کالی چھتری اور طیفے کی کرسی۔۔وہاراامباکر

امریکی صدر جان کینیڈی کو جب سڑک پر گولیاں ماری گئیں تو سڑک کے کنارے ایک شخص کھڑا نظر آ رہا تھا۔ سیاہ رنگ کی چھتری کھولے ہوئے کھڑا تھا۔ نہ ہی بارش تھی اور نہ ہی ایسے آثار تھے۔ کسی بھی اور شخص نے چھتری نہیں پکڑی ہوئی تھی۔ چھتری والا شخص اس میں ایک انوکھا منظر تھا۔ بظاہر کوئی وجہ نہیں تھی، کوئی وضاحت نہیں تھی، کوئی منطق نہیں تھی کہ ایسا کیوں؟ اور یہ عین اس وقت جب صدر کو گولی ماری گئی؟؟ ان دونوں واقعات میں کوئی نہ کوئی تعلق ہو گا؟

اس کی اصل وضاحت بہت دلچسپ ہے لیکن جب تک آپ کو خاص نالج نہ ہو، آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ لیکن اگر آپ کانسپیریسی تھیورسٹ ہیں؟ اس کی وجہ یقیناً کوئی سازش ہی ہو سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانستہ یا نادانستہ طور پر غلط سائنس کرنے والوں کی سب سے خراب سمجھ انامولی کی نیچر پر ہے۔

جب ہمارے پاس بہت سا ڈیٹا ہو، تو اس میں سے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہو گا جو بظاہر انامولی لگے گا۔ ان کا ملنا خود میں کچھ بھی ثابت نہیں کرتا۔ ہمارا ایک مغالطہ ہے کہ ہر انامولی اہم ہو گی اور اتفاق کے امکان کو ہم کم وزن دیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہال میں سو لوگ اپنی کرسیوں پر بیٹھے۔ طیفے کی کرسی ٹوٹ گئی۔ آخر طیفے کی ہی کیوں ٹوٹی؟ باقی ننانوے تو سلامت رہیں؟

اس کو ہم بعد کے امکان کو پہلے کے امکان سے کنفویز کرنا کہتے ہیں۔ جب ہم کہیں کہ اس کا کیا امکان ہے کہ طیفا ہی گرا تو وہ امکان حیرت انگیز لگے گا۔ جب ہم کہیں گے کہ اس کا کیا امکان ہے کہ کوئی بھی گرا تو یہ سو گنا بڑھ جائے گا۔ اور جب کوئی گرا ہے تو خواہ وہ طیفا ہو یا جیدا یا شیدا یا اللہ رکھا یا کوئی بھی اور۔ کسی کے بھی ہونے کا امکان برابر ہے۔

اور اگر ہم اس تعریف کو وسیع کر کے اس پر لے جائیں کہ اس محفل میں معمول سے ہٹ کر کوئی بھی واقعہ ہونے کا امکان کتنا تھا؟ تو معمول سے ہٹ کر کچھ بھی ہو جانا خود معمول ہے۔ طیفے کی کرسی کا ٹوٹنا ایسا ہی واقعہ تھا۔ یہ کوئی ایسی انہونی نہیں تھی جس کا کوئی بڑا گہرا مطلب ہو۔

واقعہ رونما ہو جانے کے بعد یہ سوال کہ “آخر اس کا امکان ہی کتنا ہے کہ عین اسی روز، اسی محفل میں صرف طیفے کی ہی کرسی ٹوٹی؟” ایک غلط سوال ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ہم جان کینیڈی کی انامولی پر واپس چلتے ہیں۔ ایک اصل انومالی؟ ایک غیرمعمولی اتفاق؟ سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ لوگ عجیب وجوہات کی بنا پر عجیب حرکات کرتے ہیں۔ کسی واقعے میں شامل ہر شخص کی سوچ کا تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ کئی بار ہمیں دوسروں کی حرکات کی سمجھ نہیں آتی۔ ان کو ہم دانستہ اور پلاننگ کے مطابق سمجھ لیتے ہیں، نہ کہ اتفاقی۔

جب بھی آپ کسی بھی منظر کو بہت ہی غور سے دیکھیں گے تو اس میں کچھ نہ کچھ ایسا ملنے کا امکان بہت زیادہ ہے جس کی کچھ سمجھ نہ آئے۔ “صدر کے قتل کے وقت اس بات کا کتنا امکان کتنا ہے کہ قریب ہی کوئی شخص کالی چھتری کھول کر کھڑا ہو؟” کے بجائے سوال یہ تھا کہ “صدر کے قتل کے وقت کسی کے بھی کسی غیرمعمولی حرکت کرنے کا امکان کتنا تھا؟”۔ اب اس کا امکان پہلے سے بہت زیادہ ہو جائے گا۔

ایسی چیز جس کی وضاحت سمجھ میں نہ آتی ہو، لازمی نہیں کہ کوئی بہت گہرا مطلب رکھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر کالی چھتری کا قصہ کیا تھا؟
یہ شخص لوئی سٹیون وٹ تھے۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ وہ جوزف کینیڈی کی دوستانہ پالیسیوں کے خلاف تھے۔ کالی چھتری ایک احتجاج کا پرانا طریقہ ہوا کرتا تھا۔ برطانوی وزیرِاعظم چیمبرلین ہر وقت کالی چھتری رکھتے تھے۔ یہ چھتری ان کی طرف ریفرنس تھا۔ چیمبرلین کی جرمن نازیوں سے مفاہمت کی پالیسی تباہ کن رہی تھی۔ سیاہ چھتری کھول کر احتجاج کرنا ایسی پالیسیوں کے خلاف علامت تھا۔ ساٹھ کی دہائی تک یہ طریقہ کم کم ہی رہ گیا تھا لیکن کئی لوگ باقی تھے۔ ان میں سے ایک لوئی سٹیون وٹ تھے۔ جب آپ کو تاریخ کا معلوم ہو جائے تو پھر اتنا انوکھا نہیں رہتا جتنا اس وضاحت کے معلوم ہو جانے سے پہلے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا اس وضاحت کے بعد سب نے یہ تسلیم کر لیا کہ اصل ماجرا کیا تھا؟ بالکل نہیں۔ ایسے لوگوں کی کمی نہیں رہی جو صدر کے قتل کو کسی بڑی سازش کا حصہ بتاتے رہے ہیں اور ثبوت کے لئے کالی چھتری والے شخص کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *