پیٹرول بم اور حکومتی رٹ۔۔محمد ہاشم

حکومت کی طرف سے پیٹرول کی قیمت میں یکدم 25 روپے کا اضافہ کسی الیکٹرک شاک سے کم نہیں ہے۔ اس کو صحیح ثابت  کرنے کے لئے تاویلیں بھی حکومتی ترجمانوں کی طرف سے پیش کی جارہی ہیں جو کہ کسی طرح سے بھی قابل قبول نہیں لگ رہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے ،بالکل درست ہے لیکن اتنا بڑا جمپ بھی نہیں مارا کہ آپ سیدھا 25 روپے کا اضافہ کرتے۔ اگر قیمتیں بڑھ رہی تھیں ،تو آپ بھی اسی انداز میں قیمت بڑھاتے۔

چند دن پہلے ہی اوگرا کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی سفارش کی گئی تھی اور میڈیا پر باقاعدہ ہیڈلائن چل رہی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوگرا نے مزید کمی  کی تجویز دی تھی تو اس کا مطلب ہے اس کی گنجائش تھی۔ تو پھر کمی کی بجائے اس قدر زیادتی کرنے کی کوئی بھی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔اور اگر یہ خبر غلط ہے اور اوگرا نے کمی کی سفارش نہیں کی تھی تو پھر جن میڈیا چینلز نے یہ خبر چلائی ان کے خلاف کونسا ایکشن لیا گیا؟

عمران خان صاحب,آپ کے تمام دعوے اور تقریریں یاد ہیں۔ اور ہمیں سمجھ بھی ہے کہ آپ کی  ٹکر کس قسم کے مافیا سے ہے لیکن اگر آپ سے پیٹرول مافیا, شوگر مافیا, گندم مافیا اور دیگر چھوٹے پریشر گروپس نہیں سنبھالے جارہے تو پھر ہماری یہ امید بھی ضائع ہی ہے  کہ آپ ماضی کی چوریوں اور چوروں کا حساب کرینگے۔

آپ  کو اسٹیبلشمنٹ کی  حمایت حاصل  ہے۔ پارلیمان کے نمبر گیم میں معمولی فرق کے باوجود آپ کی حکومت مضبوط ہے۔ الیکٹیبلز اور نامعقول مشیروں اور وزیروں سے گِھری کابینہ کو بھی برداشت کیا جا رہا ہے۔ رائے عامہ بھی ماضی کے مقابلے میں آپ کی کوتاہیوں کو درگزر کر رہی ہے صرف اس امید پر کہ آپ دیانت دار اور کرپشن سے پاک ہیں ۔

لیکن آپ کی دیانتداری کا فائدہ تب ہوگا جب آپ خود نہ کھانے کے ساتھ دوسروں کو بھی کھانے سے روکیں گے۔ آپ کے مشیروں, وزیروں کو مافیاز کے ساتھ جوڑا جارہا ہے اور کچھ تو ثابت بھی ہو رہے ہیں۔ آپ کی کابینہ آئے دن آپس میں گتھم گتھا ہے۔ آپ کے پاس بے شک لاکھ مجبوریاں اور تاویلیں ہونگی لیکن اصل بات یہ ہے کہ آپ نے بھی ان مصلحتوں اور مجبوریوں کا شکار ہونا تھا تو پھر آپ میں اور ماضی کے حکمرانوں میں کیا فرق رہ جائے گا؟۔

آپ تو کپتان ہیں, آپ کی نہ کوئی ذاتی مجبوری ہے, نہ آپ ڈرتے ہیں, نہ ہی آپ کو کوئی ذاتی طور پر بلیک میل کر سکتا ہے یا مجبور کر سکتا ہے۔ پھر ایسی کونسی اندرونی مصلحتیں ہیں جو آپ کو کھل کے کھیلنے نہیں دے رہیں ؟ ایسی کیا مجبوریاں ہیں جو آپ سے ایسے غیر مقبول اور غیر معقول فیصلے کروا رہی ہیں؟

محترم وزیر اعظم صاحب, آپ کے ترجمان یہ تو جسٹیفائی کر دینگے کہ مہنگائی کی وجوہات ماضی کی پالیسیاں اور عالمی مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ اور کورونا وبا  ہے لیکن یہ کیسے جسٹیفائی کرینگے کہ  آپ عالمی مارکیٹ اور وبا کو تو کنٹرول نہیں کر سکتے لیکن حکومتی رٹ تو نظر آئے۔ تبدیلیوں کے اثرات تو واضح  ہوں۔ پولیس اور لوکل انتظامیہ کو سدھارنے اور بہتر کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے گئے؟ آج پی ٹی آئی کا وہ نظریاتی کارکن بھی طیش میں ہے جو اندھی تقلید کرتا تھا۔
عام نیوٹرل عوام جو اصل میں الیکشن کے دن فیصلہ کرتی ہے,وہ مایوس ہوچکی ہے۔ نظریاتی کارکن بھی مایوس ہوگیا تو پھر پی ٹی آئی کا وہی حال ہوگا جو پیپلز پارٹی کا پنجاب میں ہوا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *