قیں قیں کرتی میں ہوں بطخ۔۔ثنا اللہ خان احسن

بے شک یہ کسی محلے گلی کے, کسی ایک گھر میں پلی ہوئی ہوں، لیکن یہ صبح شام تقریباً ایک میل کے دائرے میں اپنے علاقے کا لمبا ٹور لگاتی ہیں۔ جس گھر سے کچھ کھانے پینے کو ملتا ہے اس کے باہر جمع ہو کر اجتماعی طور پر قیں قیں کر کے شور مچاتی ہیں کہ لو باجی ہم آگئے۔ بہت اچھی چوکیدار ہوتی ہیں۔اجنبی کو دیکھ کر گردن نیچی لمبی کرکے چونچ کھول کے اس طرح حملہ آور ہوتی ہیں کہ بھاگتے ہی بن پڑتی ہے۔ بہت برا کاٹتی ہیں۔ ان کا ایک انڈا مرغی کے چار انڈوں برابر آملیٹ بناتا ہے۔

یہ پانی میں بھیگی روٹی کے بڑے ٹکڑے بہت شوق سے کھاتی ہیں۔ سلانٹی اور پاپکورن میں اپنا حصہ لگانے فوراًآجاتی ہیں۔ بلا کی پیٹو، بعض اوقات پلاسٹک کی اشیاء  بھی کھا جاتی ہیں۔ ان کا گوشت مزیدار ہوتا ہے لیکن صرف روسٹ یا بروسٹ شدہ۔ اگر ان کو ٹرکی کی طرح سالم روسٹ کیا جائے تو مزیدار ہوتی ہیں۔
لیکن سب سے پیاری چیز ان کے چوزے ہوتے ہیں۔ ڈکلنگز سے زیادہ کیوٹ میں نے کسی پرندے کے بچے نہیں دیکھے۔
حیات الحیوان میں لکھا ہے کہ
“بطخ کا گوشت کھانے سے گردے مضبوط ہو تے ہیں ۔بطخ ایک مشہور پرندہ ہے ،جسے عوام گھروں میں پالتے ہیں۔چھوٹی بڑی دونوں قسمیں عموماً گھروں میں پائی جاتی ہیں ، ایک قسم جنگلی بھی ہو تی ہے . دریاؤں اور نہروں میں ملنے والی مگھ اور مرغابی بھی اسی قسم میں داخل سمجھتے ہیں،چھوٹی  قسم کو عوام چینا برگ اور فارسی میں بطہ اہلی اور بڑی قسم کو اوز بو لتے ہیں، بین الاقوامی دنیا میں چھوٹی اور بڑی سفید اور سفیدی سیاہی ملے جلے رنگوں کی ہوتی ہے ،اس کا انڈا مرغی سے بڑا ہوتا ہے ،قدرت نے اس کے گوشت میں بساندہ ایسی پیدا کردی ہے جو گردہ کے بساندہ سے مشابہ ہوتی ہے . ماضی کے سائنسدانوں اور طبیبوں نے اس کے گو شت خاص کر بازؤں کے گوشت کو گردوں کو طاقت دینے والا ثا بت کیا۔امام فن بو علی سینا نے کہا۔۔ اس کا گو شت اڑنے والے پرندوں میں سوائے کبوتر کے بچے کے زیادہ گر می پیدا کر نے والا ہوتا ہے ، گو شت کی بودو ر کر نے کے لئے اسے زمین کھود کر گھنٹہ دو گھنٹے مٹی میں دبا دینے اور گرم مصالحہ ملا کر کھانے کے قابل ہو جاتا ہے، مشہور ہے کہ بطخ انڈے زیادہ دیتی ہے ۔ اس کے انڈے اور گو شت کثرت سے کھا کر اپنے بدن میں گر می اور طاقت پید ا کی جا سکتی ہے،اس میں پٹھے (اعصاب)کم ہو نے کی وجہ سے اس کا گوشت جلد گل اور معدہ اسے دو تین گھنٹے میں ہضم کر لیتا ہے،اس کے گوشت میں لحمی اجزاء پندرہ فیصد تک ملتا ہے،اور ایک پاؤ گوشت روسٹ کیا ہوا ہمیں قریبا ًچار سو حرارے دے دیتا ہے .آیو ڈین ،فاسفورس اور معدنی نمکیات اس میں زیادہ ہو تے ہیں ،گوشت سفید اور جلد ہضم ہو جانے والاہوتا ہے .اس کا گوشت کھانے سے بدن سے ریاح زیادہ خارج ہوتی ہے .اور پیشاب کے ذریعہ جگر ، گردوں اور مثانہ کے زہریلے فضلات خارج ہو کر بدن ہلکا ہو جاتا ہے ۔ اس کے جگر کا گو شت کھانے سے دل کی دھڑکن کوخدا کے فضل سے صحت ہو تی ہے ۔ اس کا گوشت پیس کر نمک چھڑک کر بوا سیری مسوں پر اس کی ٹکیہ باندھنے سے مسے مر جھانے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس کے بکثرت استعمال سے مضبوط اور سردی کے مقابلے کی طاقت بڑھ جاتی ہے اسکی چربی سخت قسم کے غدودں اوررسولیوں پر لگاتے رہنے سے گھٹیا نرم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور کچھ عرصہ لگاتے رہنے سےخدا کے فضل سے گھل مل جاتی ہیں ۔خنا زیر اور سیاہ دھبوں پر پگھلی ہوئی چربی لگانے سے صحت ہو جاتی ہے ۔اعصابی تناؤ اور دردمیں ایک ایک تو لہ بطخ کی چربی اور دیشی شہد کا موم پانچ تو لے میٹھا تیل گرم کر کے اس میں چربی اور موم پگھلا کر آگ سے اتارکر رکھ لیں یہ تیار قیروتی چند روز مالش کر نے سےاعصابی ایٹھن اور درد ذائل ہو جاتا ہے ۔دوسرے پرندوں کے مقابلے میں اس کی چربی بدن کے داغ دھبے گھٹیا اور اعصابی کھنچاؤ دور کر نے میں زیادہ تیز اثر رکھتی ہے ۔ جب مقعد (پا خانہ کی جگہ) پھٹ جانے یا ورم کر جائے یا کونتھنے سے باہر نکل کر پریشانی کا باعث ہو تو اس کے بھیجے (مغز)چند مرتبہ وہاں لگانے سے بیٹھک کی جگہ کا ورم اور پھٹنا خدا کے فضل سے دور ہو جاتا ہے ۔اس کے آدھ چھٹا نک مغز (دماغ) میں آدھا تو لہ باقلہ پیس کر ملا کر اس مرحم کو سینے کے ورم اور بدن کے کسی بھی حصے میں درد ہو تو وہاں چند روز ملنے سے افاقہ ہو جاتا ہے جب یکا یک دل دھڑکنے لگے تو اس کا لگانا فوری تسکین کی صورت پیدا کر دیتا ہے اس کے مغز ایک تو لہ کو نیم گرم دودھ میں ملا کر میٹھا کر کے پانی سے چند روز میں خشک کھانسی ،نزلہ ، دماغی کمزوری اور آنتوں کی خراش رفع ہو جاتی ہے اس کے انڈے میں پروٹین تیرہ فیصد ہو تے ہیں ۔اور غریبوں کو مرغی کے انڈے کا کام دیتا ہے جب پیچش پرانی ہو جائے اور آرام نہ آئے تو روز آنہ چند روز کہربا پیس کر دو تین ماشہ اسکے فرائی انڈ ے میں ملا کر صبح بطور ناشتہ دودھ یا دہی کی لسی کے ساتھ کھانے سے قئے ہو جاتی ہے ۔ بعض بچے دیر سے باتیں کرتے اور گھر بھر کے لوگوں کی پر یشانی کا باعث ہو تے ہیں ۔قدرت نے اس معمولی جانور کے انڈوں میں بچوں کو جلدی باتیں کر نے کی خاصیت عطا کی ہے ۔عمر کے لحاظ سے ایک سے تین ماشے تک (تلی) کی بیج پیس کر اس کے ایک انڈے کی زردی کو زیتون کے روغن میں فرائی ( نیم بریاں) کر کے اس پر پسی ہوئی سداف اور کھانے والا نمک لگا کر دو تین ہفتے صبح کھانے سے بچہ بولنے لگے گا اور گھر بھر کی خوشی کا باعث بن جائیگا۔
واللہ اعلم

چاولوں کی زراعت کے لیے فصل کے نچلے حصے کو پانی میں بھگو کر رکھنا ضروری ہے چنانچہ چاول کے کھیت پانی سے بھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس پانی کو صاف رکھنے کے لیے دنیا بھر میں مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ صحت مند فصل حاصل کی جاسکے۔
ایک عام طریقہ کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ ہے لیکن یہ بہرحال صحت کے لیے مضر ہے۔ کئی ممالک میں اس پر پابندی بھی عائد کی جاچکی ہے۔جاپان میں چاولوں کے کھیت میں بطخوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ بطخیں کیڑے مکوڑے اور غیر ضروری جنگلی پودوں کو کھاجاتی ہیں۔
تاہم بطخوں کو رکھنے میں ایک قباحت ہے، بطخیں کچھ عرصے بعد موٹی ہوجاتی ہیں جس کے بعد ان سے چاول کی فصل کو نقصان پہنچنے لگتا ہے چنانچہ ہر سال بطخوں کو بدل دیا جاتا ہے۔
جاپانی کاشت کاروں کا یہ طریقہ کار اب دنیا بھر میں مقبول ہورہا ہے۔ کاشت کار فصلوں کی حفاظت کے لیے کیڑے مار ادویات کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے قدرتی ذرائع کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ صحت مند فصلیں پیدا کی جاسکیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *