زوجہ کے نام(3)۔۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

سنو!
رات پانی برستا رہا ۔۔۔۔ ہر بوند تمھارا پوچھتی رہی ۔۔۔۔
پہلی بوند ٹپکتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کر گئی کہ آج بہت اکیلے ہو، سجنی کہاں ہے، موسم کی جان کہاں ہے؟ دوسری بوند نے سرگوشی میں کہا؛

جو جان ہے موسم کی جانے وہ کہاں ہے
پانی تو برستا ہے برسات نہیں ہوتی

اور پھر ساری بوندیں مل کر کورس میں یہ شعر دہرانے لگیں ۔۔۔
مجھے وہ وقت یاد آ گیا جب تم اماں جی بہشتن کی طرف گئیں ہوئیں تھیں تو گھنگھور گھٹائیں چھانے پر مجھے فون کر کے پوچھتی تھی اب آپ کے لئے پکوڑے کون بنائے گا تو میں نے گنگنایا تھا کہ۔۔

ہوا بھی ہو، بادل بھی ہو، بارش نہ ہو کیا فائدہ
یار بھی ہو، دلدار بھی ہو، دیدار نہ ہو کیا فائدہ

تو گھنٹہ بھر بعد ہی رکشہ پکڑ سیدھا گھر آ گئی تھی۔ پھر بارش برسی اور چھاجوں برسی، میں نے اور بیٹے نے بارش میں ہی سب گملوں کا دائرہ بنا بیچ میں کرسی رکھ تمہیں بٹھا دیا تھا اور پھر ہم کہتے تھے دیکھو ہمارا پھول پیارا ہے یا گملوں میں لگے پھول تو تم لجا جاتی تھی ۔۔

سنو مون سون شروع  ہے۔ اب میں تمہیں پکوڑے بنا کر کھلایا کروں گا ۔۔ اللہ کریم تمہیں صحت دے دے تو وہیل چیئر پر ہی صحن میں تمھارے ساتھ برسات منایا کروں گا ۔۔۔۔ بس میرا پیارا اللہ کریم تمہیں جلدی سے ٹھیک کر دے آمین ثم آمین۔

اب گھر سے گنگنانے کی آواز بھی نہیں آتی
تمھاری خشبو سارے آنگن میں پھیل جاتی
میں آنگن میں پہنچتا اور اکیلا بیٹھا
اس جامن کے پودے کو تکتا رہتا
جو تم نے لگایا تھا
اب وہاں انگور کی بیل بھی سر اٹھا رہی
املی و کھجور کے پودے بھی آگ آئے
پر میرا پھول کہیں نہیں ملتا
یا رب
میرا پھول مجھ سے ملا دے
ہمارا گلدستہ بنا دے آمین ثم آمین

تم واپس آو تو تمہیں اقبال دیوان بھائی جان کی بھیجی کتاب پڑھ کر سناؤں ۔۔۔۔ عابی نے بھی لگتا اپنی کتاب بھیجی  ہے کہ آج صبح ہی میز پر کورئیر کا ایک پیکٹ نظر آیا ہے۔
جانے تم نے کب وصول کر کے رکھا
اور بتانا بھول گئی
عابی کا نام لکھا تھا
پر پیکٹ تم آو گی تو کھولیں گے
پھر مل   کر پڑھیں گے
اور یہ الگ بات ہے
کہ تمھارا چہرہ، ما شاء اللہ، سب سے حسین کتاب ہے۔

تم گنگناتی تھی ندا کا شعر کہ۔۔

برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے
کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے

تو وہ رات بھر ہماری چھت بھگوتا رہا، میں تمہیں یاد کر کے رو رہا تھا بادل میرے ساتھ روتا رہا۔۔۔۔۔
فقط
تمھارے بنا ادھورا تمھارا شاہد

دعا گو، طالب دعا شاہد محمود

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *