فکری اختلاف اور محرم۔حسیب حیات

بھلا ہو کریم جی کا جس نے ہم بے کاروں کو بھی کار جہاں میں ناکامی کے لگتے ٹھپے سے بچا لیا. اب تک کا میرا کریم کا تجربہ ہر لحاظ سے قابل تعریف رہا ہے. کل ہی کی سن لیجئے. ہم نے کریم کو آواز دی اور وہ تم نے پکارا اور ہم چلے آئے گاتی پانچ منٹ میں ہمیں لینے آپہنچی . ہنستا مسکراتا ہوا معصوم،باریش چہرے کا ہم سے تعارف ہوا.ا نہوں نے ہماری  سمجھ میں نا آنے والے نام بارے سوال کیا. ہم نے مسکرا کر جواب روئی کے گولے سا گول مٹول کیا اور یوں ایک اچھے سفر کا آغاز ہوا. سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھی. نو محرم کا دن تھا عاشورہ کا جلوس اس دن اسلاما آباد سے نکلتا ہے جس کے باعث جی سکس سےملحقہ چند سڑکوں پر ٹریفک کا داخلہ ممنوع قرار دیا جاتاہے. مجھے ساتھ بٹھائے اپنا ہمسفر بنانے والے دوست اسی بندش پر نالاں تھے ، وہ ایک دن میں اربوں کے کاروباری نقصان پر کڑہتے ہوئے وہ بار بار توبہ استغفار پڑھتے۔ میں نے ان کی لمبی تقریر بنا ٹو کے سنی اور اس کے بعد گویا ہوا.۔۔

میرے دوست اپنا دل بڑا کیجئے صبر سے وقت گزاریے. جو روایات کئی صدیوِں سے جڑ پکڑ چکی ہیں انہیں وسیع القلبی سے قبول کرنے اور باہمی طور پر یگا نگت کو پروان چڑھانے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے. اس کے بعد خاموشی سی چھاگئی. کچھ دیر بعد میرے ساتھی نے سوال کیا آپ کا تعلق اہل تشیع سے تو نہیں؟ میں نے مسکرا کر جواب دیا جی آپ نے بالکل درست فرمایا میرا تعلق اہل تشیع سے بنتا ہے کیونکہ جیسے آپ میرے بھائی ہیں بالکل ویسے ہی ان سے میری بھائی بندی ہے. تب جاکر ہمارا مکامہ ایک قدم آگے بڑھا. اصل میں مجھے ان سے شدید اختلاف یہی ایک ہے کہ وہ ہمارے صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں، ساتھی کی اس بات کا میرے لیے جواب دینا مشکل ہوگیا. میں بس اتنا ہی کہہ  سکا ” یہ جو. نفرت تعصب کی جوڑی ضد پیدا کرتی ہے. وہ کالے جادو کا سا اثر رکھتی ہے، جس کا توڑ صرف اور صرف صبر برداشت اور محبت بھرے کلمات کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا .

تاریخی واقعات پر اختلاف ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور انہی اختلافات کی بنیاد پر اپنی الگ رائے ، سوچ ،فکر، یا پھر انہی بنیادوں پر  اپنا نظریہ بنا لینا ہر گز غلط نہیں ہے. سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس خطے میں جو ان تمام فکری اختلافات کے باوجود رواداری ہمیشہ سے پروان چڑھی ہے وہاں پچھلی تین دہائیوں میں وہ کون سے عناصر تھے جنہوں نے نفرت کی غیر فطری لال آندھیاں چلوائیں؟۔۔۔۔۔میرے خیال میں بہت کچھ سوچنے اور نئے زمانے کے مدنظر فکرکو نئی جہت دینے کی ضرورت ہے. ہمارے ہاں غم اور خوشی دونوں ہی بزنس بن چکے ہیں . کوشش کی جاسکتی ہے کہ سڑکوں کی بندش کے عمل کو کچھ حد تک کم کرنا چاہیے کم از کم چالیسویں کے معاملے میں تو اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے. یہ سب ممکن ہے مگر پہلی اور آ خری بات یاد رکھنے کی یہ کہ ہم ایک ہی خدا اور اس کےرسول کو  آخری رسول ماننے والی ایک امت ہیں.

Avatar
حسیب حیات
ایک پرائیویٹ بنک میں ملازم ہوں اسلام آباد میں رہائش رکھے ہوئے ہوں اور قلم اُٹھانے پر شوق کھینچ لاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *