تاریک راہوں کے مسافر۔۔رؤف کلاسرا

بعض مغربی ناول ایسے ہوتے ہیں‘ لگتا ہے وہ آج کے پاکستانی معاشرے پر ہی لکھے گئے ہیں۔ عظیم فرانسیسی ادیب بالزاک کے 1834ء میں لکھے گئے ناول ”یوجین گرینڈ‘‘ کو پڑھ اور اردو میں ترجمہ کر کے مجھے یہی احساس ہوا ہے۔ مجھے لگا کہ اس ناول میں موسیو گرینڈ کا کردار صرف فرانس تک محدود نہیں بلکہ زرداری‘ ترین اور شریف خاندان کی شکل میں ہمارے ارد گرد موجود ہے۔ دو سو سال پہلے فرانس میں جو کارپوریٹ فراڈ کے طریقے اختیار کیے جاتے تھے وہ آج بھی پاکستان میں جاری ہیں۔ دو سو سال پہلے فرانس میں بھی وہی کام ہوتا تھا جو پاکستان کے سیاسی کاروباری گھرانے آج کر رہے ہیں؟
انسانی تاریخ میں تراجم کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ انسان جس ترقی کی معراج پر آج کھڑا ہے وہ اس انسانی علم کی بدولت ہے جو قدیم تہذیبوں کی بربادی کے ساتھ ہی مٹ چکا تھا لیکن پھر یہ علم قابل لوگوں کے ہاتھ لگا اور برسوں تک ان اجنبی لفظوں کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ آخر ہم سے ہزاروں سال پہلے کا انسان کیا سوچ اور لکھ رہا تھا۔ غاروں کی دیواروں پر نوکیلے پتھروں سے کھدی تصویروں اور شبیہوں کی مدد سے ان قدیم انسانوں کے پیغامات سمجھنے کی کوششیں ہوتی رہیں اور قدیم لٹریچر اور فلاسفی کو ہم تک پہنچانے میں ان تراجم نے اہم کردار ادا کیا۔
حیران ہوتا ہوں ان پرانے متراجم نے وہ اجبنی زبانیں سیکھنے اور انہیں اپنی زبانوں میں ڈھالنے کے لیے کتنی محنت کی ہو گی۔ مسلمانوں کا اس حوالے سے اہم رول سمجھا جاتا ہے‘ بلکہ عباسیہ سلطنت میں دارالترجمہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جس میں قدیم تحریروں کو نئی زبانوں میں ڈھالنے کا باقاعدہ کام شروع ہوا۔ سقراط‘ افلاطون‘ ارسطو اور دیگر اہم فلسفیوں اور ڈرامہ نگاروں کی جو خوبصورت تحریریں ہم تک پہنچی ہیں یہ انہی لوگوں کی بدولت ہے جنہوں نے ان ادبی خزانوں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا؛ تاہم تراجم کا کام اس وقت تیز ہوا جب یورپ میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور اٹلی میں ایک نئی تحریک کی بنیاد رکھی گئی جس نے پورے یورپ کی شکل اور سوچ بدل دی۔ یورپ میں پہلے کتاب صرف نوابوں‘ جاگیرداروں اور اشرافیہ کی الماریوں میں پائی جاتی تھی کیونکہ وہی افورڈ کر سکتے تھے۔ پرنٹنگ پریس نے کتاب ہر گھر میں پہنچا دی اور یوں یورپ نے علم کی مدد سے پوپ اور بادشاہوں کے گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کو جنم دیا جس کا بڑا نتیجہ انقلاب فرانس کی شکل میں نکلا۔ یہ بغاوت پرنٹنگ پریس کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔
آج بھی بڑے ادیبوں کی آپ بیتیاں پڑھیں تو آپ کو لگے گا کہ ہر ادیب نے جہاں اپنا شاہکار ادب تخلیق کیا‘ وہاں تراجم بھی کیے۔ ہندوستان میں بھی انگریزوں کی آمد کے ساتھ جہاں انگریزی زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہوا وہیں انگریزی ادب کو مقامی زبانوں میں ڈھالنے پر بھی کام شروع ہوا۔ پچھلے ایک سو سال کی اردو تاریخ میں تراجم کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ روس میں روسی فکشن کو اردو میں ترجمہ کرنے کیلئے باقاعدہ دارالاشاعت ماسکو کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا اور اس نے کمال کام کیا۔ جب میں نے شروع میں انگریزی ادب پڑھا تو شوق پیدا ہوا کہ ان تحریروں کو اردو میں ڈھالا جائے۔ یہ شوق مجھے جہاں ماریو پزو کے شاہکار ناول گاڈ فادر تک لے گیا‘ وہیں مجھے عظیم روسی ادیب بالزاک سے بھی متعارف کرایا۔ بالزاک فرانسیسی انقلاب کی سرخی آنکھوں میں لیے پیدا ہوا۔ بالزاک نے جو کردار تخلیق کیے وہ ایسے امر ہوئے کہ آج دو سوسال بعد بھی زندہ ہیں۔ بالزاک نے کل نوے کے قریب چھوٹے بڑے ناولز لکھے اور صرف اکاون برس کی عمر میں مر گیا۔ حیران ہوتا ہوں‘ اگر وہ گیبریل گارشیا مارکیز کی طرح طویل عمر پاتا تو وہ کتنا کچھ لکھ جاتا۔ بالزاک کا جو ناول پاکستان میں ترجمہ اور مشہور ہوا وہ بڈھا گوریو تھا؛ تاہم میرے ہاتھ اس کا ناول ”یوجین گرینڈ‘‘ لگا تو اس سے عرصے تک متاثر رہا اور اسے اردو میں ترجمہ کرنے کا سوچا۔ یہ پیرس کے ایک قصبے ساومیر کے اداس گھر کی کہانی ہے جس نے مجھے اپنے حصار میں لیے رکھا۔ یوجین گرینڈ ناول میں ایک عجیب سی بات ہے کہ اس ناول میں جو بھی مرد کردار ہیں وہ ظالم‘ لالچی اورخود غرض ہیں لیکن جو خواتین کردار ہیں وہ سب دل کی اچھی ہیں‘ دل کی فیاض‘ محبت سے لبریز‘ زندگی میں جو ملا کھا لیا‘ جو ملا پہن لیا‘ جہاںجگہ ملی سو لیا۔ کوئی شکوہ‘ کوئی شکایت کچھ نہیں۔ ایک دیہاتی کزن یوجین کو اپنے پیرس سے آئے کنگال کزن سے محبت ہو جاتی ہے تو وہی پرانی ٹریجڈی جنم لیتی ہے کہ امیر چچا اپنے کنگلے بھتیجے کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ یوجین اس سے محبت کرے۔ بالزاک کا یہ ناول یہ بھی پیغام دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ عورتوں کی نسبت اُس وقت پیرس میں مرد زیادہ کنجوس اور سونے کی محبت میں گرفتار تھے۔
یوجین گرینڈ‘ جو دیہاتی حسن کی دیوی تھی‘ کو محبت اور دھوکے سے آشنائی ہوتی ہے‘ جس کی روح ہمیشہ انسانوں پر اعتماد کرتی آئی تھی۔ موسیو گرینڈ کے گھر تین خواتین ہیں‘ یوجین‘ مادام گرینڈ اور گھریلو ملازمہ نائے نن۔ ان تینوں کی زندگیوں کا مالک موسیو گرینڈ ہے۔ جب موسیو گرینڈ کا بھتیجا پیرس سے گائوں آتا ہے اور اپنے چچا کے پاس ٹھہرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا باپ خود کشی کر چکا ہے اور وہ لاکھوں فرانکس کا اب مقروض ہے۔ گائوں کے اس کنجوس موسیو گرینڈ کیلئے وہ بھتیجا اس وقت اہمیت کھو دیتا ہے کیونکہ وہ کنگلا ہوچکا ہے۔ یوجین خوبصورت کزن کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے تو اس کا باپ چارلس سے چڑ چکا ہے۔ گرینڈ کی دولت سے محبت تو یوجین کی کزن چارلس سے محبت سے ایک ایسی جنگ جنم لیتی ہے جس کا انجام دلوں کو دکھی کردیتا ہے؛ تاہم اس موقع پر موسیو گرینڈ ایک رات اپنی ملازمہ نائے نن کو پیرس لے جاتا ہے اور اپنے مرحوم بھائی کی جائیداد پر ساہوکاروں کو دھوکا دینے کیلئے وہ اپنے مرحوم بھائی کے ساہوکاروں کے شیئرز اپنی ملازمہ کے نام پر خریدتا ہے۔
جب میں یہاں تک پہنچا تو میری ہنسی چھوٹ گئی کہ دو سو سال پہلے کا موسیو گرینڈ ہو یا آج کا ترین‘ شریف اور زرداری سب اپنے گھریلو ملازموں کو ہی کارپوریٹ فراڈ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ جہانگیر ترین نے بھی اپنے گھر کے مالی اور باورچی کے نام پر شوگر مل کے شیئر خرید کر بعد میں مہنگے بیچ کر کروڑوں کمائے۔ پکڑے گئے تو ایس ای سی پی کو پیسے واپس کیے۔ زرداری کی کہانیاں زبان زد عام ہیں کہ کیسے فالودے والے‘ رکشہ والے اور مزدوروں کے نام منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیے گئے۔ سلمان شہباز نے بھی اپنے گھریلو ملازمین کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا۔ شوگر ملز سکینڈل میں بھی دیکھا گیا کہ اٹھارہ ہزار روپے پر ملازم کے اکاؤنٹس میں پچاس پچاس کروڑ ڈالے گئے۔
بالزاک کا یہ ناول جس کا میں نے ترجمہ ”تاریک راہوں کے مسافر‘‘ کے نام سے کیا ہے‘ میں جہاں محبت کی کہانی ہے وہیں کارپوریٹ ورلڈ کے فراڈ کی تفصیلات ہیں کہ دنیا بھر میں جب بھی فراڈ ہوتے ہیں وہ ایک ہی طرح کئے جاتے ہیں۔ ویسے یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ موسیو گرینڈ اپنی گھریلو ملازمہ نائے نن کے نام پر لاکھوں فرانکس کا منافع کمانے کے بعد چھ فرانک کی ٹپ دینا نہیں بھولتا‘ جبکہ ہمارے پاکستانی ارب پتیوں نے اپنے گھریلو ملازمین کے نام پر اربوں کی منی لانڈرنگ کی‘ شیئر خرید کر کروڑوں کمائے لیکن ایک ٹکا تک نہ دیا۔
کم از کم دوسو سال پہلے کے فرانس کا موسیو گرینڈ بہتر نکلا جس نے اپنی ملازمہ نائے نن کے نام پر خریدے گئے سٹاکس کا چھ فرانک معاوضہ تو دیا۔ پاکستانی ارب پتیوں نے تو اتنی زحمت بھی نہ کی کہ چھ سو روپے ہی اُن گھریلو ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیتے جن کے نام پر اربوں کمائے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *