیوں کو مٹی کی صحنکوں میں سجا کر یہ صحنکیں دستر خوان پر رکھ دی گئیں ۔
گویا بیک جنبش ِ قلم لکھنے والے نے ماضی بعید کے فعل ناقص (تھا، تھے ، تھی) سے چھٹکارہ پا کر اس غیر متحرک تصویر کو زندہ شو میں بدل دیا۔
یہ نہیں کہ یہ نقوش ِ ماضی صرف ناسٹیلجیا کی پیداوار ہیں ، آغا جی نے انہیں دور حاضر کی نظر سے بھی دیکھا ہے۔ مثلاً’’تلاش الہ دین کے چراغ کی‘‘ سرخی والا باب ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے

’’ہر دو سال کے بعد پشاور کا رخ کرتا ہوں جو میری جنم بھومی ہے، میری یادوں کا گہوارہ ہے، وہاں رشتہ داروں، دوستوں سے ملاقاتیں باعث مسرت ہوتی ہیں، چند ایک ادبی تقاریب میں شمولیت کا بھی اتفاق ہو جاتا ہے ۔۔۔۔‘‘
اور اس کے بعد پے در پے ناسٹیلجیا کے حملوں کی داستان ہے، جن کے زیر اثر وقائع نگار مصنف اندرون شہر کی گلیوں میں بھٹکتا ہے، پرانے زمانے کا نوادر تلاش کرتا ہے، اس گھر کو دیکھتا ہے، جس میں اس کی ولادت ہوئی تھی۔ شہر کے بارے میں جوہر میرؔ کا یہ مصرع دہراتا ہے۔
وہ میرے ساتھ کھیلا تھا گلی میں: وہ مجھ سے پہلے بوڑھا ہو گیا ہے

http://آغا جی” سید امجد حسین”(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ناسٹیلجیا کی یہ دوڑ وہی ہے جسے شاعر نے اس مصرعے سے مشابہ کیا تھا ، ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ِ ایام توُ‘ ۔۔۔چاہے یہ وہ نسواری پتلون ہو جو مصنف کے لڑکپن میں شلوار سے گریجویشن کے بعد اس کی پہلی پتلون تھی، یا سید پوری سٹریٹ کی دکانیں ہوں یا بازار کلاں کی مسجد ہو یا شیدو نانبائی کا تنور ہو، یا فقیر لوہار کی دکان ہو ۔۔۔۔ سبھی اس ناسٹیلجیا کے اجزائے ترکیبی ہیں ، سبھی میں کہیں نہ کہیں وہ دم توڑتی ہوئی یادیں ہیں جو مرتے مرتے بھی قریب المرگ یادوں کے سمندر میں غوطہ کھاتے ہوئے پکارتی جاتی ہیں، کوئی مجھے بچاؤ، کوئی مجھے بچاؤ۔
ایک بارپھر طوالت کا خوف مانع ہوتا ہے کہ ابھی آغا جی کی انگریزی میں تحریر کردہ بہت سی کتابیں موجود ہیں، جن پر مجھے لکھنا ہے۔ اس لیے اس کتاب کو نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھا کر پھر شیلف میں رکھتا ہوں اور آگے بڑھتا ہوں۔

میری طرح ہی آغا جی بھی I go where ever my freak takes me.(Oscar Wilde) اردو اور انگریزی میں بیک وقت لکھنے کی وجہ سے شاید کئی بار یہ طے نہیں کر پاتے کہ انہیں کون سی زبان میں طبع آزمائی کرنا ہے۔ میں نے کئی بار کسی نظم کے عنوان کو انگریزی (یا فرانسیسی یا لاطینی) میں وحی کی طرح قبول کیا لیکن لکھتے ہوئے نظم اردو میں لکھی گئی۔ میں نے عنوان وہی رہنے دیا لیکن اردو قارئین کے لیے عنوان کا ترجمہ یا اس کی دیومالائی اہمیت ایک فٹ نوٹ میں لکھ دی۔ اسی طرح ایک ڈاکٹری کے شعبہ کے ایک میگزین میں جب آغا جی کا ایک مضمون Shadows دکھائی پڑا تو میں چونک گیا۔ Toledo Medicine کے اس شمارے میں یہ مضمون با تصویر ہے اور اس کا موضوع پڑھ کر قاری فاترالعقل ہو جاتا ہے۔

I hear my inner voice
the voice of my spirit
Why don’t you do the same?
continue talking in silence?

یہ سطور ایک نظم سے اخذ کی گئی ہیں جو اردو کے معروف شاعر مجیب الرحمن کی ہے۔ مجیب صاحب بھی آغا جی جی طرح (اور میری طرح) اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں، اور یہ سطریں انہوں نے اپنی بیوی کے انتقال کے بعد اسے (یا اس کی پاک روح کو) مخاطب کر کے لکھی ہیں۔ آغا جی کا مضمون ، اس حوالے کے بعد، شہرہ آفاق فزسسٹ اور نوبیل انعام یافتہ ہندوستانی نژاد چندر شیکھرکا حوالہ دے کر مضمون کو آگے بڑھاتا ہے۔ چندرا (پیار اور عزت سے سبھی اس عظیم شخص کو ’’چندرا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے) نے دنیا کی سب سے بڑی اس ٹیلیسکوپ یعنی خلائی دوربین بنائی تھی، (جس کا نام اسی کے نام پر رکھا گیا تھا) ۔جب چندرا نے ایک آرٹسٹ کی بنائی ہوئی ایک تصویر کو دیکھا تو آرٹسٹ سے اس کی ایک نقل لینے کی خواہش ظاہر کی۔اس تصویر میں ایک آدمی کو سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس کا سایہ دیوار پر پڑ رہا تھا ۔ یہ تصویر نیو یارک ٹائمز میگزین کے سرورق پر 1962 میں چھپی تھی۔ جب آرٹسٹ نے پوچھا کہ اس کی ان کو کیا ضرورت ہے تو چندرا کہنے لگے کہ یہ تصویر انہیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ ہم اپنی عظیم کار گذاری اور اپنی اندرونی خواہشات کے مابین تعلق کو بالکل اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے اس تصویر میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس شخص اور دیوار پر وہی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے سائے ے مابین تعلق کو دکھایا گیا ہے۔

آغا جی نے اس مختصر مضمون کے ساتھ تین تصویریں پیش کیں جن میں سے ایک دوبئی کے ایک فواّرے کی ہے جس میں پانی اور سائے کے مابین تعلق کو اسی حوالے سے پیش کیا گیا ہے اور باقی کی دو تصویریں ٹولیڈو کے دو قدرتی مناظر کی ہیں جن میں درختوں اور ان کے سایوں کے مابین اور ایک بڑے پل کی ریلنگ اور اسے کے سائے کے مابین اسی تعلق کو مصور کیا گیا ہے۔ اس مضمون کی یہ سطور میرے دل کو چھو گئیں۔
We cannot imagine a world without shadows. It will be akin to a world without color or sound. Shadows tell us something more profound and significant than just the cast off image of an
object in the path of light.

منیب الرحمن صاحب کی نظم کے حوالے سے میں آغا جی کی اس کتاب پر تبصرہ ، جسے میں ان کا Magnum Opusشمار کرتا ہوں ، کچھ دیر کے لیے اٹھا رکھتا ہوں، جو انگریزی میں With Whom Shall I talk in the Dead of Nightکے نام سے گذشتہ برس ہی شائع ہوئی ہے، ا س لیے کہ پہلے میں ان کی دو اور انگریزی کتابوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

ان میں سے ایک کتاب مذہبی رواداری یا بردباری یا برداشت کے موضوع پر ہے۔ فی زمانہ اس طرح کی کتاب لکھنا اپنے آپ میں ہی ایک دشوار کن مرحلہ ہے کہ ہر جملے پر آپ کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ کہاں مولویان ِ دین آپ کو لا دین کہہ کر ایک اس قسم کا فتویٰ صادر نہ کر دیں جس میں آپ کو واجب القتل قرار دے دیا جائے۔ اس کتاب میں آغا جی کے علاوہ دیگر اہم ناموں میں یہ مشاہیر بھی شامل ہیں۔

Bernie Keating, Rabbi Gordon, Father Michael Kelly, Rev. Joel P. Millar and Dr. Seigen Yamaoka.
آغا جی کے مضمون میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے، اپنی ذات اور اپنے مذہب کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے وہ ایمانداری کی ایک ایسی مثال ہے جسے بہت کم لوگ کہنے کی جرات کر سکتے ہیں۔ یہ اقتباس دیکھنا ضروری ہے۔

A number of Hindu families lived in our neighborhood at the end of a narrow alley. The bloodthirsty hoodlums blocked the narrow alley and set fire to their homes. It was surreal even for a nine-year-old boy to smell the stench of burning human flesh air. As the muezzin called the prayers from the corner mosque, his chant reverberated the neighborhood in the backdrop of the billowing smoke and muffled screams of the trapped people. There was something terribly amiss. The noble human spirit had turned evil, religious teachings were set aside in an orgy of wanton killing of innocent men, women, and children Even now when I am in Peshawar and hear the call for prayers from the corner mosque I smell the pungent odor seeping out of the deep recesses of my mind.

یہ ایک ایسا شخص لکھ رہا ہے، جس کی روح میں بالیدگی کی رمق ابھی تک باقی ہے۔ ایک ایسا شخص جو فریضۂ حج سر انجام دیتے ہوئے بھی جب عمرہ میں شیطان کو سنگسار کیے جانے کی لا یعنی رسم کو دیکھتا ہے، تو یہ دیکھ کر کہ جوشیلے لوگوں کے پتھر ستونوں سے ٹکرا کو لوگوں کو ہی زخمی کر رہے ہیں، اسے یہ خیال آتا ہے،
……There are tens of thousands of people of people trying to throw pebbles at the pillars. In great many cases the pebbles do not reach the intended target but end up pelting the heads of the people in front ….. It is the same in everyday life where in the process of practicing our religion , unintentionally we end up hurting those who happen to be in the way.

طالبان، ان کے عروج، زوال اور ممکنہ عروج ِ ثانی کے حوالے سے افغانستان اور پاکستان کی سیاسی حالت میں روز مرہ جس قسم کی تبدیلیاں رو نما ہو رہی ہیں، اس کے مد نظر میں آغا جی کی کتاب The Taliban and Beyond ( A Close Look at the Afghan Nightmare)پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر اس کتاب کو کتب خانوں میں مقید نہیں رہنا ہے تو ہر برس اس کے ایک نئے ایڈیشن کی ضرورت ہے۔
اور اب وہ کتاب جس کا انتظار میں نے اتنی دیر کیا ہے او ر جناب منیب الرحمنٰ کی نظم کا حوالہ آنے کے باوجود اپنے سمند ِ شوق کو لگام تھام کر رکھا ہے۔ یہ کتاب ہے :
With Whom Shall I talk in the Dead of Night
سر ورق میں اس عنوان کے آخری حرف کے بعد استفہامیہ نہیں ہے، جب کہ یہ ہونا ضروری تھا، کیونکہ راقم الحروف کی جس نظم سے یہ سطر مستعار لی گئی ہے، اس میں یہ یعنی سوالیہ نشان موجود ہے۔ نصف صدی کی ازدواجی زندگی یقیناً ایک لمبا عرصہ ہوتی ہے۔ آغا جی نے اور راقم الحروف نے لگ بھگ ایک ہی وقت میں اس رفاقت کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم دونوں کی رفیقان ِ حیات ہمیں داغ مفارقت دے گئیں تو ہم جیسے نصف وجود ہو کر رہ گئے۔ میں اپنی شاعری میں اپنا تحفظ اور جائے امان ڈھونڈھتا پھرا اور پے در پے ایک درجن کی قریب آنسو بہاتی ہوئی نظمیں لکھیں۔(اب بھی ہر برس اپنی اہلیہ کی برسی پر خو د بخود ایک نظم وحی کی طرح نازل ہو جاتی ہے)۔ ان سے کچھ افاقہ ہوا کہ بقول ارسطو اس قسم کی دوا ضروری تھی۔ آغا جی نے ایک اور تلاش کیا ۔ یہ اس قماش کے مکتوب تھے، جو لکھے ہی نہیں جاتے ، یا اگر لکھے جاتے ہیں تو تکیے کے نیچے رکھ کر اس فرض ِ محال کو یقین ِ صادق سمجھ کر تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ یہ مکتو ب الیہ تک پہنچ گئے۔ یہ سب خطوط اس انگریزی کتاب کا ہیں۔ کتاب کے پشت سرورق پر یہ اندراج ہے۔
My dearest Dottie,
Now who would have ever thought of writing a letter to a dead person? No, I am not going crazy. I am just lonely. Even with a house full of people, I feel pangs of extreme loneliness bordering on despondency…. I am sitting in my
favorite perch in the living room. I keep imagining you would step out of the study any minute as you have always done. When I do not hear your footsteps in the study, I get up and go to the bedroom, as I did a zillion times this past year, to make sure you are still in bed and that you are OK….It has been 14 days since our separation. I
am going through the emotional roller coaster where at times I feel you have been gone a long time and then in an instant I refuse to accept that you are gone for good.
اس کتاب میں ایک سو پچپن صفحات پر وہ خطوط ہیں جو آغا جی نے لکھے اور ان پرزوں کو جن پر یہ قلمبند کئے گئے تھے، شاید (شاید!) تکیے کے نیچے اس طرف چھپا کر رکھ دیا جس طرف ان کی اہلیہ سوتی تھیں۔ نصف ازدواجی بستر ان کی تحویل میں تھا، نصف تکیہ۔۔۔۔۔اور اس بستر پر پورے مردانہ بدن میں نصف روح۔ اس حالت میں کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ ڈرامائی خود کلامی کے انداز میں آغا جی وہ باتیں کرتے جو یا تو اس نصف روح سے کی جا سکتی ہیں جو ان کے حصے میں آئی ہے، یا اس نصف روح کےساتھ جو ہمیشہ کے لیے ان سے بچھڑ گئی ہے۔؟

اوپر لکھے ہوئے میں چاہے ایک زخمی لہجہ ٹپکتے ہوئے لہو کی زبان میں بول رہا ہے، یہ خطوط روزانہ کی زندگی کی ہر خبر، ہر اطلاع ، ہر واقعہ، ہر مسئلہ کی بات مکتوب الیہ تک اس طرح پہنچاتے ہیں، جیسے وہ پردیس گئی ہوئی ہو اور اسے لوٹ کر آنا ہو۔ ہر سرد و گرم، اونچ نیچ، روزمرہ کی زندگی کی صورتحال، اشیائ، کام کاج ،ملنے جلنے والوں سے ملاقات کی تجدید، ان ملاقاتوں کی چہل پہل، مد و جزر، گہما گہمی، یا سوال و جواب یا کسی بحران کے اتفاقات ۔۔۔۔۔کیا کچھ احوال نامہ نہیں ہے ان خطوط میں۔! میں صرف ایک خط کا اقتباس درج کروں گا، جس میں روزمرہ کے اس نستعلیق اور غیرشاعرانہ، غیر جذباتی احوال سے ہٹ کر ایک ایسے دن کا ذکر ہے ، جس میں قلمکار کا ایک شاعر دوست سے ملنے کا ذکر ہے۔ یہ خط طویل ہے اور اپریل دو ہزار سات کا تحریر کردہ ہے۔ ملاحظہ ہو۔

A few weeks ago, I went to Ann Arbor to visit Dr. Munib Rahman. You remember him and his Swiss wife Zeba. They had visited us on many occasions. She was a linguist and they moved in Aligarh, India for seventeen years, where they
taught at Aligarh Muslim University. She died two
years ago and the man was devastated at losing fifty years of marriage. He has gone blind, but can manage living alone. Actually he insisted that I come for dinner, which he cooked himself. … It was so wonderful and uplifting to visit this great man of letters and to listen to his poetry — some romantic, some nostalgic and some full of lament. Here is original Urdu version of the English translation of a poem he recited for me
that he wrote in memory of his wife. The book doesn’t have this Urdu version.

شب ِ تیرہ و تار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ شب ِتیرہ و تار
اجنبی راستہ، منزل گمنام
ہاتھ تھامے ہوں کہ جانے سے تمہیں روک سکوں
آہ لیکن مری کوشش ناکام
دل مسلسل یہ کہے جاتا ہے
رات تاریک ہے مت جا، مت جا
جسم و جاں تیرے لیے ترسیں گے
دکھ کے بادل مری آنکھوں سے سدا برسیں گے
کون اٹھائے گا مرے  دل سے غموں کا انبار
میں بھی مجبور ہوں تو بھی مجبور
بے سماعت ہے محبت کی پکار
کتنی بے مہر ہے کتنی بے نور
یہ شب ِ تیرہ و تار!

منیب الرحمن صاحب کی یہ معرکۃالارانظم ان کے دل کی پکار ہے۔ ان جیسا جدید شاعر
ذاتی غم کی تشہیر نہیں کرتا ، لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے، جب تشہیر کی غرض سے نہیں، اپنے امڈتے ہوئے جذبات کو ’کتھارسس‘ کی ریلیف دینے کے لیے شاعر ایسی نگارشات نیم غنودگی کی سی حال میں لکھ لیتا ہے۔
ایک ضروری نوٹ اس کتاب کے بارے میں یہ ہے کہ اس کا ٹایٹل راقم الحروف کی ایک نظم کے آخری مصرعے سے لیا گیا ہے۔ یہ نظم میری اہلیہ کے انتقال کے بعد لکھی گئی تھی۔ اس نظم کو بجنسہ آغا جی نے بطور تشّکر اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 122پر اپنی مرحومہ بیوی کے نام ایک خط میں ری پروڈیوس کیا ہے۔ نظم کا عنوان Snow Angel ہے ۔ اس کا آخری بند اس طرح ہے۔

SNOW ANGEL
When the night has deepened
A blanket of silence
Holds me in its tight vice grip
Bundles me up in the bed like an embryo.
Folds and crases
Of the snow-white sheet
grasp me firmly in their iron grip
Bound I am to the bed
At least for the night.

A light imprint on my right
A slight indentation is all I have of you
A snow angel’s imprint
Of the body, you’ve taken with you.

Scared I am of losing it
I lie on the left side
Lest the mark of your body
The snow angel’s dimpled imprint is erased.
And I am left alone.
If that happens
With whom shall I talk in the dead of the night?
اس نظم کا اردو متن بھی دیے بغیر بات بنتی نظر نہیں آتی۔ میں طوالت کے خوف سے جان بچاتا ہوا بھی اس کا اصلی اردو متن پیش کر رہا ہوں۔البتہ اس سے پہلے وہ فٹ نوٹ ضرور دینا چاہتا ہوں، جو اس نظم کے نیچے دیا گیا تھا۔ اس میں تحریر تھا۔ ’’کینیڈا کے شمالی علاقوں میں جہاں برف کا گرنا لگ بھگ روزانہ کا معمول ہے، بچے صبح اسکول جاتے ہوئے تازہ گری ہوئی برف میں لیٹ کر اپنے پورے جسم کا نقشہ بنا دیتے ہیں۔ شام کو اسکول سے لوٹتے ہیں تو بھاگ کر اس جگہ دیکھتے ہیں، کہ کیا ان کے جسم کا نقشہ بجنسہ موجود ہے۔ دوسری صبح پھر دیکھتے ہیں، اور اگر ان کے جسم کی  طرح موجود ہو، تو ہنس کر تالیاں بجاتے ہیں اور کہتے ہیں۔پچھلی رات یہاں برف کا فرشتہ سویا تھا۔
نظم کا عنوان ‘‘سنو اینجل‘ ‘ہے۔ یہ اس طرح شروع ہوتی ہے۔

رات کو کمرے کا سنّاٹا جکڑ لیتا ہے اپنے آہنی ہاتھوں میں
اور پھر لا پٹختا ہے اس بستر پر
جس کی برف سی براق چادر کی ہر سلوٹ میں
تم لپٹی پڑی ہو!
داہنی جانب کا ہلکا جھول
جس سے اک مکمل جس کا خاکہ ابھرتا ہے
سنو اینجل کا شاید
اس بدن کا
جو تم اپنے ساتھ لے کر جا چکی ہو
اور میں ڈرتا ہوں
بائیں ہاتھ سوتا ہوں
تمہارا نقش بستر سے
سنو اینجل کا خاکہ
مٹ گیا تو شب کے سناّٹے میں کس سے بات ہو گی؟

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *