پیراں وے۔۔۔ رابعہ احسن

ٹائیٹل کو دیکھ کے گهبرائیے گا نہیں کیونکہ میں کسی بهی پیر کی کرامات اور طلسمات پر نہیں لکهنے والی بلکہ یہ الفاظ جب بهی میرے کانوں سے ٹکراتے ہیں مجهے لکهنے پہ اکساتے ہیں کہ میں لکهوں عورت کی شخصی آزادی کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر۔ ہمارے معاشرے کا شدید ترین المیہ ہے کہ ہم مرے ہووں کے مزاروں پر مہنگی مہنگی چادریں چڑهاتے ہیں اور زندوں کو تن ڈهانپنے کیلئے اک لیر بهی دینے کے روادار نہیں ہوتے۔ ہمیں زندہ لوگوں کے مسائل جاننے کا نہ تو کوئی شوق ہے نہ ضرورت اور نہ ہی وقت ہے ہمارے پاس۔ اور پهر سوشل میڈیا کی مہربانی کہ جنهوں نے کبهی اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے حقوق پورے نہیں کئے وہی مرد حضرات عورت کی شخصی آزادی کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں، لیکن صرف آواز سے آوازملا کے رش اکٹھا کردیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ سوائے تصویروں اور تقریروں کے کچھ بهی نہیں ہوتا۔ بہت گهبراہٹ ہوتی ہے مجهے مسائل کے اس نمائشی حل پہ جبکہ مسائل پس پردہ جوں کے توں کهڑے رہتے ہیں۔
ہمارے ہاں خواتین کیلئے ایک خاص نقطہ ہائےنظر نسلوں سے چلتا آرہا ہے یہ بدل ہی نہیں سکتا کیونکہ کان کو چاہے جس مرضی طرف سے پکڑ لیں مسئلہ حل ہی نہیں ہوپاتا ۔ “پیراں وے پیراں وے پیراں میں ہوجاوں نہ باغی” میں جب بهی سنتی ہوں مجهے تکلیف دیتا ہے ایک چنچل سی لڑکی جس کے بارےمیں ابهی جانے ہوئے مجهے چند دن ہوئے تهے اس کا غیرت کے نام پہ قتل ہوجانا۔ ایک لڑکی جس کے پیج کو ہر شریف مرد نے لائیک کیا ہوا تها۔ ظاہر ہے تب ہی اس کے لائیکس کی تعداد کئی ملین تهی۔ اور سارے شریف مرد اس کی برہنہ تصاویر اس کے بے ہنگم ناچ گانے اور عجیب عجیب سٹیٹس دن رات ملاحظہ فرمارہے تهے۔ دیکهنے کے بعد استغفار تو ہر کوئی پڑھ ہی لیتا ہے۔ میڈیا نے بهی اپنی ریٹنگ کیلئے اس کی اوٹ پٹانگ حرکات کو کوریج دی ،ہر کوئی اسے صرف اس حوالے سے جانتا تها اورمجهے تو پتہ ہی اس وقت چلا جب اس نے شاہد آفریدی کو چیلنج کیا کسی میچ کے جیتنے کا، خوب لطیفے بنے۔مگر کسی نے بهی اس وقت اس کے مسائل کو سمجهنے کی کوشش نہ کی غیر سب انجوائے کرتے رہے اور اپنے یہ پلان کرتے رہے کہ بے غیرتی کے اس پلندے کو ختم کیسے کیا جائے۔

اس کو ایکٹنگ کا شوق تها اس نے پاکستان آئیڈل جیسے کسی شو میں حصہ لیا مگر دیہات سے آئی ہوئی اس بیوقوف لڑکی کو کسی نے بهی ڈرامے میں کام کرنے کا چانس نہیں دیا۔ میں کہتی ہوں کہ کیا سبهی اداکار اور اداکارائیں مقابلے کا امتحان پاس کر کے آتے ہیں اور پهر بقول اس کے کہ میڈیا کے لوگ اسے غلط طریقے سے استعمال کرنا چاہتے تهے، یہ بهی ایک اتنا بڑا ایشو ہے جو عام لڑکی کو میڈیا میں ایڈجسٹ نہیں ہونے دیتا لوگ کئی طریقوں سے گهات لگائے بیٹهے رہتے ہیں لڑکیوں کو تو چهوڑیں لڑکوں کو بهی عجیب عجیب آفرز ہوتی ہیں اور پهر یہی حضرات عورت کی شخصی آزادی کے ایونٹس اور ان میں لگنے والے بینرز اور بلند ہونے والے نعروں کو سپانسر کرتے ہیں مطلب مسائل تو حل کے بیچ میں ہی گهل جاتے ہیں۔
مجهے قندیل بلوچ کوقوم کی ہیروئن نہیں بنانا بلکہ مجهے سوشل میڈیا کی اس مقتول سٹار سے اس کی زندگی میں بهی ہمدردی تهی  اور اس کے مرنے کے بعد اس ہمدردی میں فسوں بهی شامل ہوگیا اس نے ایک بولڈ سٹیپ لیا ۔اس منافق معاشرے کے منہ پہ زوردار طمانچہ مارا جہاں ہم عورت کو محض مرد کی غلام سمجهتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہوا کہ اپنی بے جا نمائش کرکے اس نے بهی مردانہ سوچ کی غلامی اختیار کر لی۔ وہ بروں کے ساتھ بری بن گئی مگر یہ ہم منافقین کا معاشرہ ہے جہاں پہ چار سو قتل کر کے بهی مرد اپنی نام نہاد مردانگی لئے سر اٹها کے جیتا ہے مگر وہ بهول گئی تهی کہ وہ عورت ہے،وہ اگر معاشرے کہ منہ پر طمانچہ مارے گی تو بدلے میں معاشرہ کیااسے جینے دے گا ؟اس نے بلاوجہ کی بے جا آزادی کی خاطر اپنی جان گنوادی لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس بیوقوف لڑکی سے یہ سب کروانے والے بهی مرد ہی ہیں۔ مرد ہی اس کی ویڈیوز بناتے اور پهر مرد ہی انهیں سراہتے کچھ گالم گلوچ کرتے۔ اس وقت عورتوں کے حقوق کی کوئی تنظیم کیوں نہ آگے بڑهی جو یہ جان سکتی کہ وہ یہ سب کس کے ایماء پر اور کس کیلئے کر رہی ہے وہ یقینا” فحاشی” پهیلارہی تهی۔ اب اس کے مرنے کے بعد یہ سٹیٹمنٹ تو بدل نہیں سکتا ناں، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بهی اس کی فحاشی کو روکنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹهایا ۔کیا واقعی اس کی غلطیوں کی سزا صرف قتل کی صورت میں ہی بنتی تهی؟ یہ جو اتنی بڑی دنیا بهری پڑی ہے حساس لوگوں سے ان کے پاس کوئی حل نہیں تها سوائے کهی کهی کرنے کے یا پهر چهی چهی کرنے کے؟؟ مگرپتہ ہے اس کے مرنے کے بعد کتنے پروگرامز ہوئے انسانی ہمدردی رکهنے والے ہر گروہ کی طرف سے۔ موم بتیاں جلائی گئیں تقریریں ہوئیں تصویریں ہوئیں عشائیے بهی ہوئے ہونگے ابهی ایک ڈرامہ تو اس کی زندگی پہ بن ہی گیا ہے۔ بہت اچها جارہاہے ریٹنگ میں سب سے اوپر ہے ایک آدھ سال میں شرمین عبید بهی آسکر فلم ایوارڈ کیلئے قندیل بلوچ پر فلم بناکر پیش کر دیں گی۔

اور یقینا” ایوارڈ بهی انہی کو ملے گا آخر کو عورت کی مفلسی اوربیچارگی دکهاکر اور مردوں کے اس پر ڈهائے جانے والے ظلم دکها کر ہم مغربی معاشرے کے قدم سے قدم ملاکر چلنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ہم انهیں دکهاتے ہیں ہم ہربرائی ایکسپوز کرنے کی ہمت رکهتے ہیں اور وہ ہم پر ہنستے ہوں گے کہ کسی برائی کو جڑ سے اکهاڑ جو نہیں سکتے۔ مغرب کے ساتھ چلنا ہے تو اپنی سوچ کےزاویوں کو بلند کرنا ہوگا ۔عورت کے حق میں لگنے والے نعروں پہ پیسے خرچ کرنے کی بجائے اس کی زندگی پر پیسے خرچ کریں، جس طرح مغرب نے طلاق کے بعد عورت کے حقوق کا آسماں کهول کے رکھ دیا ہے کیا ہمارا معاشرہ یہ سب کرسکتا ہے؟ ارے ہمارے ہاں تو وہ بے غیرت لوگ پائے جاتے ہیں جو عورت کے جہیز کے موزے بهی واپس نہیں کرتے، بلکہ تڑپاتے ہیں ترساتے ہیں ایک ایک چیز کیلئے۔ بچے چهین لیتے ہیں۔ جہاں اسلام طلاق اور عدت کے لگ بهگ سال بهر تک عورت کو شوہر کے گهر میں ٹهہر نے کا حکم دیتا ہے ہمارے ہاں آدهی رات کو دهکے دے کر گهر سے ایسے باہر نکال دیا جاتا ہے جیسے عزت کی یہ پوٹلی جو کتنے عرصے سے اس گهر کی تهی اب بهلے کوڑے میں چلی جائے۔ اور یہی کیا قندیل بلوچ نے بهی۔

میں اس کو ہر گز جسٹیفائی نہیں کررہی کہ اس نے فحاشی اور عریانی پهیلاکر کوئی اچها کام کیا مگر اس کےاس قدم کے پیچهے وہ بے حس مرد جو اس کا شوہر تها ،اس کا قندیل ، اس کی شہرت اور اس کے قتل میں دور دور تک کہیں کوئی ذکر نہیں کیونکہ وہ طلاق دے چکا تها۔ اس کا اس کے ساتھ عزت والا کنٹریکٹ کینسل ہوچکا تها اور پهر مرد تو شریف ہوتے ہیں ناں۔۔ فساد کی جڑ تو محض عورت ہی ہوتی ہے بہت سارے کیسز میں یہ حقیقت بهی ہے مگر ہمیں تیزی سے پهیلتے ہوئے ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ میں چاہتی ہوں کہ جو ہو سکے وہ زندگی میں ہی کر دیا جائے۔ ورنہ تاج محل بهی ممتاز محل کے کس کام کا ؟محض جگ دکهاوا ہی تو ہے۔ انسانی جان سے بڑھ کر کچھ بهی نہیں اور ایک انسان کا قتل قرآن کے مطابق پوری انسانیت کا قتل ہے اور ہماری آنکهوں کے سامنے انسانیت روز قتل ہوتی ہے مگر ہم اتنا قتل ہو ہو کے اب بے حسی کی بوریوں میں محض چلتی پهرتی زندہ لاشیں ہیں۔

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *