لوٹ کر آؤں گا۔۔محمد افضل حیدر

وہ اس وقت ڈیوٹی پر موجود شخص کے سامنے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا تھا۔
اس کے لہجے میں چھپی بے بسی اور التجا کو اس بوڑھے خاکروب نے بھانپ لیا اور کچھ ہی دیر میں خلاف قانونی  کاغذ قلم لا کر اس کے حوالے کر دیا۔
اس نے اپنے سیل میں لگے مدھم سے بلب کی روشنی میں رات کے پچھلے پہر سنتری سے آنکھ بچا کر لکھنا شروع کیا۔
پیاری نازی!آداب
پانچ سال چھ مہینے اور دس دن۔کتنا مشکل ہوتا ہے نا کسی اپنے کے بغیر اتنے دن کاٹنا۔مگر میں نے نہ  چاہتے ہوئے بھی تمہارے بغیر انتظار کی تپتی ریت پر لوٹتے ہوئے یہ دن گزارے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میرا سامان گاڑی میں رکھا جا رہا تھا تو تم اپنے گھر کے ٹیرس پر کھڑی کسی گم سم پنچھی کی مانند پنجرے میں بند ہونے سے پہلے کی کیفیت اپنے چہرے اور آنکھوں پر طاری کیے میرے گھر سے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی۔
تم مجھے روکنا چاہتی تو روک بھی سکتی تھیں ۔تیری قسم میں رک بھی جاتا۔تمہیں پتہ ہے میری جان!میں نے آج تک تیری کسی بات کو نہیں ٹالا۔تمہیں یہ بھی یاد ہوگا تم نے مجھے اپنی قسم دے کر سگریٹ پینے سے روکا تھا۔ اس دن سے لیکر آج تک سگریٹ کو گناہ سمجھ کر اس سے دور بھاگتا آیا ہوں۔جب کبھی من کرتا تھا۔تم ایک دم سامنے آتی تھیں  اور مجھے اپنے عنبر فشاں ہاتھوں کی روشن انگلی سے” نہ” کے اشارے سے منع کردیتی تھیں، کبھی ضد کروں تو کان تک مروڑ دیتی تھیں۔

ہاں! تو نازی بات ہو رہی تھی اس دن میری روانگی کی۔ تم کتنی چپ چاپ تھیں ناں! اس دن ایسے لگتا تھا جیسے تم سے کوئی  ظالم تیرا سب کچھ چھین کر لے جا رہا ہو۔
تم نے دل پر منوں بھاری پتھر رکھ کر مجھے دیار غیر جانے کی اجازت دی تھی۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں میری جان! کہ تمہارے لئے یہ فیصلہ بالکل بھی آسان نہ  تھا۔ تم اس دن میری فون کال پر کتنا روئی  تھیں ، جب میں نے کہا تھا آج میں نے تم سے بہت دور چلے جانا ہے۔ تمہاری ہچکی بندھ گئی  تھی۔میں نے کئی  بار فون پر  نازی نازی پکارا، تو تب جا کر تمہارے منہ سے درد میں ڈوبی ہوئی  سسکی نکلی تھی۔روتے روتے بڑی مشکل سے تم صرف یہی بات کہہ پائی  تھیں ، واپس کب آؤ گے؟۔۔اس وقت تیری تسلی کے لئے میں نے یہ رسمی سا جواب دے دیا کہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد میری جان بہت جلد۔مگر میں   تیرے ساتھ کیا بہت جلد کا وعدہ نبھا نہ پایا۔
گھر کے حالات کو تم سے بڑھ کر اور کون جانتا ہے۔ پہلے دو تین سال تو میرے ویزے کے لیے اٹھنے والے اخراجات اور اس ضمن میں اٹھائے جانے والے قرض کو ادا کرنے میں لگ گئے۔پھر ابا کی بیماری کے لئے ہر ماہ بھیجی جانے والی رقم کا حساب بے حد مشکل ہے۔

کتنا بد نصیب ہوں ناں!کاغذ کے چند ٹکڑوں کو اکٹھا کرنے کی خاطر زندگی سے بھی قیمتی رشتوں کو جیتے جاگتے کھو دیا۔ابا کو میرے باہر سے بھیجے گئے پیسے بھی نہ بچا پائے۔میں یہاں دیار غیر میں ماہی بے آب کی طرح تڑپتا رہا اور ابا منوں مٹی تلے دب کر ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔اب تو آواز بھی دوں تو نہیں سنتے۔کتنا مشکل ہے ناں! پردیس میں بیٹھ کر باپ کے مرنے کی خبر سننا اور مزید ستم یہ کہ اس کی میت کو کاندھا بھی نہ دے پانا۔یہ دنیا بہت ظالم ہے میری جان! بہت ظالم! ہم سے وہ کچھ کروا دیتی ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔

اب کبھی سوچتا ہوں کہ میں کتنا بد بخت ,خود غرض اور کمینہ ہوں جو باپ کے جنازے میں شرکت نہ کر سکا تو خدا کی قسم اپنے وجود سے گھن آنے لگتی ہے۔ اپنی نظروں سے گرنے لگ جاتا ہوں۔خود کو ایک منافق بونا تصور کرتا ہوں جس کی کوئی  ہئیت نہیں، جو روح سے خالی ایک بے جان پتلا ہے۔ پہلے پہل ابا خواب میں آتے تھے تو اس وقت ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا تھا ،پھر پوری رات کوشش کے باوجود سو نہیں پاتا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے وہ مجھ سے شکوہ کرنے آئے ہوں کہ واہ رے بیٹا! تجھے کاندھوں پر سوار کرکے بڑا کیا اور جب تیری باری آئی  تو نے کاندھا دینے سے ہی انکار کر دیا۔میرے اوپر یہ والا وقت زندگی اور موت کی کوئی  درمیانی سی کیفیت لے کر طاری ہوتا تھا۔ میں دھاڑے مار کر روتا تھا اور اپنے منہ پر طمانچے مارتا تھا۔دیار غیر میں اپنوں سے بہت دور دس بائی  بارہ کے چھوٹے سے کمرے میں اکیلی روح پر جب یہ کیفیت طاری ہوتی ہوگی تو یہ گمان کرنا مشکل ہے کہ وہ زندگی کا کتنا بد ترین لمحہ ہوتا ہوگا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس درد کی ٹیس تو کم ہوتی رہی مگر اپنوں سے دوری کا احساس جسم پر ناسور کی صورت روز افزوں بڑھتا رہا۔آج یہ ناسور جگہ جگہ سے رس رہا ہے۔ میری حالت ایک بڑے خواب کے تعاقب میں گھر سے نکلنے والے اس نا ہنجار شخص کی سی ہے جو منزل کی تلاش میں اتنا دور نکل گیا کہ نہ منزل مل پائی  اور نہ  واپس گھر لوٹ آنے کا رستہ۔۔میرے جیسے سفید پوش لوگوں کے خواب,خواب نہیں سراب ہوتے ہیں۔جتنا مرضی دوڑ لیں ان کے پیچھے کم بخت ہاتھ آنے کے بجائے اور دور ہوتے جاتے ہیں۔مجھے پتہ ہے گاؤں کے لوگ میرے حوالے سے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ میں باہر جاکر بدل گیا ہوں۔ میں نے اپنے مرحوم باپ کے جنازے کو کاندھا نہیں دیا,بوڑھی اور بیمار ماں کی خبر گیری نہیں کرتا,غربت کے گندے پانی کو گھر کی نشیبی دہلیز سے باہر دھکیلنے کی ناکام کوشش میں ہلکان ہوتے اپنے چھوٹے بھائی  کو باہر سے ریال نہیں بھیجتا۔۔ان سب کے نزدیک میں گنہگار اور بدترین شخص ہوں جس نے خونی رشتوں کے ساتھ دغا کی، انہیں پامال کیا۔
میرے نزدیک وہ لوگ کسی حد تک ٹھیک کہتے ہیں۔

میں اوپر بیان کئے گئے تمام واقعات کا ذمہ دار نصیب کے بجائے خود کو ہی قرار دوں تو بہتر ہے۔ نصیب تو ایک بے ضرر اور بے جان سی چیز ہے جس کو کسی نے نہیں دیکھ رکھا۔ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ تیرا بھی مجرم ہوں,مجھے کہیں سے پتہ چلا ہے تم نے ابھی تک شادی نہیں کی۔تم نے باقی گھر والوں کے ساتھ گاؤں چھوڑ دیا۔پتہ چلا ہے شہر کے ایک اچھے سکول میں ٹیچر لگ  گئی  ہو,جس پر مجھے بے حد فخر ہے,تم جیسی لڑکی اسی طرح کے بہتر مستقبل کا استحقاق رکھتی ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں تم ابھی بھی جفا کے روگ سے دم توڑتے رشتوں کی خاک سے وفا کی چنگاریاں ڈھونڈ رہی ہو,میرے لئے یہ بات حیران کن ہے اور طمانیت بخش بھی۔طمانیت اس لیے کہ جس کو پوری دنیا نے اپنے گھر والوں نے جھوٹا اور دغا باز تسلیم کر لیا اس کو تم ابھی بھی آخری موقع دے رہی ہو۔

آج اتنے سالوں بعد اچانک تمہیں یاد کرکے اپنے دل کو چیر کر سامنے رکھنا آسان نہیں تھا، میری جان! بہت ہمت کرکے آج یہ سب کچھ تمہارے سامنے بیان کر رہا ہوں۔کیونکہ میری زندگی کے ساتھ جڑے چند لوگوں میں تم سب سے خاص ہو۔ تم مجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہو۔ یہ بھی جانتی ہو میں سب کچھ ہو سکتا ہوں جھوٹا,خود غرض اور بے وفا ہرگز نہیں۔ یہ باتیں لکھ رہا ہوں تو طبیعت میں ندامت اور خود فریبی کا احساس بار بار آکر کان پکڑ لیتا ہے۔ مجھے میرا ضمیر لعنت  ملامت  کر رہا ہے کہ آج اتنے سالوں بعد زمین میں دبے نام نہاد رشتوں کے تابوت سے گرد جھاڑ کر اس تابوت سے لپٹ کر روتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی کم بخت۔۔

خیر میں اس کا فیصلہ بھی تم پر چھوڑتا ہوں,اگر تم نے میرے ماضی کی زہریلی ناگن سے میرے ڈسے جانے کی تکلیف اور درد کی شدت کو محسوس کر لیا تو میں آسانی سے مر پاؤں گا نہیں تو یہ زندگی میری سب سے بڑی سزا بن جائے گی۔

14جولائی  2014 کو گھر سے یہاں آنے کے بعد مجھے ساتھ لانے والے آدمی نے ایسے آنکھ پھیر لی، جیسے قسمت اور حالات پھیرتے ہیں۔جس ویزے پر میں یہاں عرب آیا تھا وہ میرے نصیب کی طرح جعلی نکلا۔اس آدمی کو تلاش کرنے کے بجائے میں نے کام کو تلاش کیا۔بغیر مکمل ویزے اور کفیل کے یہاں کام تلاش کرنا یہاں کی پتھریلی زمین سے پانی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔اس ضمن میں ایک دو مہینے خاک کئے۔خیر ایک جاننے والے کی وساطت سے ایک عربی کے ہاں ڈرائیوری کی نوکری مل گئی ۔اس کے بچوں کو سکول چھوڑنے اور واپس گھر لانے کے علاوہ کچھ خاص کام نہیں تھا۔ ڈیڑھ برس اس کے ہاں گزارے,ایک دن ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے سکول لیٹ پہنچنے پر اس نے کام سے نکال دیا۔ تین مہینے مزید فراغت میں گزارے,نوبت جب فاقوں تک پہنچی تو گاؤں میں چودھری کہلوانے والوں کا بیٹا وہاں کی بلدیہ میں ٹھیک اسی کام پر معمور ہوگیا جو کہ ہمارے ہاں کے چوہڑے کرتے ہیں۔گھر والوں سے مسلسل جھوٹ بولا کہ میں وہاں پر آفس کی نوکری کرتا ہوں۔اس نوکری کا بھرم رکھنے کے لئے اس نوکری کے تناسب سے گھر پیسے بھیجنا بھی ضروری تھا۔اس لئے صبح بلدیہ اور رات کو بڑے بڑے ٹرکوں سے سیمنٹ کی بوریاں اپنے کندھوں پر اٹھا کر نیچے اتارنا معمول بنا لیا۔

ابا اللہ کو پیارے ہوئے تو واپس لوٹ آنے کو بہت من چاہا لیکن میری کم مائیگی نے مجھے ہمیشہ کے لئے میرے ضمیر کا مجرم ٹھہرا دیا۔لاکھ کوشش کے باوجود میں اپنے ٹکٹ کے پیسے بھی جمع نہ  کر پایا۔گزشتہ برس ایک مصری نوجوان سے جھگڑا ہوا جو کہ مجھ پر میرے نصیب کا سب سے کاری وار ثابت ہوا۔اس نے اپنی کمیونٹی کے چند لڑکوں کے ساتھ مل کر مجھے منشیات کے جعلی مقدمے میں پھنسا دیا۔تمہیں یہ سن کر شدید زک پہنچے گی کہ میں پچھلے ڈیڑھ برس سے وہاں کی جیل میں قید ہوں اور خود پر سائے کی طرح منڈلاتی موت کی سزا کے احساس میں پل پل سسک رہا ہوں۔

میں وہ بد نصیب ہوں جس نے اب تک کی اس زندگی میں وہ دکھ بھی جھیلے ہیں جو مجھ پر واجب بھی نا تھے۔کہیں سے پتہ چلا ہے امی بہت بیمار ہیں۔مجھے اچھی طرح اندازہ ہے ان کو میری جدائی  کا غم اندر ہی اندر کھا رہا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ برس سے میرا گھر کوئی  رابطہ نہیں ہے۔میں نے یہاں اپنے جاننے والوں کو بھی منع کر رکھا کہ وہ میرے گھر کچھ نہ  بتائیں۔ میں نہیں چاہتا امی یہ خبر سن کر ابو کی طرح مجھے پچھتاوے کا ایک اور عذاب دے جائیں۔میں اب اپنے کاندھوں کے بغیر اپنے پیاروں کا کوئی  جنازہ نہیں اٹھنے دوں گا۔
میں کسی اپنے کو گلے لگا کر خوب رونا چاہتا ہوں نازیہ!

میرے اندر غم ضبط کے بند توڑنے کو بے تاب ہیں۔ میں بے گناہی کی یہ گمنام موت ہرگز نہیں مرنا چاہتا۔ میں اپنوں کے درمیان آکر کھلی فضا میں چند سانسیں لینا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے تم مجھ بد نصیب کے لئے دعا کرو گی۔ زندہ رہا تو لوٹ کر ضرور آؤں گا۔
ایک بدنصیب قیدی!

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *