دیو مالا(یومِ پدر کے موقع پر)۔۔اقتدار جاوید

باپ کی آنکھ چشمہ ہے جو جاری رہنا ہے
زمزم کے چشمے کی صورت!
باپ سچ۔۔
رات کی سرد بے مہر بے نام بیزار چپ چاپ عمروں کے نادیدہ  زینے سے نیچے اُترتی گھڑی
اور اس کو جیسے پکڑنے جکڑنے کی اک پل ریاضت ،ریاضت کے دوران ہوتے وظائف
سیاه رنگ کی دلق کے بیچ ادھڑی ہوئی ایک ٹکڑی کے مٹ میلے دهاگے کی جنبش کے دوران
وقفوں سے چلتی ہوئی دهونکنی ،دهونکنی کے تسلسل میں
آہستہ آہستہ چلتی ہوئی گوپی چندراولی
سُرسُری دیغ کی تہہ  میں پس خورده ناطقتی اور اک گهونٹ پانی کی خواہش میں
آتے لگاتار آتے ہوئے یاد جیسے فراموش کرده لطائف صحیفے صحائف
گهڑی جس میں کوئی زمانہ  نہ  دن اور دوپہریں
نہ وقتوں کی اک ساتھ بہتی ہوئی تین نہریں
زمانے کی تخصیص سے جیسے عاری زمانہ
زمانے سے عاری گهڑی
باپ سچ وقت پر ثبت کرتا ہوا مُہر
وقت کو سانس میں بند کرتا ہوا
وقت کے پانیوں کی نتهاری ہوئی دهار
دهار کے قطروں کو ایک جاروب سے  کھینچتا  جهاڑتا سوئی سے روشنی جیسی روشن کلائی پہ  کاڑها ہوا مور اور مور کے ناچنے کی گهڑی
شیرِ مادر اترنے کی چندرا گهڑی
باپ سچ
باپ
میں تیرے اونچے معّطر اجالوں کو گهیرے میں لیتے ہوئے صاف شفّاف بگلوں کی ڈاروں بهرے آبشاروں کے نیچے کهڑا
دم بخود
دهار کو دهار سے اون کے گولے کی طرح پیوست ہوتے ہوئے دیکهتا
دم بخود پانی آپس میں جُڑتا
تڑپتا
مقامِ معیّن کی سمتوں کو مُڑ مُڑ کےمڑتا
جہاں خاص رنگت بهری جهیلیں بنتیں
شکارے کناروں کی خوابیده زینت بڑهاتے
فلک پر سیاہ رنگ کی چهتریاں کهُلتی جاتیں
چمکتی ہوئی جهالریں چار بے رنگ کونوں میں تنتیں
پرندے اسی ایک گهیرے میں اڑتے
جہاں پانی رکتا
وہاں سے ہوائیں نکلتیں دوآبے کے جانب
زمانے کے پھیلے خرابے کی جانب
وہاں ایک ہی وقت رہتا— دُهلی صبح کا وقت

مرے باپ کا سانس
بس نام کا سانس
اک عام سا سانس
جیسے گلی کوچوں میں کوئی خوانچہ  فروش اپنا خوانچہ  اٹهاتے ہوئے سانس لیتا ہے۔
چهاتی لرزتی ہے
جیسے سمندر میں طوفانی لہریں ابهرتی ہیں پانی لرزتا ہے
ویسے سمندر کو اندر اٹهائے وه چهاتی لرزتی
وه خوانچے بهری چهاتی۔۔۔
باپ ست رنگا طوطا ہے
جب اپنے بچوں کے غنچوں سے پُر ایک ہڈّی سی مٹھّی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھتا ہے
تو دنیا کے رنگوں سے بالکل الگ،
اس کی آنکھوں سے اک رنگ باہر جھلکتا ہے
جیسے چھلکتا ہے وہ رنگ
دنیا جسے باپ کی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے
وہ آٹھوں رنگ ہوتا ہے۔

باپ مّٹی کا آوا
دهواں جس کا گیلا
گلا جس کا کڑوا
مگر جس کے برتن منّقش مزّین
کریلوں کی بیلیں ،
ستاروں کی نوکیں،
پرندوں کی ست رنگی چونچیں،
گلابوں کی سوغاتیں،
راول رویلیں،
سیاہ  رنگ چڑیوں کے جوڑے
کٹوروں کے انبار
قرآنی الواح
سدیدی کے طغرے
زمانوں کی انواع!

کسی سنت سادهو کی دهونی نہیں باپ کی آگ ہے
باپ خود ایک آوا
وه اپنے کئی بهاری پردوں سے
اک پرده اپنا اٹهاتا ہے
روکے ہوئے سانس،
اندر نگلتا ہوا خشک ہوتا ہوا تهُوک
آہستہ  آہستہ  تکتا ہے آوے کا جلتا بہشتی فلک زار تہہ  دار۔

باپ ۔۔ اک رات کا ثانیہ
کہ  کئی بهاری صدیوں کو گهیرے میں لیتا ہوا ایک گنجلک
کہ  عمروں کا دورانیہ
کہ  فقط رات اک رات کا ثانیہ
جس میں دو لخت
ِاِک ہو کے جڑتے ہیں
پانی ٹھہرتا ہے
آکاش ہلتا ہے
دل آئینے کی طرح صاف ہوتا ہے
پنجّر کا پنجره پهڑکتا ہے
یوں لگتا ہے
جیسے سارا جہاں دل کے اندر دهڑکتا ہے
یوں سانس دُهل دُهل کے باہر نکلتا ہے
جیسے کوئی چشمہ  پیہم اُبلتا ہے
چشمے پہ  پریاں نہاتی ہیں
روشن پروں کو ہلاتی ہیں
شبدار آ کر وضو سارتا ہے
جہاں پر جیا جون جیون کے نذرانے پاتی ہے
درویش جاں ہارتا ہے

باپ’ لالی سیاہ  شام کے چوڑے ماتهے کی لالی
جو دم بهر کو اک خاص خطّے کے اوپر ابهرتی ہے
جیسے اترتی ہوئی دهوپ
چُپ چُپ پہاڑی مکانوں کی ٹیڑهی چهتوں سے کسی تیز رَو واہمے کی طرح
ایک نادید آندهی کی صورت گزرتی ہے
اور ڈهلتے سائے کی طرح
(کوئی جیسے پلکوں کو جهپکے
تو وقت اور اس سے بندهے سارے آثار تک اور ہوں
واہمے اور ہوں
وقت کی ٹیڑھ دائم ہو)
بس اتنی مدّت ٹھہرتی ہے
لالی، لہو رنگ رومال ؟
۔۔ لیکن نہیں
اک انگاروں بهری گرم ہوتی تغاری؟۔۔ نہیں
ایک لاشکل سا  پهول
جو اک دفعہ ۔۔ اور بس اک دفعہ  کِهلتا ہے!

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *