• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • درختوں کا ڈپریشن اور سوشانت سنگھ کی سوئی سائیڈ۔۔فرحان جمالوی

درختوں کا ڈپریشن اور سوشانت سنگھ کی سوئی سائیڈ۔۔فرحان جمالوی

کینیڈا میں موسمِ بہار کا پرسوں آخری دِن تھا۔ سردیاں اتنی شدید تھیں کہ درخت پتھر بن گئے تھے۔ لگتا تھا اب یہاں کبھی سورج نہیں نکلے گا۔ برف باری نے بڑی مشکل سے مئی کے پہلے ہفتے میں دم توڑا۔ بہار کوتخلیقی کام کرنے کے لیے دو مہینے کی مہلت ملی۔ایک جانب ڈاکٹر حضرات کووڈ کے مریضوں کو جانبر کرنے کی کوششیں کر رہے تھے، دوسری جانب بسنت اپنے بازوؤں سے درختوں کو آکسیجن ماسک لگانے اور خون کی بوتلیں چڑھانے میں مصروف رہا۔۔راتوں رات مردہ جسموں میں روح پھونکی، یہاں تک کہ صحت مند ہونے والے مریضوں کو رشتہ ازدواج میں باندھا اور دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا۔

رات کے کھانے کے بعد، ایک پاکستانی دوست کے ساتھ بیٹھا، میں کچھ اسی قسم کا فلسفہ بگھار رہا تھا۔ وہ اِن دونوں شدید ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اُس روز سوشانت سنگھ راجپوت نے مبینہ طور سےخود کشی کر لی تھی۔ میں نے موسمِ بہار کی مثال دیتے ہوئے عرض کیا کہ راحت کا ایک دِن، تکلیف کے ہزار دِنوں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ جب راحت آتی ہے تو تکلیفیں بھول جاتی ہیں۔لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ طویل ترین انتظار کرنے کے لیے تیار ہوں۔جس طرح درخت، خزاں میں سحری کرتے ہیں اور بہار میں افطار۔۔۔ دوست نے کہا “یاد ہے ،ایک مرتبہ آپ نے ایک واقع سنایا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کبھی کبھی بہار کسی درخت کو چھوئے بغیر ہی گزر جاتی ہے؟” میں نے کہا، ” یاد ہے ۔ موبائل میں آج بھی ڈپریشن کے اُس مریض کی تصویریں موجود ہیں۔”

آج سے ٹھیک دو سال پہلے ایک سہ پہر میں وارساؔ ( پولینڈ ) میں ایک پارک سے گزرتا ہوا اپارٹمنٹ جارہا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ مئی کا آخری ہفتہ تھا، رمضان کے دِن اور بہار کا موسم۔ ۔۔ مگر دِل بہت اداس تھا۔ بیوی بچوں سے بچھڑے آٹھ ماہ ہو چکے تھے۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے اتنے چکر لگوائے اور بٹھا بٹھا کر اتنا انتظارکروایا کہ کرسی پر کوہلوں کے نشان چھپ چکے تھے۔ جیسے ہی پارک میں قدم رکھا تو رنگ برنگے  درختوں نے پُرتباک استقبال کیا، بہار کے نغمے بلند ہوگئے۔ موسیقی کی کوئی زبان نہیں ہوتی اِس لیے مجھے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ عجب اتفاق یہ تھا کہ اُن دنوں میں درختوں کی مخفی زندگی پر لکھی ایک انوکھی کتاب پڑھ رہا تھا:

The Hidden Life of Trees: What They Feel, How They Communicate – Discoveries from a Secret World by Peter Wohlleben

Warsaw, Poland | Photo Courtesy | Farhan Jamalvy © May 2018

شجر ہم آواز ہو کر شاید پولینڈ کے تان سین شوپینؔ (Chopin) کا Spring Waltz گنگنانے لگے اور بارش کی بوندوں نے سنگت شروع کر دی۔ میں لکڑی کی گیلی بنچ پر بیٹھ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کے گرانڈ سنفنی آرکیسٹرا نے دِل خوش کرنے کو میرے ساتھ سیلفیاں بنانا شروع کر دیں۔میں سب سے ہاتھ ملاتا ، آگے بڑھتا جاتا۔۔۔ ایک بنچ سے اُٹھتا اور دوسری پر بیٹھ جاتا ۔سُر اور سروُر کی اِس محفل میں میری نظر اچانک ایک شجرِ معتوب سے ٹکرائی۔۔۔کئی ماہ کے روزے یا فاقے سے لگتا تھا۔ ۔۔ فاسٹنگ بودھا کی طرح ۔۔۔سوکھ کر لاغر ہو گیا تھا، برہنا جسم کی ہڈیاں دوہائی دے رہی تھیں۔۔۔ دائیں بائیں ہرے برے درختوں کا میلہ تھا اور وہ بھرے مجمع میں اکیلا تھا۔۔۔عقل حیران تھی کہ بسنت کے بوس و کنار کے باوجود اِس بدنصیب کے ہونٹ کیوں نہیں بھیگے ؟ اِسی سوچ میں سامنے والی بنچ پر بیٹھ گیا۔ ۔۔ ہمت کر کے قریب گیا اور ہاتھ لگا کرسادھو کے وجود کو محسوس کیا۔ وہ مُردہ نہیں تھا۔ ڈھرکنیں جاری تھیں ۔سلام عرض کیا ، کوئی جواب نہ آیا۔ پوچھا روزہ کیوں نہیں کھولا؟ جواباً وہی خود ساختہ خاموشی۔۔۔ “یہ نہیں بولے گا!” پیچھےکھڑے ایک درخت نے انکشاف کیا۔ “کبھی بولتے نہیں سنا۔ دیس اِس کا اور ہے۔ یہاں غلطی سے لگا گئے ۔” پلٹ کر پردیسی پیڑ پر نگاہ ڈالی تو اب وہ اپنی جگہ موجود نہ تھا، اُس کی جگہ ۔۔۔میں نے خود کو کھڑا پایا۔۔۔ پاؤں کٹے ہوئے ، جڑیں ناپید اور جسم اکڑا ہوا۔۔۔

فلیٹ واپس آتے آتے شدید ڈپریشن کا شکار ہو چکا تھا۔ دِل میں ملال تھا کہ جرمنی سے فیلو شپ مکمل کر کے پاکستان واپس جارہا تھا۔ ایک عزیز نے انتہا درجے کا دباؤ ڈال کر ریٹرن ٹکٹ ضائع کر وادیا ۔ جس پولینڈ نے میرے افسانے کو عزت دی، اپنی زبان میں ترجمہ کر کے شائع کیا، آج اسی پولینڈ  کی سڑکوں پر پائی پائی کا محتاج بنا گھوم رہا ہوں۔ میرے پولش مہربان ادیب کافی کے لیے کیفے بلاتے تو میں بہانہ بنا کر معذرت کر لیتا ۔۔سوچتا کہ غلطی میری ہے۔ صحیح بھی مجھے کرنی ہوگی۔ زندگی نے بہت چھوٹی عمر میں راکھ سے پکھراج بننے کا سبق سکھا دیا تھا۔ حاکم سیارہ زحل تقریباً ہر دس سال بعد آگ کے دریا سے گزارتا ہے اور جلا کر راکھ کر دیتاہے ۔قریب آکر دیکھتا ہے کہ مٹی ، مٹی میں مِل کر مٹی ہو گئی یا کندن بن کر اُبھری۔۔۔ ؟

سب ہی کے ساتھ ایسا ہوتا ہوگا، میں نرالا نہیں۔ مگر کچھ لوگ راکھ سے فینیکس (Phoenix) کی طرح زندہ ہو کر اُٹھنے کے بجائے، پھانسی کے پھندے پر جھولنے کو ترجیح سمجھتے ہیں۔ سشانت سنگھ نے بھی بظاہر ۔۔۔بظاہر ایساہی کیا۔۔
میں نے بھی زندگی میں دو مرتبہ خود کشی کرنے کی کوشش کی ۔ پھر سوچا خود کشی آسان ہے۔ زندہ رہنا زیادہ مشکل ہے۔سو ، زندگی جھیلنے کا فیصلہ کیا۔ سگریٹ سےالرجیک انسان، چین اسموکر بن گیا۔ ۔۔ پھر مجھے عروسہ ملیں اور بڑی بہادری سے میری سوچ کا رُخ موڑ دیا۔ یہ دوسری زندگی عروسہ کی دی ہوئی ہے۔

اب سوچتا ہوں میں نہ رہتا تو ہمارے بچے اِس دنیا میں کیسے آتے ۔۔۔بچے، وہ بچے جن سے بڑا تحفہ اور خوشیاں قدرت آپ کوکبھی نہیں دے سکتی۔۔۔ جن کی اولاد نہیں انھیں بھی یتیم بچوں کو گود لینے سے اتنی ہی خوشی مل سکتی ہے۔

صوفے پر بیٹھے بیلی ، میری باتیں غور سے سُن رہے تھے۔فرمانے لگے، “میں نے ایسا ہی ایک درخت یہاں کینیڈا میں دیکھا ہے اور ایک مرتبہ پاکستان میں بھی دیکھا تھا۔ اس وقت بیگم میرے ساتھ تھیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ دل میں سوچا کہ مجھے پتا ہے اس کا مسئلہ کیا ہے”۔ ہم دونوں خاموش ہوگئے۔ ہمت کر کے انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ کسی ماہر نفسیات کو دکھانا چاہتے ہیں۔ میں نے اپائنٹمنٹ لے لیااور اُن کے کہنے پر بطور ترجمان اُن کے ساتھ چلا گیا۔ لیڈی سائیکولوجسٹ نے دوست کی زندگی کے تلخ اور اہم واقعات تفصیل سے سنے۔ بعد میں خود پر قابو پانے کے کچھ اصول بتائے، جو یہ ہیں:

ڈپریشن کے مریضوں کو نیند یا سستی بہت محسوس ہوتی ہے اِس لیے وہ زیادہ تر وقت بستر میں گزارتے ہیں۔ کھانا پینا اور موبائل ، انٹرنیٹ ، فیس بک، نیٹ فلکس وغیرہ کا استعمال بستر میں ہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ذہن کو یہ طے کرنے میں مشکل ہوجاتی ہے کہ بستر سونے کے لیے ہے یا وقت گزارنے کے لیے۔ لہٰذا رات کو نیند کے وقت نیند نہیں آتی جس کی وجہ سے اگلا دِن مزید سستی سے گزرتا ہے ۔ اسی لیے بستر میں صرف نیند پوری کرنے کے لیے جائیں ۔ میرے اپنے ساتھ بھی یہ مسئلہ تھا اور دوست کے ساتھ تو اِس وقت تک یہی مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کی وہ کوشش کر رہے ہیں۔

روزانہ واک کرنے / ٹہلنے جائیں ۔ مقصد تازہ ہوا لینا، منفی سوچ کو منتشر کرنا اور جسم کو تھکانا ہے۔

کسی کی کوئی بات بری لگے تو اُس کے بارے میں گھنٹوں نہ سوچیں۔ خود کو سمجھائیں کہ سامنے والے شخص کا رویہ اُس کی اپنی پیچیدہ زندگی کی علامت ہے جس کا میں ڈائریکٹیلی (بالواسطہ) ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ منفی سوچ کے بجائے مثبت سوچ کو ذہن میں جگہ دیں۔

Sushant Singh Rajput | Photo Courtesy | IMDB © March 2017

آج پہلی مرتبہ دوست کو اُس درخت کی تصویریں دکھائیں۔ کئی بار سوچا اِس بارے میں کچھ لکھوں لیکن ٹالتا رہا۔ اب سوشانت سنگھ جیسے باصلاحیت اداکار نے مجبور کر دیا۔ وہ اکیلا نہیں تھا۔ نظر دوڑائیں تو ماضی میں مبینہ یا مصدقہ خود کشی کرنے والی مشہور شخصیات میں اداکارہ میریلن مونرو، اداکار رابن ویلیمز، موسیقار کرٹ کوبین قلم کار ورجینیا وولف، سلویا پلات، ارنسٹ ہیمنگوے، مصور ونسنٹ وین گو وغیرہ کا شمار خود کشی کرنے والے اُن بدقسمت افراد میں ہوتا ہے جن میں اکثریت کے پاس دولت، شہرت، عزت اور حُسن سب ہی کچھ تھا اِس کے باوجود انہوں نے زندگی کو ایک موقع اور نہیں دیا۔

میں نے خود کبھی کسی ماہر نفسیات کو نہیں دکھایا۔ کتابیں پڑھیں اور اپنا علاج خود کرنے کی کوشش کی۔ البتہ دو سہارے بہت کام آئے: ایک روڈیارڈ کپلنگ کی نظم “اگر ” If— by Rudyard Kipling جو نوجوانی سے لے کر آج تک کانوں میں گونجتی ہے اور اندھیرے میں مشعل کا کام کرتی ہے۔ دوسرا ایک دانش ور دوست کا دیا ہوا مشورہ۔ فرماتے ہیں زندگی میں جب کوئی بھی تدبیر کام نہ آئے، کوئی دوا  کام نہ کرے تو سیاہ چادر اوڑھ کر شہر سے دُور نکل جاؤ ۔ کسی غار میں یا زیرِ زمین چھپ جاوّ۔ جس طرح یونس نے چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں گزارے، یوسف نے کنویں سے نکل کر مصر کے تخت پر قدم رکھا، اسی طرح تمھیں بھی بقدر و قیمت نوازا جائے گا۔ اگلے کے ساتھ قدرت پچھلا قرض بھی لوٹا دے گی۔ لوگ کہیں گے تم راتوں رات امیر ہوگئے، کامیاب ہو گئے جبکہ حقیقت میں آسمان اصل کے ساتھ سود لوٹا رہا ہوگا۔ ہاں، وہ سب وصول کرنے کے لیےتمھارا زندہ رہنا ضروری ہے۔۔۔

ڈپریشن اُن بیماریوں میں سے ایک ہے جو بہ آسانی دکھائی نہیں دیتی۔یہ اکثر مسکراتے ہونٹوں اور چمکتی آنکھوں کے پیچھے گھات لگائے بیٹھی ملے گی۔ ذہنی دباؤ کے مریض طاقتور لوگوں کے درمیان رہتے رہتے مزید دباؤ کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اپنا زخم انھیں دکھاتے ہیں جو پہلے انہیں اپنا زخم دکھائیں۔ میں اِس رستے سے گزرچکا ہوں۔۔۔ وقت کی کٹھن شاہراہ سے گزرتے ہوئے ایک دِن ہم دونوں رُکے اور ایک سائن بورڈ آویزاں کر دیا: “خیال سے، آگے زندگی ہے!”

میں کوئی ماہرِ نفسیات نہیں مگر آپ دوستوں میں سے اگر کوئی خود ساختہ قیدِ تنہائی یامستقل ڈپریشن کا شکار ہے تو وہ مجھ سے بلا جھجک رابطہ کر سکتا ہے۔۔۔ میں انسانوں اور درختوں کے دُکھوں کو سُننے کی کوشش کرتا ہوں۔ مکمل راز داری کی ضمانت کے  ساتھ  حاضر ہوں ۔۔

آخر میں سوئی سائیڈ پر بنائی گئی ایک خوبصورت شارٹ فلم شئیر کرنا چاہوں گا۔ وقت ملے تو ضرور دیکھیے گا۔ درجنوں ایوارڈز جیتنے والی یہ خاموش فلم، معاشرے کے ذمہ دار لوگوں میں خود کشی کے رجحان پر بہت کچھ کہتی محسوس ہوگی۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *