وحی الہٰی (کتاب اللہ) کی تشریح

وحی الٰہی (کتاب اللہ ) کی تشریح سب سے پہلے وہی کرتا ہے، جسے اس کام کے لئے اللہ تعالٰی منتخب کرتا ہے وہ منتخب شخصیت اپنے آپ میں ایک مکمل اور عیبوں سے پاک ذات ہوتی ہے اور اس فریضہ کے لئے تیار ہوتی ہے. اس ذات کے لئے اس وقت کے حالات اور تقاضوں کے مطابق ایسا بندوبست بھی موجود ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے مختلف امور پر براہ راست یا کسی وساطت سے بہترین اور یکتا کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔ یہ شخصیت اللہ کی طرف سے معمور نبوت کے مقام اور مرتبہ پر فائز ہوتی ہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ شخصیت لوگوں کے درمیان میں موجود نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی کو اپنا جانشین مقرر کرے تو ایسے میں وحی الہٰی کی تشریح کا عملی مظاہرہ کون کرے گا؟
اس کے جواب میں مختلف آرا سامنے آتیں ہیں لیکن ان آرا کی روشنی میں بھی مقرر کی گئی کوئی شخصیت سب کے نزدیک متفقہ قرار نہیں پا سکتی کیونکہ کوئی بھی شخصیت نبی کے علاوہ اپنی ذات کے اندر وہ مرتبہ و مقام اور جامعیت کی حامل نہیں ہوتی. اس کے علاوہ اگر کچھ اصول و ضوابط بھی طے کر لئے جائیں جن کی پیروی کرتے ہوئے تشریح کا عمل پورا کیا جائے تو ایسی صورت میں میں اصول و ضوابط طے کرنے والے بھی تنازعات کی زد میں آجاتے ہیں۔
ایسے حالات میں جب نبی جیسی خوبیوں کی حامل کوئی ایک شخصیت کا ہونا ناممکن ہے تو تشریح کا عملی مظاہرہ کرنے کا ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے. چونکہ اوپر جن خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ اب مختلف شخصیات کا طرہ امتیاز ہوں گی جو ان کی زندگی کی مختلف ذمہ داریوں کی بنا پر معیار ہونگی تو ایسی صورت میں وحی کی رہنمائی کی تشریح کا فریضہ بھی انہی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرکےکیاجائے اور دوسروں کے لئے مثال بھی قائم کی جائے گی.
یہاں پر ایک اور بات قابل غور ہے کہ جب ذمہ داریوں کی نوعیت فرد سے فرد مختلف ہوتی ہے تو ان کو تحریری شکل میں لانے کی اہمیت باقی نہیں رہتی جہاں پر بنیادی اصول موجود ہوں وہاں پر نتائج اہم ہوتے ہیں فرد کے عمل کا تعلق موجود ذرائع اور معافق حالات سے ہوتا ہے. اس بات کو چند مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے ایک حکمران ہے وہ اگر اپنی حکمرانی کی ذمہ داری احسن طریقے سے وحی الہٰی کے بنیادی اصولوں کے مطابق پوری کرتا ہے تو وہ دراصل وحی الہٰی کی عملی تشریح کررہا ہوتا ہے اب اگر اسے اپنے اس دور میں جو حالات درپیش ہیں وہ ضروری نہیں کہ آئندہ آنے والوں کو بھی درپیش ہوں. اسی طرح اگر ایک انجینئر کو کوئی منصوبہ دیا گیا ہو وہی ضروری نہیں کہ دوسرے کو بھی ملے، لیکن بنیادی اصول دونوں کے لئے یکساں ہی ہوتے ہیں جن کووہ اپنی ذمہ داری سمجھ کر عملی تشریح کرتے ہیں. نبی کے بعد وحی الہٰی کی تشریح کا انفرادی تصور ممکنات میں سے نہیں بلکہ جس طرح اللہ تعالٰی قرآن میں عقلمندوں کو مخاطب کرتے ہیں،

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے اختیار بو ل اٹھتے ہیں) “پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے.

يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے اِس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں
غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ ہر انسان اہل فکر نہیں ہوتا اور نہ ہی اللہ تعالٰی ہر کسی کو ایک جیسے مشن کے لئے مخاطب کرتے ہیں لیکن یہ صورت صرف انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے ممکن ہے.
عام انسانوں میں کاملیت کا ہونا ممکن نہیں ہے ۔اس لئے انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد وحی کی تشریح کا فریضہ اجتماعی ہوگا جس میں ہر کوئی اپنی اپنی مہارت کی بنیاد پر صرف مخصوص میدان میں ہی تشریح کا کام سر انجام دے گا.

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے.
التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اُس کے بندگی بجا لانے والے، اُس کی تعریف کے گن گانے والے، اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیؐ ان مومنوں کو خوش خبری دے دو۔
جب ہم کتاب اللہ کو مکمل ضابطہ حیات کہتے ہیں تو اس سے مراد ایک انسان کی حیات نہیں ہوتی، ضابطہ حیات کا تصور اپنے اندر ایک وسیع تصور ہے اور یہ پوری حیاتِ انسانیت کا احاطہ کئے ہوئے ہے لیکن جب ہم اس ضابطہ حیات کو مخصوص انداز کے نظام یا انسانی گروہ کے سماجی انداز زندگی سے منسلک کرتے ہیں تو ہم اسے محدود کر رہے ہوتے ہیں جبکہ ضابطہ حیات زمان و مکان اور گروہِ انسانی سے بلند تصور ہے. اس طرح سے وحی الہٰی کی تشریح ایک مسلسل عمل ہے اس عمل میں ہر زمانے کا انسان اپنے مخصوص دائرے میں اپنے عمل صالح کی بنیاد پر اس تشریح میں حصہ ڈالتا رہے گا. انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کسی فرد سے وحی الہٰی کی تشریح کی توقع کرنا یا کسی فرد کا یہ دعوٰی کرنا بے بنیاد ہے.
فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ
مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑ گئے.

محمدمنشاء طارق
محمدمنشاء طارق
چوہدری محمد منشاء طارق ورک، مقیم ابوظہبی متحدہ عرب امارات. تعلق اسلام آباد پاکستان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *