فلم ریویو/بلوچی فلم ”بلوچ آباد“ پر تبصرہ۔۔عبدالحلیم

شانتُل فلم کے بینر تلے دَنز فلم اور جُنز آرٹ اکیڈمی گوادر کے تعاون سے ڈائریکٹر شاکر شاد کی فلم بلوچ آباد یو ٹیوب چینل پر ریلیز کر دی گئی ہے۔

یہ فلم صنفی امتیاز، حقوقِ نسواں اور بچیوں کی کم عمری میں کی جانے والی شادیوں کے جیسے موضوعات کو بنیاد بنا کر فلمائی گئی ہے۔

فلم دو بستیوں بلوچ آباد اور رسول آباد میں رہائش پذیر لوگوں کی جداگانہ سوچ کے گرد گھومتی ہے۔

فلم بلوچ آباد سخت مؤقف گیر رکھنے والی بااثر شخصیت میر تاجَل (سرفراز محمد) اور رسول آباد کی بااثرشخصیت میر سردُک (احسان دانش) کی واضح سوچ کی عکاس بھی ہے۔

میر تاجَل قبائلی رسم و رواج، دھاک اور فرسودہ روایات کے تابع نظر آتا ہے جو صنفی آزادی کے سخت خلاف ہے جب کہ میر سردُک روشن فکر سوچ کا مالک ہے۔

بلوچ آباد میں خواتین کی آزادی کو معیوب سمجھا جاتا ہے بالخصوص خواتین کی تعلیم اور صنفی آزادی کو نہ پنپنے دینے کی سوچ پوری آبادی کی مجموعی سوچ کی عکاس ہے جس میں میر تاجَل کا فیصلہ اٹل تصور کیا جاتا ہے۔

فلم کے اہم کردار جان بی بی (انتیہ جلیل) اور خدابخش سناٹا (اللہ بخش حلیب) بلوچ آباد کے رہائشی ہیں۔

جان بی بی، میر تاجَل کی اکلوتی اولاد ہے جب کہ خدابخش سناٹا بلوچ آباد کا تعلیم یافتہ سماجی نوجوان ہے جو بلوچ آباد میں صنفی امتیاز اور خواتین کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے حوالے سے مضطرب ہے۔ دوسری طرف جان بی بی بلوچ آباد کے پدرانہ نظام کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کرتی ہے۔

جان بی بی اور خدا بخش سناٹا مل کر قبائلی رسم و رواج کی فرسودہ روایات کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں جن کا مقصد خواتین کی تعلیم کا فروغ اور بچیوں کی کم عمری میں شادی کے حوالے سے شعور و آگاہی پھیلانا ہے۔

جان بی بی ریڈیو پر پروگرام کر کے حقوقِ نسواں کے مسائل اجا گر کرتی ہے جب کہ خدابخش سناٹا قبائلی معاشرے کی سخت گیر سوچ کے خلاف میر تاجَل سے نبرد آزما ہوتا ہے۔

میر تاجَل قبائلی رسم و رواج اور اپنی انا کے آگے اس قدر مجبور ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو گھر سے بے دخل کر دیتا ہے جب کہ خدابخش سناٹا کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود جان بی بی اور خدابخش سناٹا اپنے مؤقف سے دست بردار نہیں ہوتے۔

یہ دونوں خواتین کی تعلیم پر قدغن لگانے اور بچیوں کی کم عمری میں شادی رکوانے کے لیے ثابت قدمی کے ساتھ کوشاں رہتے ہیں۔

فلم میں بلوچ آباد کی ایک نازُل نامی خاتون کی شادی کم عمری میں سندھ کے گاؤں تھر سے تعلق رکھنے والے شخص سے کیے جانے کا سین بھی دکھایا جاتا ہے۔

شادی کے چالیس بعد بھی نازل اپنے میکے کا دیدار نہیں کر سکی، جس پر ان کے والد پہ ندامت طاری ہوتی ہے اور اپنی اس غلطی کا احساس ہونے کے بعد وہ اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے۔

گھر سے نکالے جانے کے باوجود جان بی بی حقوقِ نسواں کے لیے سرگرم دکھائی دیتی ہے اور خدابخش سناٹا جان بی بی کا عزم اور حوصلے سے ساتھ دیتا ہے۔

جان بی بی اور خدابخش سناٹا کی کوششوں سے نازل چالیس سال کے طویل عرصہ کے بعد اپنے والد کا دیدار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

جب جان بی بی اور خدا بخش سناٹا نازل کو لے کر بستی لوٹتے ہیں تو ان کا بستی والے شاندار استقبال کرتے ہیں۔ اس موقع پر میر تاجَل اپنی بیٹی جان بی بی اور خدابخش سناٹا کے ساتھ روا رکھنے والے سلوک پر ندامت کا اظہار کرتا ہے.

فلم کے اختتامی سین میں میر تاجَل بستی میں صنفی امتیاز کے خاتمہ کے لیے لڑکیوں کے لیے اسکول کھولنے کی اجازت دیتا ہے۔

فلم میں بادی النظر میں معاشرے میں حقوقِ نسواں کے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اکیسویں صدی کے دور میں بھی پدرانہ نظام اور قبائلی رسم و رواج کے زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے۔

کم عمری کی شادی جو قانوناً جرم بھی ہے، یہ من الحیث المجوعی معاشرے کی روایت بن گئی ہے اور پاکستان دنیا میں کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے چھٹے نمبر پر ہے۔ کم عمری کی شادی بچیوں کو دورانِ زچگی پیچیدہ امراض کا شکار بنا دیتی ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔

فلم کے ڈائریکٹر نے ان موضوعات کو بنیاد بنا کر حقوقِ نسواں، صنفی امتیاز کے خاتمے اور فرسودہ رسم و رواج منفی اثرات کے حوالے سے ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے، جو اچھی کاوش ہے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *