سوشل میڈیا کی پذیرائی ،اور انجام۔۔۔ظفر راٹھور

آرکیٹ سے شروع ہونے والا سوشل میڈیا کا سفر فیس بک، وٹس ایپ اور ٹوئیٹر تک آ پہنچا اور بلاگنگ نے کئی نئے در وا کئے۔ کئی رجحانات کا قتل ہو اور کئی نئے انداز بہت کم وقت میں پلے بڑھے۔ اسی دوران اینڈرائیڈ فون کی آمد اور اس میں مختلف زبانوں کا اضافہ، اسے ہر ملک کے اندر مزید پذیرائی دیتا گیا۔ انگریزی سے مقامی زبانوں کی طرف کا سفر اور ڈیواسز کی فراوانی اسے عام آدمی تک لانے میں ایک بڑے سنگ میل کا کردار ادا کیا۔

پاکستان میں دو طبقات سوشل میڈیائی دنیا میں میرے دیکھتے ہی دیکھتے کھمبیوں کی طرح اگنا شروع ہوئے۔ ایک مذہبی مدارس کے طلبا و استاتذہ، دوسرے صحافت و ادب سے کسی نہ کسی صورت میں وابستگی رکھنے والے افراد۔ عجیب بات یہ ہے کہ انہی دو طبقات کی اکثریت جدت کی بجائے قدامت کو فوقیت دیتی تھی، اور ایک طبقہ تو ہر جدت کو دجالیت کی جانب ایک نیا قدم سمجھتا تھا، لیکن لاوڈ اسپیکر کے کافر سے مسلمان اور پھر مومن کی پہچان بننے کی طرح سوشل میڈیا بھی ایسے  ہی حالات سے گزرتا، ہر مومن کا اسلحہ بن گیا۔ ایسی باہم فائرنگ شروع ہوئی کہ جس کا ظاہر زخم ندارد لیکن اندرونی زخم سالوں تک اثر پذیر ہوتا نظر آیا۔

فیس بک ایسے میں جنگ و جدل کا مرکزی میدان بنا۔ کہ یہاں لفظوں کو سمانے کی گنجائش زیادہ تھی اور باہمی خفیہ رابطہ بذریعہ پرائیویٹ میسج قدرے آسان تھا۔ دوسری طرف فیس بک کی طرف سے ہر نئے دن نئی تبدیلیاں بھی موافق بر مزاج تھیں تو فوجیں خوب صف آرا ہوئیں۔پہلے پہل سوشل میڈیا صرف پی ٹی آئی والوں کا ہتھیار سمجھا گیا۔ ایک تو یہودی سازش کا عالمگیر اسلامی راز صرف پاکستان والوں کو ہی معلوم تھا۔ دوسرے پی ٹی ائی میں پڑھا لکھا طبقہ زیادہ تھا،اور سوشل میڈیا کے رجحانات سے واقف بھی تو سیاست کا میدان بھی زبردست سمجھا۔ 2010/13 میں بلا شبہ سوشل میڈیا پہ پی ٹی آئی سے متعلقہ مکتب فکر کا راج تھا۔ تیسرے پی ٹی آئی کو دیگر میڈیا پہ اتنی پذیرائی بھی نہ تھی کہ پیسے یا اقتدار کی طاقت وہاں تک پہنچ کے لئے ضروری بھی تھی۔

جلد ہی اس یہودی سازش کے جملہ فوائد جب ن لیگ اور فقہائے امت اسلامیہ پہ آشکار ہونے لگے تو مریم میڈیا سیل اور افغان جہاد کے فارغ تحصیل افراد نے اسے ایک دم جائز سے زیادہ فرض گردان لیا اور عوام ایسی ایسی ہوش ربا داستان سازی سے لطف اندوز ہونے لگے کہ تعریف و توصیف والا کمنٹ باز طبقہ کروڑوں کی تعداد کو جا پہنچا۔ ہم نے ایسے کمنٹ باز بھی بڑی تعداد میں دیکھے جو ابھی پی ٹی آئی کے پیج پہ تازہ بہ تازہ انقلابی کمنٹ کر کے فارغ ہوئے تو ٹھیک اگلے پانچ منٹ میں ن لیگ کے پیجز پہ ان کے تجربہ میں رطب اللسان نظر آئے۔ سماجی سائنسدان انہیں متلاشی بنت حوا کہتے ہیں، جبکہ قومی متلون مزاجی بھی ان کی بنیادی صفت سمجھی گئی۔

سیاست تو خیر رنگ ہی الگ رکھتی ہے۔ کہا اور سمجھا جاتا تھا کہ سیاست کا کونسا دین ایمان ہوتا ہے۔ مرقعہ مفادات اور ابن الوقتی کا خاصا تجربہ بھی چاہیئے لیکن اہل دین کے ہاتھوں جو تیر چلے کہ الخفیظ و والامان۔ ایک صاحب کی پوسٹ پڑھ کے تازہ تازہ کافر محسوس کرنے لگتے تو دوسرا زندیق نامی نامہ لہرا دیتا۔ تیسرا رافضی پہ خیال سرائی کرتا تو من رافضیت زدہ لگنے لگتا، چوتھا اہل بیت کے ایمان کی جانچ پڑتال کرنے لگتا تو سوچتے ہم کس باغ کی مولی۔ ہونقوں کی طرح منہ اٹھا کے سمجھنے کی کوشش کرتے کہ جن کے اتالیق پیمبر، جن کے احباب صحابی، جو جان و خاندان وار کے بھی پہ سوالیہ نشانات لئے بیٹھے ہیں تو ہم، آپ جیسے استاتذہ رکھنے والے کس قطار میں۔سخت افسردگی و مایوسی نے گھیرا ہے۔ ہر طرف اندھیرا ہے۔ پھر بھی امید زندہ ہے کہ ایک رب تو ہے جو کرب کو سمجھتا ہے۔ وہی روشنی کا انتظام کر دے۔ اہل علم و قلم تو کسی وار سے عاری نہیں۔ لیکن وہ شاید مخفوظ رکھ لے۔ وہی تھا، وہی ہے، وہی رہے گا۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *