ڈر ۔۔اُصیب شاہ

بہت چھوٹا اور معمولی نظر آنے والا لفظ” ڈر “جو   صرف دو حروف پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر اسی معمولی سے لفظ کی وضاحت کرپانا بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔
ڈر زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے جسے دنیا میں موجود ہر زندہ چیز اپنے اندر اور اپنے آس پاس محسوس کرتی ہے۔یہاں زندہ چیز سے مراد انسان اور جانور دونوں کو لیا گیا ہے۔ انسانوں کی طرح حیوانات میں بھی ڈر موجود ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر۔۔کسی دوسرے جانور کے ہاتھوں کھائے جانے کا ڈر،اپنا گھر   چِھن جانے کا ڈر،اپنے بچوں کے شکاریوں کے ہاتھوں مر جانے کا ڈر،بھوک سے مر جانے کا ڈر،یہاں تک کہ  جب بھی کوئی جانور کسی دوسرے جاندار پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کے پیچھے دو ہی مقاصد ہوتے ہیں۔
1: یہ کہ بھوک کی وجہ سے اس نے حملہ کیا۔
2: سب سے اہم وجہ جو کہ ہر ایک جانور میں پائی جاتی ہے حملہ کرنے کی وہ یہ ہے اپنا دفاع ہر جانور اس ڈر سے نہ چاہتے ہوئے بھی حملہ آور ہو جاتا ہے (چاہے وہ سامنے والا جاندار  کسی بھی نسل کا اور خود سے جسامت میں 100 سے 1000 گنا ہی کیوں نہ بڑا ہو ) کہ کہیں یہ مجھے نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ڈر ہر جانور میں  یکساں پایا جاتا ہے۔

اب   بات کرتے ہیں انسان کے ڈر کی۔۔ انسان کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو اگر سامنے رکھا جائے تو آپ اس بات کا مشاہدہ کریں گے کہ  ہر پہلو میں سر فہرست آپ کو ڈر ضرور نظر آئے گا۔ یہ انسان جو اپنی بہادری اپنی کامیابیوں کے قصے سناتا پھولے نہیں سماتا ،دراصل اند سے بہت بزدل ہوتا ہے۔ یہاں ہم انسان کے ایسے ہی “ڈر”کے حوالے سے   بات کریں گے۔

ڈر کے دو پہلو ہوتے ہیں ،ایک اچھا،،دوسرا بُرا۔ انسان اگر تو اپنے ڈر سے سیکھنا شروع کر دے تو  اس پر قابو پا لینے کے ساتھ ساتھ کامیابیاں سمیٹنے لگ جاتا ہے۔ اور ناکامیوں کی صورت میں کچھ ایسی غلطیوں کا مرتکب ٹھہرتا ہے جو نہ صرف اسے بلکہ آس پاس کے لوگوں اور ماحول کو بھی نقصان  پہنچانے کا باعث بنتی ہیں ۔

اگر تو ڈر کسی چیز سے  ہو اور حق سچ ہو تو وہ انسان برائی سے اچھائی کی راہ پر آتے ہوئے دیر نہیں لگاتا اور وہ جو اچھے کام   کرتا ہے ان کے نتیجے میں ملنے والا سکون انسان کے ڈر پر غالب آجاتا ہے اور انسان کا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر جب ایک مسلمان رب کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہے کہ  مجھے کل کو اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اگر وہ برے کام کرے گا تو اپنے رب کو کیا منہ دکھائے گا۔یہ سوال ڈر پیدا کرنے کیساتھ ساتھ انسان کو اچھے کاموں کی جانب راغب کردیتا ہے۔

دوسرے پہلو میں ڈر انسان پر غالب آجاتا ہے،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ اُس سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں ۔بے سکونی ،بے چینی حاوی ہوتی ہے،نتیجہ ،زندگی کا خاتمہ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *