• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کا پینڈورابکس کھولنے سے نئے سیاسی انتشار اور عدم استحکام کے در کھل جائیں گے ارشدبٹ

اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کا پینڈورابکس کھولنے سے نئے سیاسی انتشار اور عدم استحکام کے در کھل جائیں گے ارشدبٹ

پاکستان قومی محاذ آزادی کی پالیسی اینڈ پلاننگ کمیٹی کے کنویئنر ارشدبٹ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آئین میں طے شدہ صوبائی اختیارات کو صلب کرنے کے حربے پاکستان کی وفاقی جمہوریت کے لئے زہر قاتل ثابت ہوں گے. انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی نااہلیوں، ناکامیوں اور بدانتظامیوں کو کورونا وائرس کے پھیلاو کو عوام پر ڈال کر اور صوبائی خودمختاری پر حملہ کے پردے میں نہیں چھپایا جاسکتا. انہوں نے کہا ہے کہ قومی محاذ آزادی کے بانی چئیرمین معراج محمد خاں نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کے حقوق اور انکی خودمختاری کے لئے جدوجہد کی. معراج محمد خاں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم صوبائی خودمختاری اور چھوٹے صوبوں کے حقوق کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں گے. ارشدبٹ نے کہا ہے کہ ہم اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں ردوبدل کرکے چھوٹے صوبوں کے حقوق صلب کرنے کی مزاحمت کریں گے. انہوں نے کہا ہے کہ مرکز سے صوبوں اور صوبوں سے بلدیاتی اداروں کو اختیارات کی منتقلی سے وفاق پاکستان اور جمہوریت کو استحکام ملے گا. ارشدبٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو آئین میں طے شدہ مسائل کو چھیڑنے سے پرہیز کرنا چاہئے، اگر یہ پینڈورابکس کھولا گیا تو ملک ایک نئے انتشار اور نہ ختم ہونے والے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *