میرے ابا میاں۔۔ محمد صالح

فادرز ڈے والد کا احترام, والد اور اولاد کے درمیان رشتہ اور اور معاشرے میں والد کے اثرو رسوخ کو اجاگر کرنے کے حوالے سے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔
Ms۔۔Sonoro Smart Doddنے فادر ڈے منانے کی بنیاد رکھی اور ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو فادرز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے پہلی بار امریکہ میں میں 19 جون 1920 کو فادرز ڈے منایا گیا۔
اس سال 21 June کو فادرز ڈے پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے میں اپنے والد صاحب سے زیادہ قریب رہی ہوں، اس لیے اس فادرز ڈے کی مناسبت سے اپنے ابا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی زندگی کے کچھ اہم پہلو بیان کروں گی۔
1 نومبر 1927 انڈیا کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم رامپور میں ہی حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ چلے گئے وہاں انہوں نے اپنا گریجویشن مکمل کیا جب ہجرت کر کے انڈیا سے پاکستان آئے تو کراچی یونیورسٹی, آئی بی اے سے HR میں MBA کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب آئی بی اے میں امریکن اور برٹش اساتذہ ہوتے تھے، میرے ابا نے امریکن گورنمنٹ کے ساتھ بھی کام کیا اور 1950s میں واپس پاکستان آ گئے یہاں آکر بینکنگ کے شعبے سے منسلک ہو گئے۔۔ ابا بینکنگ چین آف کمانڈ کے ٹاپ تھری بینکرز میں سے ایک تھے۔۔

ابا بتاتے تھے کے ان کے آباء و اجداد عرب سے ہجرت کرکے انڈیا آئے تھے۔۔ میرے پردادا حافظ محمد اسحاق صاحب عرب کی فوج سپہ سالار تھے۔۔ میرے دادا حافظ محمد Yahya رامپور اسٹیٹ کے نواب تھے ان کی حویلی رام پور شہر کے شہباز دروازے کے پاس ہے جہاں مرزا غالب نے بھی قیام کیا تھا اور میرے دادا نے مرزا غالب کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا آج بھی رامپور کی اس حویلی پر لکھا ہے” یہاں مرزا غالب نے قیام کیا تھا” ۔۔ ابا بتاتے تھے کہ ان کے آباواجداد کا شجرہ ” تذکرہ کاملین رامپور ” نامی کتاب میں موجود ہے۔۔ یہ کتاب بہت ڈھونڈ نے سے بھی مجھے آج تک نہ مل سکی۔۔
میرے ابا ایک نرم دل, ہمدرد, خوش مزاج اور پر مزاح انسان تھے۔۔ ان کا جاندار قہقہہ ان کی شخصیت کی پہچان تھا۔ لوگوں کی بے لوث خدمت کرنا اور ان کے کام آنا ان کا خاصہ تھا۔ جو کہ ان کی ہر اولاد میں آیا ہے۔ میرے چچا مرحوم برگیڈیئر محمد سلیم بتاتے تھے ” بھائی ایک درویش صفت انسان تھے”۔ ایک Top پوزیشن پر ہونے کے باوجود وہ اکثر سائیکل پر سفر کرتے تھے یہاں تک کہ کسی کی شادی پر بھی تھری پیس سوٹ پہن کر سائیکل پر چلے جاتے اور میں غصہ کرتی رہ جاتی لیکن وہ پرواہ نہ کرتے۔۔ کبھی بھی گھر اور آفس کے ملازمین کو کم تر نہ سمجھا۔۔ اپنے ڈرائیور کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے, لوگوں کی مدد ایسے کرتے کہ کسی کو بھی پتہ نہ چلتا مجھے یاد ہے کہ جب انہیں پتہ چلتا کہ کسی کے ساتھ کوئی مالی مسئلہ ہے تو وہ خاموشی سے مدد کرتے اور امی سے کھانا پکوا کر ساتھ لے جاتے اور کہتے کہ آج سب کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کا دل کر رہا تھا تو میں کچھ لے آیا۔۔

امی کو اور ہم سب بہن بھائیوں کو عید کے کپڑے بنانے کے لیے پیسے شعبان کے مہینے میں دے دیا کرتے تھے۔۔ رمضان میں بازار جانا پسند نہیں کرتے تھے۔۔
کہتے تھے کہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے۔۔ عید پر بچوں بڑوں سب کو عیدی دیا کرتے تھے۔۔ میں ان کی واحد لاڈلی تھی جس کو اس کی سالگرہ کے کپڑوں کے لیے بھی پیسے ملا کرتے تھے۔۔ مجھے کبھی شہزادی یا پھر کبھی بٹیا بلاتے تھے۔۔

میرے والد صاحب سے جب یہ پوچھا جاتا کہ آپ کے کون سے بچے میں آپ کی عادات آئی ہیں تو کہتے کہ ایک میرا بڑا بیٹا محمد عالمگیر (میرے بڑے بھائی جو کی امریکہ میں مقیم ہیں) اور میری سب سے چھوٹی بیٹی درخشاں ( یعنی میں) نے میری  عادتیں لی ہیں۔۔

ابا کو لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا وہ بتاتے تھے کہ انہیں کہیں سے کوئی wrapper بھی مل جاتا تو وہ اس کو ضرور پڑھتے تھے۔۔ اچھی کتابیں اور شاعری کے بہت شوقین تھے۔۔ بہترین یادداشت کے حامل انسان تھے۔۔ یاداشت کا یہ عالم تھا کہ بے شمار اشعار ازبر تھے جو موقع محل کے حساب سے باتوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔۔ باقاعدگی سے لائبریری جایا کرتے تھے میں ان کے ساتھ جاتی اور بچوں کی کتابیں ساتھ لاتی۔۔ لکھنے پڑھنے کا شوق مجھے ابا سے ہی ملا ہے۔۔

ابا کی خواہش تھی کہ میں ایم بی اے  کرں۔۔ میرے ایم بی اے کے ایک استاد ابا کے شاگرد تھے جب انہیں پتہ چلا کہ میں میاں محمد صالح کی بیٹی ہوں  تو وہ اپنی نشست سے ابا کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔۔ استاد صاحب نے بتایا کے ابا کو اپنے ہر شاگرد کا نام یاد رہتا تھا۔۔

ابا نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد دس سال تک کوئی کام نہیں کیا یہاں تک کہ حبیب گروپ کے حبیب صاحب ابا کو گھر سے لینے آئے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ورلڈ ٹور پر بھی گئے واپس آکر ہمدرد یونیورسٹی میں درس اور تدریس کے پیشے سے منسلک ہو گئے وہاں بھی اپنا ایک نام بنایا،اور بہترین استاد مانے گئے۔

بہت سے لوگوں نے اب اسے کہا آپ اپنی سوانح عمری لکھیے۔۔ وہ کہتے جب بھی فرصت ملے گی تو ضرور لکھوں گا۔۔ مگر زندگی نے ان کو مہلت نہ دی شوگر اور دل کے مریض  تو تھے ہی، کینسر جیسے موذی مرض نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کا پتہ اس وقت چلا کینسر جسم میں 75 فیصد جڑ پکڑ چکا تھا۔ یہ May 2000 کی بات ہے۔۔ جون دوہزار میں ابا کا ایک آپریشن بھی ہوا جس کے تحت ڈاکٹر نے کہا تھا کہ چھ مہینے شاید زندگی کو کچھ مہلت مل جائے۔۔ مگر ایسا نہ ہوا۔۔

بروز جمعرات 10 اگست دو ہزار عصر اور مغرب کے درمیان ابا ہم سب کو تنہا سوگوار چھوڑ کر اس فانی دنیا سے لا فانی دنیا چلے گئے ابا کو رخصت کرنے کے لئے لوگ دور دور سے آئے،زیادہ تعداد ابا کے عقیدت مندوں اور جانے والوں کی تھی ایک ہجوم تھا ابا کا جنازہ تھا بڑی دھوم سے نکلا۔۔ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ نا صرف خاندان بلکہ خاندان سے باہر بھی ابا ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے ۔۔
باپ سلامت رہنا چاہیے !

اگر آپ کے والد صاحب سلامت ہیں تو خدارا ان کے اندر کا ” باپ ” زندہ رکھیے ، یہ ان کا آپ پر حق بھی ہے اور آپکا فرض بھی ہے !!
جزاک اللہ خیر!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *