فیک نیوز اور ہمارے رویے :سحرش کنول

رات بھر کی بیداری کا یہ عالَم تھا کہ سر درد سے پھٹ رہا تھا آنکھوں کا رنگ سیاہ ہوا تھا الفاظ تو بہت تھے مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی  انسانیت کے جذبات مجھ پہ ھاوی ہو چکے تھے اور جہالت پر حیرت کی یہ انتہا تھی کہ میرا دل خون کے آنسو رونے لگا جب میری نظر چند ایسی بے بنیاد خبروں پہ پڑی جن کا حقیقت سے تو کوئی تعلق نہیں تھا لیکن پھر بھی معاشرے پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہو چکے تھے اور جو اب ٹرینڈ بن چکا ہے۔
یہ انسانی فطرت ہے کی اگر کوئی بات  انسان کے رسم و رواج ، ذات پات یا عقیدت کے برعکس ہو تو وه فوراً جزباتیت کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کے بڑے دردناک اور غیر انسانی نتائج  بھگتنے کو ملتے ہے اور تاریخح میں اسا اکثر ہوتا آیا ہے کی لوگ کسی پرانی خبر کو آج سے جوڑ دیتے ہو یا  سنی سنائی باتوں پر رد عمل ۔مظاہر کرتے ہوں آج کل تو ٹیکنالوجی کا دور ہے کوئی کام اب زیادہ آسانی سے کیا جا سكتا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے بھی کیا جاتا ہے یہ پھر جعلی شہرت کے چکر میں انسانیت کے ساری حدوں کو پار کیا جاتا ہے ۔ ۔   یہ ضروری نہیں کہ فیک نیوز صرف کم پڑے لکھے یا سادہ لوگوں کو زیادہ متاثر کرتی ہو بعض دفعہ یہ اتنی طاقتوار ہوجاتی ہے کہ معاشرے کے معزز اور بہت پڑھے لکھے لوگ بھی اس پر یقین کر لیتے ہے جسے کی گزشتہ دنوں میں ایک خبر پھیلی تھی کہ چینی صدر مسجد میں چلا گیا اور نمازیوں سے کرونا وائرس کے ختم ہونے کی دعا کی اپیل کی ، اور سپین میں 500 سال سے مساجد پر اذان دینے سے پابندی ہٹائی گی اور پھر امریکا کے صدر ٹرمپ بھی دم کروا رہے ہیں۔ اس بات  کا پاکستان کے عظیم سائنس دان جناب عبدالقدیر خان نے 6 اپریل 2020 کے جنگ اخبار میں اپنے آرٹیکل سحر ہونے تک میں باقاعدہ ذکر کیا ہے ۔
ٹرمپ کے حوالے سے ایک اور خبر وائرل ہوئی کہ وه پارلیمنٹ میں قرآن کریم کی تلاوت کروا رہے ہیں کرونا سے ڈر کر اور چند تصویر بھی وائرل ہوئے تھی جبکہ یہ تصویر  ٢٠١٧ کی ہے مئی کے پہلے جمعرات کو قومی دعا کے دن کو مانے کا اعلان کیا تھا اور وہاں موجود لوگوں سے کہاں تھا کی وه  ان کے اور قوم کے لیا دعا کرے ۔ ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پہ گردش کرتی بہت سی خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں جیسے کی مرغی کھانے سے کرونا وائرس پھیلتا ہے تو پیاز میں کرونا کا علاج ہے آج کل وبا کے دنوں بے شمار اسی بے بنیاد خبریں آرہی ہے اور لوگ تصدیق کیے بغیر آگے شیر کرتے ہوئے بلکل لا پرواہ ہوتے ہے گورنر پنجاب کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ خبر وائرل ہوئے کی انھوں نے علان کیا ہے کی عید کے بعد پورے ملک میں چار ہفتوں کے لئے مکمل لاک داؤن ہوگا بعد میں خود گورنر پنجاب نے اس خبر کو جھوٹی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ٹیوٹ کیا کہ یہ خبر کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔ اور اسی طرح سوشل میڈیا پر سڑک پر پڑے نوٹوں کی تصاویر وائرل ہوئی اٹلی کے امیر لوگوں نے اپنے پیسے سڑکوں پہ پھینک دئے کہ اگر وبا کے دن یہ ہمارے کام نہ آئیں تو ان کا ہم کیا کریں اور جو انسانیت کے دعودار بنتے ہے انکو عقل آگئی کی پیسے کی زندگی میں کوئی قیمت نہیں حلانکہ یہ  جنوبی امریکا کے ساحل کے کنارے ایک ملک وینرویلا کی 2018 کی تصویر ہے وہاں کرنسی کی قیمت بہت کم ہے اتنی کم کہ ہمارے 100 روپے انکے 50000 بنتے ہے وہاں شدید  معاشی بحران رہا ہے جس کی وجہ سے اکثر عوام سڑکوں پر سوتی ہے اسی وجہ سے 2018 میں نوٹ تبدیل ہونے کی وجہ سے پرانے نوٹ سڑکوں پہ پھینک دیے ایک نجی چینل کے مطابق عوام نے احتجاج کے طور پھینک دیے تاکہ حکومت کو بتا سکیں کہ انکی کوئی قدر نہیں ۔
عموما ایسی خبریں سوشل میڈیا پر غیر  تصدیق شدہ اکاؤنٹ اور یو ٹیوب چینلز اپنی ویور شپ بڑھنے کے لیے ایسی جعلی اور بے بنیاد خبروں کا سہارا لیتے ہیں اور خبر کو خوا مخوا سنسنی خیز بنا کے پیش کرتے ہے نہ صرف یہ بلکہ ہم خود اپنی روز مرہ کی زندگی اور پھر سوشل میڈیا میں خبروں کو بغیر سوچ بچار کے شئیر کر لیتے ہے جن کے نتائج کا نہ تو ہمیں علم ہوتا ہے اور نہ ہمیں پرواہ ہوتی ہے _ کیوں کہ انسان کو کسی چیز کا شاید تب تک احساس  نہیں ہوتا جب تک خود اس کے سر پہ نہ آئے جسے کہ کرونا وائرس شروع میں جب چین میں آیا تو یہاں سوشل میڈیا اور مذاق چل رہا تھا طرح طرح کے طنزومزاح سے بھری ویڈیو سامنے آرہی تھی ڈر اور خوف تو تب پھیلا جب یہ وائرس خود ہمارے ملک میں آیا تب جا کہ ہم نے اسے سنجیدہ لینا شروع کیا۔  افسوس تو تب ہوتا ہے جب ہم کسی کرونا مریض کا پورا بائیو ڈیٹا پبلک ہوا دیکھتے ہے اور ہم پھر اسے شئیر بھی کرتے ہے یہ نہیں سوچتے کہ اس سے کسی کے دل پہ کیا بیتی ہوگی کسی کا عزت نفس خراب کرتے ہوئے ذرا عقل نہیں آتی نیوز بریک کرنے کے چکر میں ہم اکثر انسانیت کو بھلا دیتے ہے ۔ جسے کی آج کل چند لوگ یہ کہتے پھر رہے ہے کورونا کچھ نہیں ہے اگر ہے تو پھر دکھاؤ کہاں ہے کورونا اور کچھ لوگ یہ کہتے ہے کی یہ محض پیسے کھانے کا بہانہ ہے ہم بعض اوقات اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اگر واٹس ایپ فیس بک کسی بھی سوشل اکاؤنٹ میں کوئی خبر نظر آئے ہم بغیر تحقیق کیے خبر کی تہ تک جانچ پڑتال کیے بنا یہ جاننے کہ آیا یہ خبر صحیح بھی ہے یا نہیں ہم جلد بازی میں آگے شیر کرتے ہے اور اسی طرح سے یہ سلسلہ آگے چلا جاتا ہے اور لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہے ۔یہاں ضرورت اس امر کی ہے کی ہمیں کوئی بھی خبر موصول ہوتی ہے اس کی  تصدیق کی جائے بغیر تصدیق کے خبر کو آگے نہیں پھیلانا چاہیے۔  اور والدین کو بھی چاہیے کی وه اپنے بچوں کو اس بات سے با خبر رکھے۔  تاکہ مثبت انداز میں سب کی اصلاح ہو اور لوگ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں خبر کی تصدیق کیے بغیر آگے شئیر نہ کریں کیوں کہ اسے معاشرے میں بہت سی برائی پیدا ہوتی ہے اور سماجی مسائل پیدا ہو سکتے ہے۔  اسی سلسلہ میں بہت سی شارٹ ڈاکمینٹریز بھی موجود ہیں کہ کیسے ایک جعلی خبر معاشرے میں امن و استحکام خراب کر سکتی ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کی کوئی بھی خبر ہم تک پہچنتی ہے تو بنا تحقیق کیے آگے نہیں شئیر کرنا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *