• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • وبا کے دنوں میں پروفیسر ابن کنول کے خالد سہیل کے نام ادبی محبت نامے(حصّہ اوّل)

وبا کے دنوں میں پروفیسر ابن کنول کے خالد سہیل کے نام ادبی محبت نامے(حصّہ اوّل)

خالد سہیل کا پہلا ادبی محبت نامہ۔

ابن کنول صاحب!

میری جب آپ سے برسوں پہلے ۔۔۔جب آتش جوان تھا,دہلی میں ملاقات ہوئی تھی تو میں آپ کی شخصیت اور تخلیقی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوا تھا۔ اگر میں دہلی کا باسی ہوتا تو آپ سے ضرور دوستی کرتا۔ آج جب میں نے آپ کا جاوید دانش کا خاکہ پڑھا اور پیغام آفاقی کا خاکہ سنا تو اور بھی متاثر ہوا۔چونکہ آپ ادیب بھی ہیں دانشور بھی اور اردو ادب کے پروفیسر بھی تو جی چاہتا ہے آپ سے اس حوالے سے چند سوال پوچھوں۔

پہلا سوال

آپ کی نگاہ میں ایک کامیاب ادیب اور شاعر کا کیا تصور ہے؟

دوسرا سوال

میں بہت سے ایسے ادیبوں اور شاعروں کو جانتا ہوں جنہوں نے بہت سے ادبی پروجیکٹ شروع کیے لیکن وہ نامکمل رہے ۔ان کے ادبی خواب شرمندہِ تعبیر نہ ہوئے۔میں انہیں ادبی اسقاط creative miscarriages کہتا ہوں ۔آپکی نگاہ میں اس کی کیا وجوہات ہیں؟

تیسرا سوال

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کرکٹ کا کوچ دوسروں کی اچھی ٹریننگ کر لیتا ہے لیکن خود کھیلے تو سینچری نہیں بنا پاتا اسی طرح ادب کے نقاد اور پروفیسر ادیبوں اور شاعروں کی ٹریننگ تو کر لیتے ہیں خود بڑے شاعر یا ناول نگار نہیں بن پاتے۔ چونکہ وہ ادبی خامیوں سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اس لیے ان کا علم ان کے پاؤں کی زنجیر بن جاتا ہے۔ بڑا شاعر یا بڑا ناول نگار اپنی خامیوں کے باوجود بڑا ادیب ہوتا ہے۔ آپ کی نگاہ میں کیا اس خیال میں کچھ صداقت ہے؟

آپ کے جواب کا انتظار رہے گا

مخلص خالد سہیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابن کنول کا جواب

برادرِ محترم خالد سہیل صاحب !

مدت کے بعد آپ سے کچھ کہنا سننا ہوا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے جب آپ دہلی آئے تھے اور قمر رئیس صاحب اور جاوید دانش کے ساتھ آپ سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔قمر صاحب میرے محسن تھے اور جاوید میرا بہت پرانا دوست ہے۔ اس لیے آپ بھی میرے اپنے ہو گئے اور پھر قلم کا رشتہ تو بہت مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہوتا ہے جو ہمارے اور آپ کے درمیان ہے۔ آج کل کوچہِ قاتل کے سوا سبھی راستے بند ہیں۔اس قید میں صرف قلم کا رشتہ نبھاتے ہوئے ساتھ دے رہا ہے۔اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔دنیا اس طرح بند بھی ہو سکتی ہے خیال میں بھی نہ تھا۔

آپ نے کچھ سوال بھیجے۔ موبائل پر نوجوانوں کی طرح میری انگلیاں نہیں چلتیں اس لیے سوچا روایتی طور پر قلم کا سہارا لیا جائے۔

اپنی دانست میں ہر ادیب اور شاعر کامیاب ہوتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کامیابی کا انحصار قاری کے غیر جانبدارانہ تاثر پرہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک کامیاب ادیب یا شاعر وہ ہے جو اپنے مشاہدے اور مطالعے کو اپنی قوتِ متخلیہ کے سہارے ادبی طرز میں لفظی پیکر عطا کر سکے۔جو قاری کے احساس کو جھنجھوڑ سکے اور سوچنے پر مجبور کر دے۔ کسی بھی تخلیق کے ظہور میں آنے کے لیے چار چیزیں کار فرماہوتی ہیں۔

مشاہدہ

مطالعہ

قوتِ متخیلہ

اور ذخیرہِ الفاظ

ان چاروں کے ساتھ اظہار کا سلیقہ بھی لازمی ہے۔

جس ادیب یا شاعر کو یہ سلیقہ آتا ہوگا وہ کامیاب ہوگا اور زندہ رہے گا۔

گذشتہ صدیوں میں سینکڑوں شاعر پیدا ہوئے نہ جانے کتنی داستانیں لکھی گئیں لیکن کتنی آج زندہ ہیں۔تخلیق کی زندگی کاانحصار بہت کچھ اندازِ بیان پر منحصر ہے مذکورہ چار چیزیں بیشتر لوگوں کے پاس ہوتی ہیں لیکن اگر اس کے اظہار کی قوت نہیں ہے تو وہ سب بیکار ہیں۔ بہت سے ادیبوں اور شعرا کی تخلیقات بعض اوقات اس لیے نامکمل رہ جاتی ہیں کہ ایک وقت کے بعد مشاہدہ’ مطالعہ’ خیال’ الفاظ اور قوتِ اظہار اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی ناول یا افسانہ ادھورا رہ جاتا ہے کبھی غزل کے ایک دو شعر ہو پاتے ہیں۔ ہرن کے شکار پر جانے کے لیے شیر کے شکار کا انتظام ضروری ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہواکہ کوئی ادیب اپنی ذہانت کی خوش فہمی میں کسی بڑے کام کو انجام دینے کا ارادہ کر لیتا ہے لیکن اپنے ناقص مطالعے مشاہدے اور الفاط و بیان پر بھرپور قدرت نہ ہونے کے سبب مکمل نہیں کر پاتا ہے۔اس کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی۔ اور یوں بھی ہوا کہ داستان امیر حمزہ کو داستان گویوں نے چھیالیس ضخیم جلدوں پر پھیلا دیا۔

بھائی !

دنیا میں ہر ایک کے کام مختلف ہوتے ہیں۔ نقاد اپنا کام کرتا ہے اور تخلیق کار اپنا۔ نقاد محاسن اور معارب کی نشاندہی تو کر سکتا ہے لیکن تخلیق نہیں کر سکتا۔ غالب اور اقبال کے ناقدین کتنی ہی شاعری کر لیں غالب اور اقبال نہیں بن سکتے۔ کسی بھی تخلیق کار کی ہر تخلیق اعلیٰ پایے کی نہیں ہوتی۔ منٹو کی سب کہانیاں بڑی کہانیاں نہیں ہیں۔ کرشن چندر کے سب ناول بڑے ناول نہیں ہیں۔ بڑے فنکار کی چھوٹی خامیاں نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔مشہور کھلاڑیوں کا ذکرکرتے وقت اس کی سینچریوں کا ذکر ہوتا ہے یہ نہیں بتاتے کہ کتنی بار صفر پر آؤٹ ہوا۔

پس برادرِ محترم کاماب شاعر یا ادیب وہی ہے جسے مشاہدے اور مطالعے سے پیدا ہونے والے جذبات اور احساسات کا اظہار کا سلیقہ آتا ہو۔ بیان سب کرتے ہیں لیکن کسی کسی کا بیان متاثر کرتا ہے۔ دل میں اتر کر برسوں زندہ رہتا ہے۔

طوالت کے لیے معذرت۔ داستان گوئی سے دلچسپی ہے بیان میں طوالت آ ہی جاتی ہے۔

السلام

ابن کنول

شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی انڈیا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *