ریاست اور فرد کے حقوق ۔۔۔ معاذ بن محمود

ریاست کیا ہے؟

ریاست کے ارتقاء کو دیکھا جائے تو اس کی ضرورت عائلی نظام میں ایک خاندان کو دوسرے خاندان کی لوٹ مار سے بچانے کےلیے پیش آئی۔ اگلا مرحلہ کئی خاندانوں پر مرتب قبیلے کو لاحق دوسرے قبیلے کی لوٹ مار سے بچنے کے لیے پیش آنے والی ضرورتتھی۔ یہاں تک معاملہ ممالیوں جیسے بن مانس وغیرہ اور انسانوں میں کامن تھا۔ اس کے بعد جغرافیائی کمیونٹی کی حفاظت کی ضرورتہوئی۔ یہاں سے یہ تصور خالص انسانی ہوجاتا ہے۔

اس کے بعد شکاری معاشرہ زراعت کی طرف جاتا ہے جہاں خرید و فروخت و دیگر پچیدگیوں کا آغاز ہوتا ہے جو بڑھتے بڑھتے ریاستکو جنم دیتی ہیں۔ جغرافیائی کمیونٹی کی رسائی جیسے جیسے بڑھتی رہی اس باہمی کوآرڈینیشن میں پھیلاؤ آتا رہا اور ارتقاء ایک دن جدیدریاست تک پہنچ جاتا ہے۔

اب آغاز میں طاقت یا تجربے کی بنیاد پر چند افراد کو باقی گروہ کی نمائیندگی تفویض کی جاتی جس کا الگ ارتقاء ہے۔ وہ پھر ہوتےہوتے بنیادی اہلیت اور حق نمائیندگی کے طریقوں تک پہنچ جاتا ہے۔ تمام افراد المعروف عوام کا حق نمائیندگی پر اتفاق ایک فرد یاخاندان پر ہوجائے تو یہ آمرانہ طرز حکومت ہے۔ یہی حق اگر اکثریت کے انتخاب پر ہو تو بنیادی جمہوریت کا آغاز ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر ریاست افراد کے یکساں حقوق کی محافظ ہوتی ہے جس کے لیے وہ عوام کے چند فرائض کا تعین کرتی ہے۔ ریاستینمائیندگان اصولوں کا سیٹ مرتب کرتے ہیں جس کے تحت یہ حقوق و فرائض طے ہوتے ہیں اور ان سے روگردانی کی سزائیں طےہوتی ہیں۔ اس اصولوں کے مجموعے کو آئین کہا جاتا ہے۔ آئین پر عمل درآمد کے لیے دوم اپنے نمائیندوں کو طاقت کے استعمال کاحق دیتی ہیں۔ رومی نمائیندگان، ان کا حق طاقت اور آئین مل کر دراصل جدید ریاست کے عمومی معنوں میں آتے ہیں۔

یہ تو ہوگئی فرد، عوام، آئین اور ریاست کا بنیادی سا خاکہ۔ عین ممکن ہے میرا کہا لٹریری معیار کا نہ ہو بہرحال ایک عام آدمی کیزبان میں یہی بنیادی خاکہ ہے جو میرے نزدیک پہلے سوال کا جواب ہے۔


آگے چلتے ہیں دوسرے سوال پر۔

ریاست اور فرد کا رشتہ کس بنیاد پر ہے؟

ریاست خود سے پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی ضرورت پیدا ہی فرد کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایک مسئلے کا حل ہے۔ مسئلہ کیاہے؟ مسئلہ ہے فرد کے حقوق۔ حقوق کا مآخذ کیا ہے؟ اسے امریکی آئین بہترین انداز میں ڈیفائن کرتا ہے۔۔

Protection of Life, Liberty and Pursuit of Happiness.

زندہ رہنا، آزاد رہنا اور خوشیوں کا حصول ایک انسان کی بنیادی ضرورت اور متفقہ بنیادی ترین حقوق ہیں۔ ریاست کا بنیادی ترینمقصد ان حقوق پر منڈلاتے کسی بھی خطرے سے تحفظ کی یقین دہانی ہے۔ آپ پونے چار ارب صفحات پر مبنی دستاویز لکھ ڈالیں،یہ تین حقوق کا تحفظ نہیں تو ریاست کچھ بھی نہیں۔ ریاست نامی شے کا ہر وہ عمل جس کی بنیاد فرد کے یہ تین حقوق ہوں جائز ہے۔جس لمحے ریاست کوئی ایسا عمل سرانجام دیتی ہے جس سے فرد کے ان حقوق پر آنچ آتی ہو، ریاست اپنے نظریاتی وجود کی دلیلکھو بیٹھتی ہے۔ اس کے آگے اس کے پیچھے جو کہانیاں گھڑنی ہوں گھڑ سکتے ہیں، اس کے بغیر ریاست کا تصور صفر ہے۔ افراد کامتعین شدہ ہر وہ فرض جو مجموعی طور پر عوام کے ان تین حقوق کی فراہمی کے لیے ہو جائز ہے۔ افراد کے لیے متعین شدہ ہر ایسافرض جس سے مجموعی طور پر ان حقوق کی یقین دہانی ڈسٹرب نہیں ہوتی، ذیلی ہے، قابل بحث ہے اور اس پر بحث یا بات ضرور ہوسکتی ہے۔ ریاست کا کوئی بھی ایسا عمل جو افراد کے یہ حق چھین لے، باطل ہے اور خود ریاست کی اپنی تعریف و تشریح کےخلاف ہے۔

پس ایک ایسا گروہ جو کسی بھی وجہ سے حاصل کردہ طاقت کا استعمال افراد کے ان حقوق کے خلاف استعمال کرے، کم اس کمریاست یا ریاست کا نمائیندہ کہلائے جانے کا حق کھو دیتا ہے۔

میرے نزدیک یہ فرد اور ریاست کا رشتہ ہے۔

اب ایک آخری سوال یہ کہ فرد خداوند کریم کی تخلیق ہے جسے پیدا ہونے پر خود کوئی قدرت حاصل نہیں۔ ایسے میں فرد اپنے والدینکی زمین پر پیدا ہوکر ریاست سے اپنا رشتہ توڑ سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں اگر ہاں تو کیسے؟

یہاں معاملہ دراصل زمین کی ملکیت کے حق کا ہے۔ ہم اس ضمن میں ریاست کے حق میں سخت ترین کیس فرض کر لیتے ہیں۔ ہمفرض کر لیتے ہیں کہ زمین ریاست کی ملکیت ہے اور اس کی رسائی اور استعمال کا حق ریاست کو تفویض کردہ حقوق کے تحتریاست کو دیا گیا ہے۔ پھر ریاست کا استحقاق ہے کہ وہ فرد کو اس کے استعمال کی اجازت دے۔

یاد رہے، فرد اپنی مرضی سے دنیا میں نہیں آتا البتہ ریاست کو حقوق اس معاہدے کے تحت ملتے ہیں جن کی بنیادی شرط فرد کےحقوق ہیں ناکہ ریاست کے وہ حقوق جن پر سوال اٹھ رہا ہو۔ بہ الفاظ دیگر، فرد کے حقوق پر کوئی سوال ہی نہیں بنتا البتہ ان حقوقکے تحفظ کی غرض سے پیدا کیے جانے والے ذیلی ریاستی حقوق پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ اب ایک گروہ جو نسل در نسل ایکزمین پر آباد ہو، کے پاس ریاست سے رشتہ اسی صورت میں ٹوٹ سکتا ہے جب ریاست وہ مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہوجائےجس کا حل اس کی تخلیق تھی، یعنی زندگی، آزادی اور خوشیوں کا حصول۔ آپ اس کی جگہ اپنی مرضی کے بنیادی انسانی حقوق ڈالدیں تب بھی ریاست اگر ان حقوق کی فراہمی میں ناکام رہتی ہے تو اس کا جواز ویسے ہی ختم ہوجاتا ہے۔

اب ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ معلوم کرنا کہ فرد زندہ ہے یا نہیں بہت آسان ہے۔ تاہم آزادی اور دیگر بنیادی انسانی حقوق کاتعین بسا اوقات مشکل بن جاتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ فرد آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی دستیابی کا انکار کرتا ہے جبکہریاست دعوی کرتی ہے کہ یہ حقوق دستیاب ہیں۔ ایسے میں ریاست اگر متعلقہ فرد کی شکایت کا ازالہ نہ کر پائے تو کیا فرد اور فرد کےحقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ریاست کا رشتہ کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ اور جب یہ رشتہ ہی قائم نہیں رہتا تو ریاست کے پاس کیسے اختیاررہ سکتا ہے کہ فرد جس کے حقوق کی حفاظت اس کی بنیادی ترین ذمہ داری تھی، کو زندگی، آزادی، بنیادی حقوق میں سے کسی ایک یاتمام سے کیسے محروم کر سکتی ہے؟ اس رشتے کے عدم میں ریاست کو تفویض کردہ زمین کی ملکیت کیسے قائم رہ سکتی ہے؟

کسی بھی معاہدے میں معاہدہ ختم ہونے کی شرائط موجود ہونا لازمی ہوتا ہے۔ منافقت وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک ایسامعاہدہ جس کی بنیاد ہی فرد کے حقوق کا تحفظ ہے میں یا تو اس کے ختم ہونے کی شق ہی موجود نہیں ہوتی یا ہوتی بھی ہے تو فرد کےتمام حقوق ریاست غصب کر لیتی ہے۔ وہ زمین جو فرد کی خاندانی ملکیت تھی اور جسے عمرانی معاہدے کے تحت ریاست کے نامکیا گیا تھا، ریاست سے رشتہ ختم ہونے کے بعد کیسے ریاست کو دی جاسکتی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ حقوق دستیاب نہ ہونا بذات خود ایک ظلم ہے اور اس سے بڑا ظلم ریاست کا وہ جبر ہے جو وہ الٹا ایسا کرنےوالے پر طاقت کی زور پر کرتی ہے۔ ریاست سے رشتہ ختم کرتے ہوئے اپنے حقوق محفوظ رکھنے کا اور اسی زمین پر رہنے کا مناسبطریقہ میرے علم میں نہیں۔ آپ میں سے کسی کو معلوم ہو تو ضرور آگاہ کیجیے گا۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *