ایمان کا سائنسی اطلاق۔۔محمد شکیل طلعت

ایمان ۔۔۔ انسانی شعور کا کرشمہ ، غیر شعوری محرک اور حیران کن جسمانی ، وجدانی اور معاشرتی عوامل کا دلفریب مرکب ہے۔ ایمان کے بارے میں سبھی لوگوں نے اپنی اپنی تعریف بیان کی ہے ، انبیا نے اپنے دور کے رائج شدہ مذہبی، معاشی، معاشرتی، قبائلی عوامل اور ذاتی انڈرسٹینڈنگ کے مطابق، پنڈتوں نے اپنے گیان کے مطابق، مذہب کے پرچارک اور مذہبی لوگوں نے اپنے فائدے کے مطابق ، حکومتوں نے اپنی بقاء و سلامتی اور عام آدمی نے اپنی تسکینِ قلبی کے مطابق۔۔ یعنی ایمان ایک ایسا نفسیاتی محرک ہے جس کا کوئی بھی یونیورسل پرنسپل نہیں ہے۔ اُلٹا اس ایمان کی بار بار تجدید کرنی پڑتی ہے، کبھی ہَوا نے تجدید کی ہے ؟ دریا کی روانی نے کبھی review کیا ہے کہ اسے بھی تجدید کی ضرورت ہے؟ جو چیزیں قدرتی ہوتی ہیں انہیں کسی تجدید کی ضرورت نہیں ہوتی، ان کا موجود ہونا ہی ان کی جدت کی دلیل ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ہر انسان اپنی تجدید کے لئے دوبارہ پیدا ہوتا۔ اسے زندگی اور موت کے تکلیف دہ عوامل میں سے بار بار گزرنا پڑتا۔ اس کے باوجود ہر بار کوئی نہ کوئی  کمی رہ جاتی۔ یہی فلسفۂ حیات ہے۔ مصنوعی چیزوں کو purify کرنا پڑتا ہے اور انسان نے تو سب کچھ اپنی کم فہمی کی بنا پہ آلودہ کر لیا ہے۔ ایمان اور ایسی بیسیوں تراکیب کو عجیب عجیب منطقی بحثوں میں الجھا لیا ہے۔
کسی گرُو ، فلسفی، دیوتا یا خدا نے بھی اس کے ماخذ (source) کو ڈسکس نہیں کیا۔ نہ اس کی ٹھوس ، جامع اور سیدھے لفظوں میں تعریف کی ہے۔ اور پھر دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آسمانی صحیفوں میں بیان کردہ گول مول الفاظ کی مزید تشریح ہر کسی نے اپنے ڈھنگ سے کر دی ہے، اپنا عقیدہ، اپنا نظریہ ایسا گھولا ہے کہ جس کی چاشنی صرف اسی عقیدے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں جبکہ اس چاشنی کو دوسرے عقیدے والے بدعت کہتے ہیں۔ حالانکہ جس خدا کی جانب یہ سب منسوب ہے کیا وہ واضح اور دو ٹوک الفاظ میں ان سب چیزوں کا بہتر تذکرہ نہیں کر سکتا تھا؟ اس کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔


یاد رکھیے دنیا میں کسی بھی ہستی یا انقلاب کے دعویدار کسی رہنما نے بے لوث کچھ نہیں کیا، جتنے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انسانی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے عظیم کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ آپ آنکھیں کھول کے اور عقیدت کی عینک اتار کے دیکھیے کہ کم و بیش پانچ ہزار سال سے یہ سب لوگ دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں کہ انہوں نے انسانیت کو سنوارا۔ مگر ان کے اس سلجھاؤ کی شکل ملاحظہ کیجیے۔ معاشرے میں، اپنے اردگرد ،
اگر ان کی ریاضت کا یہ نتیجہ ہی نکلنا تھا جس کی موجودہ شکل آج کا معاشرہ ہے تو میں سمجھتا ہوں ان اوور ریٹڈ ہستیوں نے اپنی زندگی تو ضائع کرنی ہی تھی، ان معصوم لوگوں کی زندگیوں کو بھی جہنم بنا دیا۔ حالانکہ آج کا انسان ان تمام لیڈروں کی سوچ اور بساط سے بھی بڑھ کر ماڈرن ترین آسائشوں اور نعمتوں سے بھرپور زندگی گزار رہا ہے۔
اُن ہستیوں کو ان بیچارے لوگوں کی سوچوں کو آلودہ کر کے کیا ملا ؟ انہیں کیا ضرورت تھی مستقبل کے ٹھیکیدار بننے کی؟ زندگی اپنے تمام تر لوازمات کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے، جسے کسی بھی نظریئے، کسی بھی لیڈر کی قطعا ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر ان ٹھگوں کے ذہنوں میں کس نے ڈال دیا تھا کہ تم ہی کافی ہو ۔ آج ہی مستقبل کی ہزاروں نسلوں کے فیصلے کر کے موت کی وادی میں گم ہو جاؤ ۔
اور پھر ان کے پیروکار ان کے فرمودات کو اتنا سنجیدہ serious لے لیں گے، وہ تو انہوں نے کبھی گمان بھی نہ کیا ہوگا۔ ایسے انقلابیوں کے اپنےclear ٹارگٹس تھے، وقت نے ساتھ دیا تو وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہو گئے۔ ان کا پاکیزہ اور قابلِ عمل بُت بعد میں آنے والے پیشہ ور فنکاروں نے تراشا ہے ، پھر ان مداریوں نے اپنی حیثیت کے مطابق اس بُت میں اپنا تخیل بھی شامل کر دیا اور نفع بخش فوائد بھی۔
اب آجائیے واپس موضوع پر ۔ ایمان کو صرف دینی معاملات تک محدود مت کیجیے۔ Faith انسانی ذہن کا سب سے بنیادی ستون ہے۔ میں اسے Chief Chemist کہتا ہوں۔ باقی دو بنیادی محرکات بھی انسانی زندگی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جیسے Love اور Sex۔ ان میں Faith اور Love روحانی جبکہ Sex مکمل طور پر بائیولوجیکل ہے۔ ان تینوں عوامل نے انسانی شعور، فکری جہات اور موجودہ زندگی کو جدید ترین شکل عطا کی ہے۔ ابھی ہم صرف Faith کو ہی ڈسکس کرتے ہیں۔
کچھ عرصہ سے میرے ہی کچھ سوالات تھے جو میں ایمان کی جزئیات اور ہیئت کے متعلق سوچتا تھا۔ سب سے پہلے یہ کہ ایمان کی شکل کیا ہے؟ کوئی ٹھوس حالت ہے، مائع ہے یا انرجی کی ہی ایک شکل ہے؟ یہ پیدا کیسے ہوتا ہے؟ کیا اسے منتقل کیا جاسکتا ہے؟ ظاہری ایمان اور ایمان بالغیب میں کیا فرق ہے؟ پھر اس کے ماپنے کا پیمانہ کیا ہے؟ جب تک کسی چیز کا میکانزم نہیں وضع کیا جاسکتا، اس کا پیمانہ کیسے وضع کیا جائے گا؟ سائنس کہتی ہے ایک انسان دن میں اوسطاً 70 ہزار خیالات سوچتا ہے، ان میں سے ایمانی کتنے ہوں گے؟ اس ایمانی خیال کا دورانیہ کتنا ہوگا؟ شدت کتنی ہوگی؟ اس کی purity یا frequency کیا ہوگی؟
اب لمحاتی جذبات یا ایمانی سوچ کو ماپنے کا پیمانہ کون لے کر بیٹھا ہوا ہے ، جو سیکنڈ، نینو سیکنڈز اور چند ساعتوں پر محیط اس لمحاتی تجلی کو جانچے گا؟ اور سارے دن کی مصروفیت میں کس وضع کردہ نظام کے تحت وہ سوچنے والے کی ایمانی حالت کو measure کرے گا ؟ پھر اس measurement کو کس نظام کے تحت پرکھے گا اور پرچے کے نمبر لگائے گا؟ اور پھر نتیجہ بھی روزِ حشر آئے گا کہ آپ اتنے نمبروں سے پاس یا فیل ہوئے۔
مگر اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ اربوں سال پر محیط اس رواں دواں کائنات اور مذہبی دعویٰ کے پیش نظر کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے سے موجود رَب اور پھر آپ کے اس دنیا سے کُوچ کرنے کے بعد بھی موجود رَب کو کیا فرق پڑے گا؟ وہ تو ایک طرف یہ بھی کہتا ہے ’’الصمد‘‘ ۔۔۔ اگر اسے فرق پڑتا ہے تو کس base پہ ؟ اور کیوں ؟ پھر موجودہ 7 ارب انسانی آبادی میں آپ ہی اتنے important ہیں کہ وہ آپ کو اتنا باریک بینی سے دیکھ رہا ہے، حالانکہ اربوں دوسری مخلوقات اور invisible elements مزید ہیں جن کو مینج کرنا بھی خدا کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔ وہی جس کے بارے میں اقبال نےکہا تھا۔
خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے
خداوندا! خدائی دردِ سر ہے
و لیکن بندگی، استغفراللہ!
یہ دردِ سر نہیں، دردِ جگر ہے
یعنی اگر کسی شخص نے ایمان سے بھرپور ایک خیال سوچا وہ کتنا طویل تھا، کتنا خالص تھا ، اور ایسا خیال 24 گھنٹوں میں کتنی بار سوچا اور کتنے فیصد دن کا کتنے فیصد حصہ ایمان میں گزارا؟ پھر زندگی کی تشکیل میں یہ ایمانی حالت کتنی کارفرما ہوگی؟ اور اس کا اطلاق نیکی یا بدی کے علاوہ کرداری وصف یا معاشرے پر کتنا ہوگا؟ پھر سب سے بڑی قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس کا incentive کیا ہوگا ؟ یہ سب کرنے کا objective کیا ہوگا ؟ یعنی کس جذبے، ضرورت یا وجہ کے سبب آپ اس ایمانی حالت میں رہتے ہیں؟
مذہب یا ایمان کی مذہبی تعریف میں یوں کرتا ہوں کہ یہ انسان اور معاشرے کا پیراسائیٹ ہے جسے جیتے جاگتے انسان چاہیئں، محدود سوچ کے حامل، تاکہ مفادات کا دائمی کاروبار چلتا رہے۔ مقدس ہستیوں نے کچھ بھی کھول کے بیان نہیں کیا تاکہ ان کا سکہ چلتا رہے اور ان کے جانشین بالادست رہیں۔ سوچیے، اس کائنات میں انسان کے علاوہ کون ہے جسے ایمان کی، حتیٰ کہ خدا کی سمجھ بوجھ بھی ہے؟ آپ مذہبی رسومات میں سے پیسے کا عمل دخل ختم کر دیجیے، یاانسان کو اچھی تعلیم ، بہتر روزگار ، پُرسکون لائف سٹائل فراہم کردیجیے سب کچھ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ سب نظریات وقت کی گرد تلے دفن ہو جائیں گے۔ معاشی طور پر مستحکم ملکوں میں کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا وہاں خدا اور مذہبی، ایمانی نظریات کمزور نہیں ہیں؟ اور کمزور ملکوں کے باشندے ، مغربی متمول نظامِ زندگی کو کافرانہ اور آخرت کے دھتکارے کہہ کر اپنے آپ کو طفل تسلی نہیں دیتے؟ اور اپنی گھٹیا زندگی کو خدا کی منشا کہہ کر مغرب سے نفرت کا جواز نہیں گھڑتے؟ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ زندگی کو بہتر کرنا چاہیے اور یہ انسانی فطری جبلت ہے، مگر انسان نے شعوری طور پر اس سربلندی کے آگے فصیلیں کھڑی کی ہیں۔ قدرتی طور پر انسان اپنی زندگی کو enrich کرنا چاہتا ہے مگر دماغ کی غلط programming کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہے۔
لاشعوری طور پر ہر کوئی عمدہ زندگی کو idealize کرتا ہے، مگر معاشرتی دباؤ اور فنانشل کنڈنشنگ کی وجہ سے قناعت پسندی کا نام دے کر اپنے دماغ کو منفی command لگا دی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتا ہوں، سوچ بدلو ۔۔۔ منظر بدل جائے گا ! خدا آپ کو تنگی میں دیکھ کر ہرگز خوش نہیں ہوتا، یہ فلسفہ کسی زیست دشمن کا گھڑا ہوا ہے جس کی بدولت وہ آدمی تو آپ کی زندگی میں موجود ہے، آپ پوری طرح زندگی میں موجود نہیں ہیں۔ اس گُھس بیٹھیے کو دفع دُور کیجیے۔ زندگی کی نعمت سے لطف اندوز ہوئے بغیر اس جہان سے چلے جانا رائیگاں ہونے کے مترادف ہے۔
سائنسی اعتبار سے Faith کسی بھی سوچ یا خیال کی تکرار کا نام ہے۔ اسے آپ چاہے خدا پہ فٹ کرلیں، چاہے کسی بُت پر، چاہے ہنر پر، چاہے دولت پر۔ آپ کی طلب کے عین مطابق رَسد موجود ہے۔ یعنی Supply is equal to demand
آپ جس خیال کی  تکرار کریں گے، ذہن کے قدرتی میکانزم کی بدولت اسی میں مزید طاق ہوں گے۔ Faith کو اپنے ٹیلنٹ کو نکھارنے، اپنے خوف پر غلبہ پانے، کامیاب بننے پر صَرف کیجیے۔ یہ ایک ایسا ٹول ہے جس کی ذرا سی مشق آپ کو اس فیلڈ کا بہترین کھلاڑی بنا دے گی اور زندگی میں کسی بھی شے کا حصول سہل ترین اور ممکنات کا جہاں لے کر طلوع ہوگا۔ آزمائش شرط ہے ۔
ہماری سوچ بالکل درخت کی جڑوں جیسی ہے، جیسے ایک جڑ کی آگے برانچز پھر مزید برانچز اور پھر ایک پورا جال۔ ایسے ہی ایک خیال آپ نے سوچا پھر اس خیال جیسے ہزاروں خیالات کا سلسلہ شروع ہو گیا، ایک دم کسی خوشبو نے اپنے حصار میں لے لیا اور آپ کو معلوم ہی نہیں پڑا کہ کب بچپن کی داستان شروع ہوگئی پھر جس جس مقام پہ وہ خوشبو آپ کو لے گئی آپ نابینا بھکاری کی طرح آگے چلنے والے کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر چلتے گئے اور پھر کتنے گھنٹے بعد واپس اس جگہ آئے جہاں سے خیال چلا تھا۔ جس خیال کو آپ بار بار سوچیں گے، وہی خیال آپ کی زندگی کو شکل عطا کرے گا۔ دوست، حالات، مواقع سب انہی خیالات کی مجسم شکلیں ہیں۔
کسی چیز کے واضح مقصد کے بغیر آپ جو بھی کرتے ہیں اپنے وقت ، ٹیلنٹ اور انرجی کا ضیاع کرتے ہیں۔ اپنی توانائیوں کو بہتر کاموں پر صَرف کیجیے۔ زندگی کی قدر کیجیے، سب وہموں، غلط فہمیوں، بد گمانیوں اور خوف سے لا پرواہ ہو کر۔ بے فکری کائنات کا درخشاں اور پسندیدہ ترین امر ہے۔ کائنات میں کسی بھی عنصر کو کسی بھی دوسرے عنصر کی پرواہ نہیں ہے، کائنات لگے بندھے اصولوں پر چل رہی ہے۔ بادلوں کی طرح کیمیکل کمپوزیشنز بھی اپنی اشکال بدلتی رہتی ہیں اور زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ انسانی موڈ بھی کیمیکل ری ایکشنز کا مجموعہ ہے۔ کبھی ایمان کم اور کبھی زیادہ بھی اسی وجہ سے محسوس ہوتا ہے، بالکل بھوک ، گرمی و سردی کی شدت ، خوشی، غمی محسوس کرنے کی ability یا محبت کے جذبات میں تغیرات جیسا۔
کسی ایک عنصر کی بقا کسی دوسرے عنصر کے فنا ہوجانے میں پوشیدہ ہے۔ زندگی ہمارے اجداد سے ہوتی ہوئی، ہم میں سے ہماری اولاد کو منتقل ہوئی اور ایک infinity سے دوسری infinity میں تبدیل ہو گئی۔ کارواں چلتا رہے گا، سالار بدلتے رہیں گے۔
آپ اپنی رہبری کیجیے، زندگی کو اپنے مطابق بسر کیجیے، قدرت بھی یہی چاہتی ہے اور خدا بھی اسی میں راضی ہے ۔

شکیل طلعت
شکیل طلعت
سوچ کے کھڑے (ٹھہرے ہوئے) پانی میں کنکر مارنا میرا مشغلہ ھے اور کچھ نہیں تو اس کا ارتعاش اہلِ نظر اور بلند عزم کے حامل لوگوں تک ضرور جائے گا اور وہ ان پہلوؤں پر ضرور سوچنے پر مجبور ہوں گے جن کا تذکرہ لوگوں نے اپنی روزمرہ گفتگو میں ممنوع کر رکھا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *